المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
116. ذكر العلامات الخاصة للدجال
دجال کی مخصوص علامات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8825
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزَّاز، حدثنا عُمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حدثنا جَهضَم بن عبد الله القَيْسي، عن عبد الأعلى ابن عامر، عن مُطرِّف بن عبد الله بن الشِّخّير، عن ابن عمر قال: كنت في الحَطِيم مع حُذَيفة، فذكر حديثًا، ثم قال:"لَتُنقضَنَّ عُرَى الإسلام عُروةً عُروةً، وليكونَنَّ أئمةٌ مُضِلُّون، ولَيَخرُجَنَّ على أثر ذلك الدَّجّالون الثلاثةُ". قلت: يا أبا عبد الله، قد سمعتَ هذا الذي تقول من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، سمعتُه. وسمعتُه يقول:"يخرجُ الدَّجالُ من يهوديَّةِ أصبهانَ، عينُه اليمنى ممسوخة والأُخرى كأنها زَهْرَةٌ تشقُّ الشمس شقًّا، ويتناول الطيرَ من الجوِّ، له ثلاثُ صَيحاتٍ يسمعهنَّ أهلُ المشرِق وأهلُ المغرِب، ومعه جَبَلانِ: جبلٌ من دُخانٍ ونارٍ، وجبلٌ من شجرٍ، وأنهار، ويقول: هذه الجنّة وهذه النار". وسمعتُه يقول:"يخرجُ من قَبلِهِ كذَّابٌ". قال: قلت: فما الثالث؟ قال: إنه أكذبُ الكذَّابين، إنه يخرج من قِبَل المشرق، يَتبَعُه خُشَارةُ العرب وسَفِلةُ المَوالي، أوَّلُهم منصور وآخرُهم مَثْبور، هلاكُهم على قَدْر سلطانهم، عليهم اللعنةُ الله دائمةً. قال: فقلت: العجبُ كلُّ العجبِ! قال: وأعجبُ من ذلك سيكون، فإذا سمعتَ به فالهربَ الهربَ، قال: قلت: كيف أصنعُ بمن خلَّفتُ؟ قال: مُرْهم فليَلحَقوا برؤوس الجبال، قال: قلت: فإن لم يُترَكوا وذلك؟ قال: مُرْهم أن يكونوا أحلاسًا من أحلاسِ بيوتِهم، قال: قلت: فإن لم يُترَكوا وذلك، قال: يا ابنَ عمر، زمانُ خوفٍ وهَرْجٍ وسَلْبٍ، قال: فقلت: يا أبا عبد الله، ما لهذا الهَرْج من فَرَج؟ قال: بلى، إنه ليس من هَرْج إلَّا وله فَرَجٌ، ولكن أين ما يبقى لها، إنها فتنةٌ يقال لها: الحارقة (1) ، تأتي على صَرِيح العرب وصَريح الموالي وذوي الكُنوز وبقيَّةِ الناس، ثم تَنجَلي عن أقلَّ من القليل (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8611 - بل منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8611 - بل منكر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ کے ہمراہ حطیم میں موجود تھا، انہوں نے ایک حدیث ذکر کی، پھر کہا: اسلام کی رسی ایک ایک دھاگہ کر کے ٹوٹتی رہے گی، ائمہ گمراہ کرنے والے ہوں گے، اس کے بعد تین دجال ظاہر ہوں گے۔ میں نے کہا: اے ابوعبداللہ، آپ جو یہ بات کہہ رہے ہیں، کیا تم نے یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے خود سنی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال اصبہان کی ایک یہودی عورت کے ہاں پیدا ہو گا، وہ دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اور دوسری آنکھ ایسی ہو گی گویا کہ سورج کا ایک ٹکڑا ہو، وہ اڑتے پرندوں کو پکڑ لے گا، وہ تین آوازیں دے گا، جس کو مشرق و مغرب میں برابر سنا جائے گا، اس کے ہمراہ دو پہاڑ ہوں گے، ایک دھویں اور آگ کا ہو گا اور دوسرا درختوں اور نہروں سے بھرا ہوا ہو گا، اور وہ کہے گا: یہ جنت ہے اور یہ دوزخ۔ اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کی طرف سے ایک کذاب نکلے گا، میں نے پوچھا: تیسرا کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہو گا، وہ مشرق کی جانب سے نمودار ہو گا، عرب کے معمولی درجے کے اور رذیل قسم کے کمینے لوگ اس کے پیروکار ہوں گے، ان میں سے پہلا بھی ملعون ہو گا اور آخری بھی ملعون ہو گا۔ ان کی ہلاکت ان کی سلطنت کے مطابق ہو گی، ان پر اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ لعنت رہے گی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: یہ تو بہت ہی تعجب کی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات عنقریب ہو گی، جب تم یہ بات سنو تو پھر جنگ ہی جنگ ہو گی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جو لوگ اس وقت موجود ہوں گے، ان کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو کہہ دینا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ جائیں، میں نے کہا: اگر لوگ اپنے گھروں کو نہ چھوڑیں، تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو کہنا کہ اپنے گھروں کے کمروں میں سے کسی کمرے میں چلے جائیں۔ میں نے کہا: اگر لوگ یہ بات بھی نہ مانیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن عمر وہ زمانہ خوف، ہرج اور چھینا جھپٹی کا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8825]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8825 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في "تلخيص الذهبي": الجارفة.
📝 نوٹ / توضیح: "تلخیص الذہبی" میں یہ لفظ "الجارفۃ" ہے۔
(2) إسناده ضعيف بمرّة، واستنكره الذهبي في "تلخيصه"، فعبد الأعلى بن عامر -وهو الثعلبي- الجمهور على تضعيفه، ومحمد بن سنان القزّاز فيه مقال، وغالى فيه أبو داود وابن خراش فاتهماه بالكذب. وهذا الحديث بهذا الإسناد وبهذا السياق لم نقف عليه عند غير المصنف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بالکل (انتہائی) ضعیف ہے، اور ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اسے منکر قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں عبد الاعلیٰ بن عامر—جو کہ ثعلبی ہیں—پر جمہور کا اتفاق ہے کہ وہ ضعیف ہیں؛ اور محمد بن سنان القزاز کے بارے میں کلام ہے، ابو داؤد اور ابن خراش نے ان کے بارے میں شدت برتی ہے اور ان پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔ اور یہ حدیث اس سند اور اس سیاق کے ساتھ ہمیں مصنف کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔
وانظر حديث ربعي بن حراش عن حذيفة في صفة الدجال عند أحمد 38/ (23279)، ومسلم (2934) (105).
🧩 متابعات و شواہد: دجال کی صفت کے بارے میں ربعی بن حراش عن حذیفہ کی حدیث مسند احمد (38/ 23279) اور صحیح مسلم (2934/ 105) میں ملاحظہ کریں۔
وفي انتقاض عُرى الإسلام عروة عروة انظر حديث عبد العزيز ابن أخي حذيفة عن حذيفة السالف برقم (8654).
🧩 متابعات و شواہد: اسلام کی کڑیوں کے ایک ایک کر کے ٹوٹنے کے بارے میں عبدالعزیز ابن اخی حذیفہ عن حذیفہ کی گزشتہ حدیث نمبر (8654) ملاحظہ کریں۔
خُشارة العرب: رديئهم، فالخشارة: الردئ من كل شيء.
📝 نوٹ / توضیح: "خُشارۃ العرب": یعنی ان کے ردی (گھٹیا) لوگ۔ خشارہ ہر چیز کے ردی (بچے کھچے/ناکارہ) حصے کو کہتے ہیں۔