🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

115. فِتْنَةُ الْجَارِفَةِ تَأْتِي عَلَى صَرِيحِ الْعَرَبِ وَالْمَوَالِي
فتنۂ جارفہ (جڑ سے اکھاڑنے والا فتنہ) خالص عربوں اور موالی (آزاد کردہ غلاموں) سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8825
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزَّاز، حدثنا عُمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدثنا جَهضَم بن عبد الله القَيْسي، عن عبد الأعلى ابن عامر، عن مُطرِّف بن عبد الله بن الشِّخّير، عن ابن عمر قال: كنت في الحَطِيم مع حُذَيفة، فذكر حديثًا، ثم قال:"لَتُنقضَنَّ عُرَى الإسلام عُروةً عُروةً، وليكونَنَّ أئمةٌ مُضِلُّون، ولَيَخرُجَنَّ على أثر ذلك الدَّجّالون الثلاثةُ". قلت: يا أبا عبد الله، قد سمعتَ هذا الذي تقول من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، سمعتُه. وسمعتُه يقول:"يخرجُ الدَّجالُ من يهوديَّةِ أصبهانَ، عينُه اليمنى ممسوخة والأُخرى كأنها زَهْرَةٌ تشقُّ الشمس شقًّا، ويتناول الطيرَ من الجوِّ، له ثلاثُ صَيحاتٍ يسمعهنَّ أهلُ المشرِق وأهلُ المغرِب، ومعه جَبَلانِ: جبلٌ من دُخانٍ ونارٍ، وجبلٌ من شجرٍ، وأنهار، ويقول: هذه الجنّة وهذه النار". وسمعتُه يقول:"يخرجُ من قَبلِهِ كذَّابٌ". قال: قلت: فما الثالث؟ قال: إنه أكذبُ الكذَّابين، إنه يخرج من قِبَل المشرق، يَتبَعُه خُشَارةُ العرب وسَفِلةُ المَوالي، أوَّلُهم منصور وآخرُهم مَثْبور، هلاكُهم على قَدْر سلطانهم، عليهم اللعنةُ الله دائمةً. قال: فقلت: العجبُ كلُّ العجبِ! قال: وأعجبُ من ذلك سيكون، فإذا سمعتَ به فالهربَ الهربَ، قال: قلت: كيف أصنعُ بمن خلَّفتُ؟ قال: مُرْهم فليَلحَقوا برؤوس الجبال، قال: قلت: فإن لم يُترَكوا وذلك؟ قال: مُرْهم أن يكونوا أحلاسًا من أحلاسِ بيوتِهم، قال: قلت: فإن لم يُترَكوا وذلك، قال: يا ابنَ عمر، زمانُ خوفٍ وهَرْجٍ وسَلْبٍ، قال: فقلت: يا أبا عبد الله، ما لهذا الهَرْج من فَرَج؟ قال: بلى، إنه ليس من هَرْج إلَّا وله فَرَجٌ، ولكن أين ما يبقى لها، إنها فتنةٌ يقال لها: الحارقة (1) ، تأتي على صَرِيح العرب وصَريح الموالي وذوي الكُنوز وبقيَّةِ الناس، ثم تَنجَلي عن أقلَّ من القليل (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8611 - بل منكر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں حطیم میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، انہوں نے ایک حدیث بیان کی اور پھر فرمایا: اسلام کی کڑیاں ایک ایک کر کے ٹوٹ جائیں گی، اور گمراہ کن ائمہ (حکمران) پیدا ہوں گے، اور اس کے بعد تین دجال نکلیں گے۔ میں نے پوچھا: اے ابو عبداللہ! کیا آپ نے یہ سب جو آپ فرما رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے سنا ہے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: دجال اصفہان کے یہودی محلے سے نکلے گا، اس کی دائیں آنکھ ممسوخ (بے نور) ہوگی اور دوسری آنکھ اس چمکتے ستارے کی مانند ہوگی جو سورج کی روشنی کو چیرتا ہوا محسوس ہو، وہ فضا سے پرندوں کو پکڑ لے گا، وہ تین ایسی چنگھاڑیں مارے گا جنہیں اہل مشرق اور اہل مغرب (سب) سنیں گے، اس کے ساتھ دو پہاڑ ہوں گے: ایک دھویں اور آگ کا پہاڑ اور دوسرا درختوں اور نہروں کا پہاڑ، وہ (دھوکا دینے کے لیے) کہے گا: یہ جنت ہے اور یہ جہنم ہے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اس (دجال) سے پہلے ایک کذاب (بڑا جھوٹا) نکلے گا۔ میں نے پوچھا: تو پھر تیسرا کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ کذابوں میں سب سے بڑا جھوٹا ہے، وہ مشرق کی جانب سے نکلے گا، عرب کا کوڑا کرکٹ (گھٹیا لوگ) اور عجمیوں کے نچلے درجے کے لوگ اس کی پیروی کریں گے، ان میں سے پہلا منصور (ظاہری فتح پانے والا) اور آخری مثبور (ہلاک ہونے والا) ہوگا، ان کی ہلاکت ان کی حکومت کی طاقت کے برابر ہوگی، ان پر اللہ کی دائمی لعنت ہو۔ میں نے عرض کیا: یہ تو نہایت ہی عجیب بات ہے! انہوں نے فرمایا: اس سے بھی زیادہ عجیب باتیں ہوں گی، پس جب تم اس (فتنے) کے بارے میں سنو تو بھاگنا، خوب بھاگنا۔ میں نے عرض کیا: میں اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے کیا کروں؟ انہوں نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے جا ملیں (وہاں پناہ لیں)۔ میں نے پوچھا: اگر انہیں ایسا نہ کرنے دیا جائے تو؟ فرمایا: انہیں حکم دو کہ وہ اپنے گھروں کے ٹاٹ (احلاس) بن جائیں (یعنی گھروں تک محدود رہیں)۔ میں نے عرض کیا: اگر اس کی بھی اجازت نہ دی جائے؟ انہوں نے فرمایا: اے ابن عمر! وہ ایسا زمانہ ہوگا جو خوف، قتل و غارت اور لوٹ مار سے بھرا ہوگا۔ میں نے عرض کیا: اے ابو عبداللہ! کیا اس قتل و غارت سے نجات کی کوئی راہ ہوگی؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر قتل و غارت کے بعد کشادگی ہوتی ہے، لیکن اس وقت بچنے والے کہاں رہ جائیں گے، وہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جسے الحارقہ (بھسم کر دینے والی آگ) کہا جائے گا، وہ اصلی عربوں، خالص عجمیوں، خزانے والوں اور باقی ماندہ سبھی لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، پھر وہ فتنہ اس حال میں ختم ہوگا کہ بہت ہی کم لوگ باقی بچیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8825]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة، واستنكره الذهبي في "تلخيصه"، فعبد الأعلى بن عامر» [ترقيم الرساله 8825] [ترقيم الشركة 8714] [ترقيم العلميه 8611]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرّة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں