المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
124. ذِكْرُ خَمْسِ بَلَاءٍ أَعَاذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا لِلْمُسْلِمِينَ
ان پانچ بلاؤں کا تذکرہ جن سے نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے لیے پناہ مانگی
حدیث نمبر: 8837
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو الجُماهِر محمد بن عثمان الدِّمشقي، حدثني الهيثم بن حُميد، أخبرني أبو مُعَيد حفص بن غَيْلان، عن عطاء بن أبي رَبَاح قال: كنت مع عبد الله بن عمر، أَتاه فتًى يسألُه عن إسدال العِمامة، فقال ابن عمر: سأخبرُك عن ذلك بعلمٍ إن شاء الله، كنتُ عاشرَ عَشَرةٍ في مسجد رسول الله ﷺ؛ أبو بكر وعمرُ وعثمانُ وعليٌّ وابنُ مسعود وحذيفةُ وابنُ عَوْف وأبو سعيدٍ الخُدْري، فجاء فتًى من الأنصار فسلَّم على رسول الله ﷺ ثم جلس، فقال: يا رسول الله، أيُّ المؤمنين أفضلُ؟ قال:"أحسنُهم خُلُقًا" قال: فأيُّ المؤمنين أكيَسُ؟ قال:"أكثرُهم للموت ذِكرًا، وأحسنُهم له استعدادًا قبل أن يَنزِلَ بهم، أولئك من الأَكْياس". ثم سَكَتَ الفتى، وأقبل عليه (1) النبيُّ ﷺ فقال:"يا معشرَ المهاجرين، خمسٌ إن ابتُلِيتم بهن، ونَزَل (2) فيكم أعوذُ بالله أن تُدركوهنَّ: لم تَظهَرِ الفاحشةُ في قوم قطُّ حتى يَعمَلوها (3) إلَّا ظهر فيهم الطاعونُ والأوجاعُ التي لم تكن مَضَت في أسلافِكم، ولم يَنقُصوا المِكيالَ والميزانَ إِلَّا أُخِذوا بالسِّنين وشدَّة المَؤونة وجَوْر السلطان عليهم، ولم يَمنَعوا زكاة أموالهم إلَّا مُنِعوا القَطْرَ من السماء، ولولا البهائمُ لم يُمطَروا، ولم يَنقُضوا عهدَ الله وعهدَ رسوله إلَّا سُلِّط عليهم عدوُّهم من غيرِهم وأَخَذوا بعضَ ما كان في أيديهم، وما لم يَحكُمْ أئمَّتُهم بكتاب الله إِلَّا أَلقى (4) الله بأسَهم بينهم". ثم أَمَرَ عبد الرحمن بن عوفٍ يتجهَّزُ لسَرِيَّة بَعَثَه عليها، وأصبح عبدُ الرحمن قد اعتَمَّ بعمامةٍ من كَرَابيسَ سوداءَ، فأدناه النبيُّ ﷺ ثم نَقضَه وعمَّمه بعمامةٍ بيضاءَ، وأرسلَ من خلفِه أربعَ أصابعَ ونحوَ ذلك، وقال:"هكذا يا ابنَ عوفٍ اعتَمَّ، فإنه أعرَبُ وأحسنُ"، ثم أمر النبيُّ ﷺ بلالًا أن يدفع إليه اللِّواءَ، فَحَمِدَ الله وصلَّى على النبي ﷺ ثم قال:"خُذِ ابنَ عوفٍ، فاغزُوا جميعًا في سبيل الله، فقاتِلُوا مَن كَفَر بالله، ولا تَغلُّوا ولا تَغدِروا ولا تُمثِّلوا ولا تَقتُلوا وَليدًا، فهذا عهدُ اللهِ وسيرةُ نبيِّه" ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8623 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8623 - صحيح
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان کے پاس ایک نوجوان آیا اور ان سے عمامہ لٹکانے (شملہ چھوڑنے) کے بارے میں پوچھنے لگا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ان شاء اللہ! میں تمہیں علم کی روشنی میں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں دس آدمیوں میں دسواں تھا؛ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، حذیفہ، ابن عوف اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین موجود تھے۔ اتنے میں انصار کا ایک نوجوان آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور بیٹھ گیا، پھر پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا مومن سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“ اس نے پوچھا: تو کون سا مومن سب سے زیادہ عقلمند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو، اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے سب سے اچھی تیاری کرنے والا ہو، یہی لوگ سب سے زیادہ عقلمند ہیں۔“ پھر وہ نوجوان خاموش ہو گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے مہاجرین کی جماعت! پانچ خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر تم ان میں مبتلا ہو جاؤ، اور وہ تم میں نازل ہو جائیں، اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان کا زمانہ پاؤ: کسی قوم میں کبھی بے حیائی ظاہر نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اسے کھلم کھلا کرنے لگیں، مگر ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے آباؤ اجداد میں نہیں گزری تھیں۔ اور وہ ناپ تول میں کبھی کمی نہیں کرتے مگر انہیں قحط سالی، رزق کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے پکڑ لیا جاتا ہے۔ اور وہ کبھی اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے سے نہیں رکتے مگر ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر جانور نہ ہوں تو ان پر کبھی بارش نہ برسے۔ اور وہ کبھی اللہ اور اس کے رسول کا عہد نہیں توڑتے مگر ان پر ان کے علاوہ (دیگر قوموں سے) ان کا دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے جو ان کے زیرِ قبضہ بعض چیزیں چھین لیتا ہے۔ اور جب تک ان کے حکمران اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، اللہ ان کے درمیان باہمی لڑائی ڈال دیتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک فوجی مہم کے لیے تیاری کریں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجنا تھا۔ صبح کے وقت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کالے سوتی کپڑے کا عمامہ باندھ رکھا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے قریب کیا، پھر اسے کھولا اور انہیں سفید عمامہ پہنایا، اور ان کی پشت پر چار انگلیوں کے برابر یا اس کے لگ بھگ (شملہ) لٹکا دیا، اور فرمایا: ”اے ابن عوف! اس طرح عمامہ باندھا کرو، کیونکہ یہ زیادہ خوبصورت اور بہتر ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں جھنڈا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، پھر فرمایا: ”اے ابن عوف! اسے پکڑو، پس تم سب اللہ کے راستے میں جہاد کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو، اور مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو، نہ غداری کرو، نہ کسی کا مثلہ (اعضاء کاٹنا) کرو، اور نہ کسی بچے کو قتل کرو۔ یہی اللہ کا عہد اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8837]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8837]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل حفص بن غيلان» [ترقيم الرساله 8837] [ترقيم الشركة 8726] [ترقيم العلميه 8623]
الحكم على الحديث: إسناده حسن