المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
98. يَأْتِي زَمَانٌ تُمْطِرُ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ
ایسا زمانہ آئے گا کہ آسمان سے بارش تو ہوگی مگر زمین سے نباتات نہیں اگیں گی
حدیث نمبر: 8779
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن رجاءٍ، حدثنا هَمَّام، حدثنا قَتَادة، ابن بُرَيدة، عن أبي سَبْرة الهُذَلي قال: لَقِيتُ عبدَ الله بن عمرو، فحدَّثني حديثًا عن النبي ﷺ، ففهِمتُه وكتبتُه بيدي: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما حدَّثَ عبدُ الله بن عمرو عن محمدٍ رسول الله ﷺ، قال:"إنَّ الله لا يحبُّ الفاحشَ ولا المتفحِّشَ". ثم قال:"والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا تقومُ الساعةُ حتى يَظهرَ الفُحْشُ والتفحُّشُ، وسوءُ الجِوار، وقَطيعةُ الأرحام، وحتى يُخوَّنَ الأمينُ ويُؤتَمنَ الخائن". ثم قال:"إنما مَثلُ المؤمن كمَثلِ النَّحلة، وَقَعَت فأَكَلَت طيِّبًا، ثم سَقَطَت ولم تُفسِدْ ولم تَكسِرُ، ومَثلُ المؤمن كمَثلِ القِطْعة [من] الذهب الأحمر أُدخِلَت النارَ فنُفِخَ عليها، فلم تَغيَّرْ، ووُزِنَت فلم تَنقُصْ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8566 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8566 - صحيح
ابوسبرہ ہزلی فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنائی، میں نے اس کو سمجھا اور اپنے ہاتھ سے اس کو یوں لکھا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ وہ حدیث ہے جو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مجھے سنائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ بے حیاء کو پسند نہیں کرتا۔ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، قیامت سے پہلے فحاشی عام ہو جائے گی، پڑوسی برے ہوں گے، قطع رحمی ہو گی، امین کو خائن اور خائن کو امین قرار دیا جائے گا۔ پھر فرمایا: مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے، جس سے کھجوریں گرتی ہیں تو وہ صاف ستھری کھجوریں کھاتا ہے، وہ پھر گرتی ہیں، لیکن نہ وہ خراب ہوتی ہیں، نہ ٹوٹتی ہیں، اور مومن کی مثال اس سرخ سونے کی سی ہے، جس کو آگ میں ڈال کر پھونکیں ماری جائیں، لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہ آئے اور نہ اس کا وزن کم ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8779]