🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

99. ذِكْرُ السَّفَّاحِ وَالْمُنْذِرِ وَالْمَنْصُورِ
سفاح، منذر اور منصور (نامی حکمرانوں) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8781
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه إملاءً ببغداد، قال: قُرئَ على يحيى بن جعفر (3) بن الزِّبرِقان وأنا أسمعُ، حدثنا خَلَف بن تَميم أبو عبد الرحمن الكوفي، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم بن المهاجِر، عن أبيه، عن مجاهد قال: قال لي عبد الله بن عباس: لو لم أسمَعْ (4) أنك مثلُ أهل البيت ما حدَّثتُك بهذا الحديث، قال: فقال مجاهد: فإنه في سِتْر لا أذكرُه لمن تَكرَه، قال: فقال ابن عباس: منَّا أهلَ البيت أربعةٌ: منّا السَّفّاح، ومنّا المُنذِر، ومنّا المنصور، ومنّا المَهْدي، قال: فقال له مجاهد: فبيِّنْ لي هؤلاءِ الأربعةَ، فقال: أما السَّفّاحُ فربما قَتَل أنصارَه وعَفَا عن عدوِّه، وأما المنذِر قال: فإنه يُعطي المالَ الكثير لا يَتعاظمُ في نفسه، ويُمسِك القليلَ من حقِّه، وأما المنصور فإنه يُعطَى النَّصرَ على عدوّه الشَّطرَ مما كان يُعطَى رسولُ الله ﷺ، يُرعَب منه عدوُّه على مَسِيرة شهرين، والمنصور يُرعَب عدوُّه منه على مَسِيرة شهر، وأما المَهْديُّ الذي يملأُ الأرضَ عدلًا كما مُلِئَت جَوْرًا، وتَأمَنُ البهائمُ السَّباعَ، وتُلقي الأرضُ أفلاذَ كَبِدِها قال: قلت: وما أفلاذُ كبدِها؟ قال: أمثالُ الأُسطوانة من الذهب والفضة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8568 - أين منه الصحة وإسماعيل مجمع على ضعفه وأبوه ليس بذاك
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں نے یہ نہ سنا ہوتا کہ تم ہمارے اہل بیت کی طرح ہو تو میں تمہیں یہ حدیث بیان نہ کرتا۔ مجاہد نے کہا: یہ بات راز میں رہے گی، میں اسے کسی ایسے شخص کو نہیں بتاؤں گا جسے آپ ناپسند کرتے ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم اہل بیت میں سے چار (خاص شخصیات) ہوں گی: ہم میں سے سفاح، ہم میں سے منذر، ہم میں سے منصور اور ہم میں سے مہدی ہوں گے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا: میرے لیے ان چاروں کی وضاحت فرمائیں۔ انہوں نے فرمایا: رہا سفاح، تو بسا اوقات وہ اپنے مددگاروں کو قتل کر دے گا اور اپنے دشمن کو معاف کر دے گا۔ اور رہا منذر، تو وہ اس قدر کثیر مال دے گا کہ اسے اپنے دل میں کچھ بڑا نہیں سمجھے گا، اور اپنے حق میں سے معمولی سا حصہ روکے گا۔ اور رہا منصور، تو اسے اپنے دشمن پر اس قدر غلبہ اور نصرت عطا کی جائے گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی نصرت کا نصف ہو گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن پر دو ماہ کی مسافت سے رعب طاری کر دیا جاتا تھا، جبکہ منصور کے دشمن پر ایک ماہ کی مسافت سے رعب طاری کیا جائے گا۔ اور رہے مہدی، تو وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہو گی، چرندے درندوں سے محفوظ ہو جائیں گے، اور زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی۔ مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اس کے جگر کے ٹکڑوں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: سونے اور چاندی کے ستونوں کی مانند (خزانے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8781]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، إسماعيل بن إبراهيم بن المهاجر الجمهور على تضعيفه، ويأتي بعجائب ومناكير، وأبوه ليِّن الحفظ» [ترقيم الرساله 8781] [ترقيم الشركة 8671] [ترقيم العلميه 8568]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8782
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن نافع بن سَرجِسَ، عن أبي هريرة قال: قال النبي ﷺ:"غَشِيَتكم الفتنُ كَقِطَع الليل المُظلِم، أَنجى الناس فيها رجلٌ صاحبُ شاهقةٍ يأكل من رِسْلِ غنمِه، أو رجلٌ آخدٌ بعِنَان فرسِه من وراءِ الدُّروب يأكل من سيفِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8569 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے، ان (فتنوں کے دور) میں لوگوں میں سب سے زیادہ محفوظ وہ شخص ہوگا جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر مقیم ہو اور اپنی بکریوں کا دودھ پی کر گزارا کرے، یا وہ شخص جو سرحدوں کے پیچھے اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہو اور اپنی تلوار کی کمائی سے کھائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8782]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كما سلف بيانه برقم (2491) زائدة: هو ابن قُدامة» [ترقيم الرساله 8782] [ترقيم الشركة 8672] [ترقيم العلميه 8569]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں