المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
99. ذكر السفاح والمنذر والمنصور
سفاح، منذر اور منصور (نامی حکمرانوں) کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8781
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه إملاءً ببغداد، قال: قُرئَ على يحيى بن جعفر (3) بن الزِّبرِقان وأنا أسمعُ، حدثنا خَلَف بن تَميم أبو عبد الرحمن الكوفي، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم بن المهاجِر، عن أبيه، عن مجاهد قال: قال لي عبد الله بن عباس: لو لم أسمَعْ (4) أنك مثلُ أهل البيت ما حدَّثتُك بهذا الحديث، قال: فقال مجاهد: فإنه في سِتْر لا أذكرُه لمن تَكرَه، قال: فقال ابن عباس: منَّا أهلَ البيت أربعةٌ: منّا السَّفّاح، ومنّا المُنذِر، ومنّا المنصور، ومنّا المَهْدي، قال: فقال له مجاهد: فبيِّنْ لي هؤلاءِ الأربعةَ، فقال: أما السَّفّاحُ فربما قَتَل أنصارَه وعَفَا عن عدوِّه، وأما المنذِر قال: فإنه يُعطي المالَ الكثير لا يَتعاظمُ في نفسه، ويُمسِك القليلَ من حقِّه، وأما المنصور فإنه يُعطَى النَّصرَ على عدوّه الشَّطرَ مما كان يُعطَى رسولُ الله ﷺ، يُرعَب منه عدوُّه على مَسِيرة شهرين، والمنصور يُرعَب عدوُّه منه على مَسِيرة شهر، وأما المَهْديُّ الذي يملأُ الأرضَ عدلًا كما مُلِئَت جَوْرًا، وتَأمَنُ البهائمُ السَّباعَ، وتُلقي الأرضُ أفلاذَ كَبِدِها قال: قلت: وما أفلاذُ كبدِها؟ قال: أمثالُ الأُسطوانة من الذهب والفضة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8568 - أين منه الصحة وإسماعيل مجمع على ضعفه وأبوه ليس بذاك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8568 - أين منه الصحة وإسماعيل مجمع على ضعفه وأبوه ليس بذاك
مجاہد کہتے ہیں: مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر میں نے یہ نہ سن رکھا ہوتا کہ تم اہل بیت ہی کی طرح ہو تو میں یہ حدیث تمہیں نہ سناتا۔ مجاہد نے کہا: یہ بات صیغہ راز میں رہے گی، میں یہ بات ایسے کسی شخص کو نہیں بتاؤں گا، جس کو بتانا آپ کو پسند نہ ہو۔ تب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چار آدمی ایسے ہیں جو ہم اہل بیت میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ سفاح، ہم میں سے ہے، منذر ہم میں سے ہے، منصور ہم میں سے ہے، اور مہدی ہم میں سے ہے۔ مجاہد نے کہا: آپ ان چاروں کی تفصیل بھی بیان فرما دیجئے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سفاح کو اس کے ساتھی قتل کریں گے، اور وہ اپنے دشمن کو معاف بھی کر دیں گے، اور منذر بہت مال و دولت والا ہو گا، لیکن وہ خود کو بڑا نہیں سمجھے گا اور اپنا چھوٹے سے چھوٹا حق بھی نہیں چھوڑے گا، اور منصور کا دشمن ایک مہینے کی مسافت سے ہی اس سے ڈر رہا ہو گا، اور مہدی وہ ہو گا جو روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ اس سے پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی، اور جانور اور درندے سبھی پرامن ہوں گے، اور زمین اپنے جگر کے ستون باہر پھینک دے گی، میں نے پوچھا: اس کے جگر کے ستونوں کا کیا مطلب؟ آپ نے فرمایا: سونے اور چاندی کے ستون اگل دے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8781]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8781 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حفص، والتصويب من "إتحاف المهرة" (8868). وهو المشهور بيحيى بن أبي طالب، وقد تكرر عند المصنف كثيرًا.
📝 تحقیقِ متن و نام: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حفص" بن گیا ہے، اس کی درستی "اتحاف المہرۃ" (8868) سے کی گئی ہے۔ وہ "یحییٰ بن ابی طالب" کے نام سے مشہور ہیں اور مصنف کے ہاں کثرت سے ان کا ذکر آتا ہے۔
(4) كذا في نسخنا الخطية، وفي "تلخيص المستدرك" للذهبي: لو لم أر، وهو كذلك في كتاب "عقد الدرر في أخبار المنتظر" لمؤلفه يوسف بن يحيى المقدسي المتوفى سنة 658 هـ، وهو أوجهُ.
📝 تحقیقِ متن: ہمارے قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ ذہبی کی "تلخیص المستدرک" میں "لو لم أر" ہے، اسی طرح یوسف بن یحییٰ مقدسی (متوفی 658ھ) کی کتاب "عقد الدرر في أخبار المنتظر" میں بھی ہے، اور یہی زیادہ موزوں ہے۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا، إسماعيل بن إبراهيم بن المهاجر الجمهور على تضعيفه، ويأتي بعجائب ومناكير، وأبوه ليِّن الحفظ. وقال الذهبي في "تلخيصه" متعقبًا تصحيح الحاكم له: أين منه الصحة وإسماعيل مجمع على ضعفه، وأبوه ليس بذاك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے، وہ عجائب اور منکر روایات لاتے ہیں، اور ان کے والد کا حافظہ کمزور (لین الحفظ) تھا۔ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں حاکم کی جانب سے اس کی تصحیح پر تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: "اس میں صحت کہاں سے آئی جبکہ اسماعیل کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے اور اس کا باپ بھی اتنا قوی نہیں؟"
وهذا الخبر تفرَّد المصنف بإخراجه بهذا السياق وهذا الإسناد.
🔍 فنی نکتہ: اس خبر کو اس سیاق اور اس سند کے ساتھ تخریج کرنے میں مصنف (حاکم) متفرد ہیں۔
وروي من وجه آخر عن ابن عباس أنه قال: منا ثلاثة: منا السفاح ومنا المنصور ومنا المهدي. أخرجه عبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" برقم (1891) من طريق المنهال بن عمرو بن سعيد بن جبير، عنه. وانظر تفصيل تخريجه هناك بتحقيق الدكتور وصي الله عباس.
🧩 متابعات و شواہد: یہ روایت ایک دوسرے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "ہم میں سے تین شخصیات ہیں: ہم میں سے سفاح، ہم میں سے منصور اور ہم میں سے مہدی ہیں۔" اسے عبداللہ بن احمد نے "فضائل الصحابہ" (نمبر 1891) میں منہال بن عمرو بن سعید بن جبیر کے طریق سے، ان سے (ابن عباس سے) تخریج کیا ہے۔ 📝 نوٹ: اس کی تخریج کی تفصیل وہاں ڈاکٹر وصی اللہ عباس کی تحقیق کے ساتھ ملاحظہ کریں۔