المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
116. ذِكْرُ الْعَلَامَاتِ الْخَاصَّةِ لِلدَّجَّالِ
دجال کی مخصوص علامات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8826
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ﵀، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي الطُّفَيل، عن حُذيفة بن أَسِيد؛ قال (1) : كنت بالكوفة فقيل: خرج الدَّجّالُ، قال: فأتَينا على حذيفة بن أَسيد وهو يحدِّث، فقلت: هذا الدجالُ قد خرج، فقال: اجلِسْ، فجلستُ، فأَتى علينا العَريفُ (2) فقال: هذا الدجالُ قد خرج وأهل الكوفة يُطاعِنونَه، قال: اجلِسْ، فجلس، فنودِيَ: إنها كَذْبةُ صَبَّاغ (3) . قال: فقلنا: يا أبا سَريحةَ، ما أجلستَنا إلَّا لأمرٍ، فحدِّثنا، قال: إنَّ الدجال لو خرج في زمانِكم، لرَمَتْه الصِّبيانُ بالخَزَف (4) ، ولكن الدجال يخرج في نقص من الناس وخِفَّة من الدِّين وسوءِ ذاتِ بَينٍ، فيَرِدُ كلَّ مَنْهَلٍ، فتُطَوى له الأرضُ طيَّ فَرْوةِ الكَبْش، حتى يأتيَ المدينة، فيغلبُ على خارجِها ويمنع داخلَها، ثم جبلَ إيلِياءَ (5) فيحاصرُ عِصابةً من المسلمين، فيقول لهم الذين عليهم: ما تنتظرون بهذا الطاغيةِ أن تقاتلوه حتى تَلحَقوا بالله أو يُفتَحَ لكم؟! فيأتمِرون أن يقاتلوه إذا أصبحوا، فيُصبِحون ومعهم عيسى ابن مريمَ، فيَقتُل الدَّجالَ ويَهزِمُ أصحابَه، حتى إنَّ الشجر والحجر والمَدَر يقول: يا مؤمنُ، هذا يهوديٌّ عندي فاقتُلْه، قال: وفيه ثلاثُ علامات: هو أعورُ، وربُّكم ليس بأعورَ، ومكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مؤمنٍ أُمِّيٍّ وكاتب، ولا تُسخَّرُ له المَطايا إِلَّا الحمارُ، فهو رِجسٌ على رجس. ثم قال: أنا لغيرِ الدجال أخوفُ عليَّ وعليكم، قال: فقلنا: ما هو يا أبا سَرِيحة؟ قال: فتنٌ كأنها قِطَعُ الليل المظلِم، قال: فقلنا: أيُّ الناس فيها شرٌّ؟ قال: كلُّ خطيبٍ مِصقَع، وكلُّ راكبٍ مُوضِع (1) ، قال: فقلنا: أيُّ الناس خيرٌ؟ قال: كلُّ غنيٍّ خفيّ، قال: فقلت: ما أنا بالغنيِّ ولا بالخفيِّ، قال: فكن كابنِ اللَّبُون، لا ظهر فيُركَبَ، ولا ضَرْعَ فيُحلَبَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8612 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8612 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں کوفہ میں تھا کہ یہ خبر پھیلی کہ دجال نکل آیا ہے، پس ہم حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے، میں نے کہا: یہ دجال نکل آیا ہے، انہوں نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، تو میں بیٹھ گیا، پھر ہمارے پاس عریف (علاقے کا نقیب) آیا اور اس نے بھی یہی کہا کہ دجال نکل آیا ہے اور اہل کوفہ اس سے لڑ رہے ہیں، انہوں نے اسے بھی کہا: ”بیٹھ جاؤ“، تو وہ بھی بیٹھ گیا، پھر اعلان ہوا کہ یہ تو ایک صباغ (جھوٹے شخص) کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے، ہم نے عرض کیا: اے ابو سریحہ! آپ نے ہمیں کسی خاص مقصد سے بٹھایا ہے، اب ہمیں حدیث سنائیے، انہوں نے فرمایا: ”اگر دجال تمہارے اس زمانے میں نکل آتا تو بچے اسے ٹھیکریوں سے مار بھگاتے، لیکن دجال اس وقت نکلے گا جب لوگوں کی تعداد کم ہوگی، دین میں کمزوری ہوگی اور باہمی تعلقات خراب ہوں گے، وہ ہر گھاٹ پر پہنچے گا اور اس کے لیے زمین ایسے لپیٹ دی جائے گی جیسے مینڈھے کی کھال لپیٹی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ آئے گا تو اس کے بیرونی حصوں پر غالب آ جائے گا مگر اسے شہر کے اندر داخل ہونے سے روک دیا جائے گا، پھر وہ جبل ایلیاء (بیت المقدس کے پہاڑ) کا رخ کرے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کا محاصرہ کر لے گا، پس ان کے امیر ان سے کہیں گے: تم اس سرکش سے لڑنے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ یہاں تک کہ تم اللہ سے جا ملو یا تمہیں فتح حاصل ہو جائے! پس وہ فیصلہ کریں گے کہ جب صبح ہوگی تو اس سے قتال کریں گے، پھر جب صبح ہوگی تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ان کے ساتھ ہوں گے، پس وہ دجال کو قتل کریں گے اور اس کے ساتھیوں کو شکست دیں گے، یہاں تک کہ درخت، پتھر اور مٹی کا ڈھیلا پکارے گا: اے مومن! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہے، اسے قتل کر دو“، انہوں نے مزید فرمایا: ”اور دجال میں تین علامتیں ہوں گی: وہ کانا ہوگا جبکہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”کافر“ لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا لکھنا جانتا ہو، اور اس کے لیے سواریوں میں سے صرف گدھا مسخر کیا جائے گا جو کہ سراپا نحوست ہوگا“، پھر انہوں نے فرمایا: ”میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز سے اپنے اور تمہارے حق میں زیادہ ڈرتا ہوں“، ہم نے عرض کیا: اے ابو سریحہ! وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ایسے فتنے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے“، ہم نے عرض کیا: ان فتنوں میں سب سے بدتر لوگ کون ہوں گے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہر وہ خطیب جو اپنی لفاظی سے لوگوں کو متاثر کرے اور ہر وہ شخص جو فتنے کی طرف تیزی سے دوڑنے والا ہو“، ہم نے عرض کیا: سب سے بہتر لوگ کون ہوں گے؟ فرمایا: ”ہر وہ غنی جو لوگوں سے بے نیاز اور گمنامی اختیار کرنے والا ہو“، میں نے عرض کیا: میں نہ تو غنی ہوں اور نہ ہی گمنام، تو انہوں نے فرمایا: ”پھر تم ابن لبون (اونٹ کے اس چھوٹے بچے) کی طرح بن جاؤ جس کی نہ پیٹھ ہو کہ سواری کی جا سکے اور نہ تھن ہوں کہ دودھ نکالا جا سکے (یعنی اپنے آپ کو فتنوں سے اس طرح دور رکھو کہ کوئی تمہیں استعمال نہ کر سکے)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8826]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8826]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهو في حكم المرفوع، فما ذكر فيه لا يقال من قبل الرأي، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن هشام الدستوائي، وهو متابع» [ترقيم الرساله 8826] [ترقيم الشركة 8715] [ترقيم العلميه 8612]
الحكم على الحديث: حديث صحيح