المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
123. قَبْلَ السَّاعَةِ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ سَحَابَةٍ سَوْدَاءَ
قیامت سے پہلے ایک منادی سیاہ بادل سے ندا لگائے گا
حدیث نمبر: 8835
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق البَغَوي العدل ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا أبو معاوية شَيْبان بن عبد الرحمن، عن فِراس، عن عطيَّة العَوْفِي، عن أبي سعيد الخُدْري، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"أَلَا كلُّ نبيٍّ قد أَنذَرَ أمَّتَه الدجالَ، وإنه يومَه هذا قد أكل الطعامَ، وإني عاهدٌ عهدًا لم يَعهَذه نبيٌّ لأمّتِه قبلي، ألا إنَّ عينَه اليمنى ممسوحة، الحَدَقةُ [جاحظةٌ] فلا تَخفَى (2) ، كأنها نُخاعةٌ في جنب حائط، ألا وإنَّ عينه اليسرى كأنها كوكبٌ دُرِّيٌّ، معه مثلُ الجنة ومثلُ النار، فالنارُ روضةٌ خضراءُ والجنةُ غَبراءُ ذاتُ دخان، ألا وإنَّ بين يديه رَجُلين (3) يُنذِران أهلَ القرى، كلَّما دخلا قريةً أُنذِرَ أهلُها، فإذا خرجا منها دخلها أولُ أصحاب الدَّجّال، ويدخل القرى كلَّها غيرَ مكةَ والمدينةِ، حُرِّما عليه. والمؤمنون متفرِّقون في الأرض، فيَجمَعُهم اللهُ له، فيقول رجل من المؤمنين لأصحابه: واللهِ لأَنطلقنَّ إلى هذا الرجل فلأَنظُرَنَّ: هو الذي أَنذَرَنا رسولُ الله ﷺ أم لا، ثم ولَّى، فقال له أصحابه: والله لا نَدعُك، ولو أنَّا نعلمُ أنه يقتلُك إذا أتيتَه خلَّينا سبيلَك، ولكنا نخاف أن يَفتِنَك، فأَبَى عليهم الرجلُ المؤمن إلَّا أن يأتيَه، فانطلق يمشي حتى أَتى مسلَحةً من مَسالحِه، فأخذوه فسألوه: ما شأنُك وما تريد؟ قال لهم: أريد الدجالَ الكذابَ، قالوا: إنك تقول ذلك؟! قال: نعم، فأَرسَلوا إلى الدجال: أنّا قد أخَذْنا [مَن] يقول: كذا وكذا، فنقتلُه أو نرسلُه إليك؟ قال: أَرسِلوه إليَّ، فانطُلِقَ به حتى أُتِيَ به الدجالُ، فلما رآه عَرَفَه لنَعْتِ رسولِ الله ﷺ، فقال له الدجال: ما شأنُك؟ فقال له العبدُ المؤمن: أنت الدجالُ الكذابُ الذي أَنذَرَناك رسولُ الله ﷺ، قال له الدجال: أنت تقولُ هذا؟ قال: نعم، قال له الدجال: أتُطِيعُني فيما أمرتُك أو لأَشُقَّنَّكَ شِقَّينِ؟ فنادى العبدُ المؤمن فقال: أيها الناس، هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمَن عصاه فهو في الجنة، ومَن أطاعه فهو في النار، فقال له الدجال: والذي أَحلِفُ به لتُطِيعَنِّي أو لأشُقَّنَّكَ شِقَّين، فنادى العبدُ المؤمن فقال: أيها الناس، هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمَن عصاه فهو في الجنة، ومن أطاعه فهو في النار. فمَدَّ برجله فوَضَعَ حديدةً على عَجْبِ ذَنَبِه فشقَّه شِقَّينِ، فلما فُعِلَ به ذلك، قال الدجالُ لأوليائه: أرأيتم إن أحييتُ هذا لكم، ألستم تعلمون أني ربُّكم؟ قالوا: بلى". قال عطيّة: فحدَّثنَي أبو سعيد الخُدْري، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"فضرب أحدَ شِقَّيه أو الصعيدَ عنده فاستوى قائمًا، فلما رآه أولياؤُه صدَّقوه وأيقَنوا أنه ربُّهم، وأجابوه واتَّبعوه، قال الدجال للعبد المؤمن: ألا تؤمنُ بي؟ قال له المؤمن: لأنا أشدُّ الآنَ فيك بصيرةً من قبلُ، ثم نادى في الناس: ألا إنَّ هذا المسيحُ الكذَّابُ، فمن أطاعه فهو في النار، ومن عَصَاه فهو في الجنة، فقال الدجال: والذي أَحلِفُ به لَتُطِيعَنِّي أو لأذبحنَّك، أو لأُلقينَّك في النار، فقال له المؤمن: والله لا أُطيعُك أبدًا، فأَمر به فأُضجِعَ"، قال: فقال لي أبو سعيد: إنَّ نبي الله ﷺ قال:"جعل [اللهُ] (1) صفحتين من نُحاسٍ بين تَراقِيهِ ورقبته - قال: وقال أبو سعيد: ما كنت أدري ما النحاسُ قبلَ يومئذٍ - فذهب ليذبحَه فلم يستطع، ولم يُسلَّطْ عليه بعد قتلِه إياه" قال: فإِنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"فأَخذ بيديه ورِجْليه فألقاه في الجنة، وهي غبراءُ ذات دخانٍ يَحْسَبُها النارَ". قال: فقال أبو سعيد: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ذاك الرجلُ أقربُ أمتي مني إذا رُفع إلى درجةٍ يومَ القيامة" (1) . قال: فقال أبو سعيد: ما كان أصحابُ محمدٍ ﷺ يَحسَبون ذلك الرجلَ إِلَّا عمرَ بنَ الخطّاب، حتى سَلَكَ عمرُ سبيلَه. قال: ثم قلت له: فكيف يَهلِكُ؟ قال: الله أعلمُ، قال: فقلت: أخبِرتُ أنَّ عيسى ابن مريم ﵇ هو يهلكُه، فقال: اللهُ أعلمُ، غيرَ أنه يهلكُه اللهُ ومن تَبِعَه، قال: قلت: فمن يكون بعدَه، قال: حدثني نبيُّ الله ﷺ: أنهم يَغرِسون بعدُ الغُروسَ، ويَتَّخِذون من بعدِه الأموال؟! قال: قلت: سبحانَ الله، أبعدَ الدَّجالِ يَغرِسون الغروسَ، ويتخذون من بعدِه الأموال؟! قال: نعم، حدَّثَني بذلك رسولُ الله ﷺ (2) . هذا أعجبُ حديثٍ في ذكر الدجال، تفرَّد به عطيةُ بن سعد عن أبي سعيد الخُدْري، ولم يحتجَّ الشيخان بعطيّة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8621 - عطية ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8621 - عطية ضعيف
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار، ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا، اور اس کے آنے کا وقت اب ہے، بے شک اس نے کھانا کھا لیا ہے اور میں اپنی امت سے ایک عہد لے رہا ہوں یہ عہد مجھ سے پہلے کبھی کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں لیا، سن لو اس کی بائیں آنکھ ابھری ہوئی ہو گی، لہذا وہ چھپ نہیں سکے گا۔ جیسا کہ کسی دیوار پر ناک کی رینٹھ لگی ہو، اور اس کی دائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گی، اس کے ہمراہ جنت اور دوزخ جیسی چیزیں ہوں گی، جب کہ جو دوزخ ہو گی، وہ حقیقت میں سبز باغ ہو گی اور جو بظاہر جنت ہو گی وہ دھویں والی آگ ہو گی، خبردار، اس کے سامنے دو آدمی ہوں گے جو اپنی بستی والوں کو ڈرا رہے ہوں گے، وہ جب بھی اس بستی میں آئیں گے، ان کو ڈر سنائیں گے، جب وہ لوگ اس بستی سے نکلیں گے تو دجال کا ایک ساتھی اس میں داخل ہو جائے گا، اور وہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر بستی اور ہر شہر میں داخل ہوں گے، جبکہ ان دو شہروں میں داخل ہونا ان پر حرام کر دیا گیا ہے، اور مومنین، روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان سب کو دجال کے لئے ایک جگہ پر جمع کر لے گا، مومنین میں ایک آدمی اپنے ساتھیوں سے کہے گا: میں اس آدمی کے پاس جا کر دیکھ کر آتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جس شخص سے ڈرایا تھا، یہ وہی ہے یا کوئی اور ہے۔ اس کے ساتھی اس کو کہیں گے: اللہ کی قسم! ہم تجھے اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر ہمیں یہ پتا ہو کہ اگر تو اس کے پاس جائے گا تو وہ تجھے قتل کر دے گا، تب بھی ہم تجھے جانے کی اجازت دے دیں، لیکن ہمیں خوف یہ ہے کہ وہ تجھے فتنے میں مبتلا کر دے گا، اس لئے ہم تجھے اس کے پاس کسی طور بھی نہیں جانے دیں گے۔ لیکن وہ مومن آدمی ضد کر کے اس کو دیکھنے کے لئے چل نکلے گا، وہ چلتا چلتا، اس کی ایک سرحد تک پہنچے گا۔ وہ اس کو پکڑ لیں گے اور اس سے ادھر آنے کی وجہ پوچھیں گے، وہ کہے گا: میں دجال کذاب کو ڈھونڈ رہا ہوں، لوگ پوچھیں گے: یہ بات تم کہہ رہے ہو؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ وہ لوگ دجال کی طرف پیغام بھیجیں گے کہ ہم نے ایک ایسے آدمی کو گرفتار کیا ہوا ہے جو آپ کی شان میں نازیبا گفتگو کر رہا ہے، ہم اس کو مار ڈالیں یا آپ کی جانب بھیج دیں؟ وہ کہے گا: اس کو میری طرف بھیج دو، اس آدمی کو دجال تک پہنچایا جائے گا، جب وہ آدمی دجال کو دیکھے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق اس کو پہچان لے گا۔ دجال اس سے کہے گا: تم کون ہو اور کیا کرنے آئے ہو؟ وہ بندہ مومن کہے گا: تو دجال کذاب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تجھ سے بچنے کا حکم دیا ہے، دجال کہے گا: تم یہ بات کہہ رہے ہو؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ دجال کہے گا: میں جو حکم دوں، تو اس کی اطاعت کر، ورنہ میں تجھے چیر کر رکھ دوں گا، وہ بندہ مومن چیخ کر آواز دے گا اور کہے گا: اے لوگو! یہ مسیح کذاب ہے، جو اس کی نافرمانی کرے گا وہ جنتی ہے، اور جو اس کی اطاعت کرے گا وہ دوزخی ہے۔ دجال اس کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹے گا اور تلوار کے ساتھ اس کے دو ٹکڑے کر دے گا۔ جب دجال یہ کام کر چکے گا تو اپنے ساتھیوں سے کہے گا: اگر میں اس کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا رب ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس آدمی کے ایک پہلو کو یا اپنے قریب مٹی کو مارے گا، تو وہ آدمی اٹھ کر سیدھا کھڑا ہو جائے گا، جب اس کے ساتھی یہ کرتب دیکھیں گے تو اس کے رب ہونے کی تصدیق کر دیں گے، اور ان کو یقین ہو جائے گا کہ وہ واقعی ان کا رب ہے، سب اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کریں گے۔ دجال اس بندہ مومن سے کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لائے گا؟ بندہ مومن اس کو کہے گا: اب تو مجھے پہلے سے بھی زیادہ بصیرت حاصل ہو گئی ہے (کہ تم واقعی دجال ہو) پھر وہ بندہ پکار کر کہے گا: خبردار! یہ مسیح کذاب ہے، جو اس کی اطاعت کرے گا، وہ دوزخی ہے اور جو اس کی نافرمانی کرے گا وہ جنتی ہے، دجال کہے گا: اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں، تجھے میری اطاعت کرنی پڑے گی ورنہ میں تجھے ذبح کر دوں گا یا تجھے آگ میں زندہ جلا دوں گا، بندہ مومن کہے گا: اللہ کی قسم! میں کبھی بھی تیری اطاعت نہیں کروں گا، دجال حکم دے گا، اس آدمی کو لٹایا جائے گا، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر (نحاس) تانبے کی دو چوڑی تلواریں گردن اور حلقوم کے درمیان رکھی جائیں گی۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس دن سے پہلے میں نہیں جانتا تھا کہ نحاس کس کو کہتے ہیں، پھر اس کو ذبح کرنے کے لئے لے جایا جائے گا، لیکن ایک مرتبہ قتل کرنے کے بعد اب وہ اس پر مسلط نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی وہ اس کو ذبح کر سکے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال اس بندہ مومن کو ہاتھ اور پاؤں سے پکڑ کر جنت میں ڈال دے گا، اس میں دھواں ہی دھواں ہو گا، دیکھنے والا اس کو آگ سمجھ رہا ہو گا۔ میرا یہ امتی درجات کے لحاظ سے میرے سب سے زیادہ قریب ہو گا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام وہ آدمی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سمجھا کرتے تھے، کہ عمر ہی اس راستے کو اپنائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ ہلاک کیسے ہو گا؟ انہوں نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے، میں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس کو ہلاک کریں گے، انہوں نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اللہ ہی اس کو اور اس کے پیروکاروں کو ہلاک فرمائے گا۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد کون آئے گا؟ انہوں نے کہا: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اس کے بعد فصلیں اگائی جائیں گی، باغات لگائے جائیں گے، اور اس کے بعد لوگ بہت مال حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بھی بتایا تھا۔ دجال کے ذکر میں یہ حدیث بہت اچھی ہے اس کو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں عطیہ بن سعد منفرد ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عطیہ کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8835]