🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

125. ذِكْرُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ
مسیلمہ کذاب کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8837
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو الجُماهِر محمد بن عثمان الدِّمشقي، حدثني الهيثم بن حُميد، أخبرني أبو مُعَيد حفص بن غَيْلان، عن عطاء بن أبي رَبَاح قال: كنت مع عبد الله بن عمر، أَتاه فتًى يسألُه عن إسدال العِمامة، فقال ابن عمر: سأخبرُك عن ذلك بعلمٍ إن شاء الله، كنتُ عاشرَ عَشَرةٍ في مسجد رسول الله ﷺ؛ أبو بكر وعمرُ وعثمانُ وعليٌّ وابنُ مسعود وحذيفةُ وابنُ عَوْف وأبو سعيدٍ الخُدْري، فجاء فتًى من الأنصار فسلَّم على رسول الله ﷺ ثم جلس، فقال: يا رسول الله، أيُّ المؤمنين أفضلُ؟ قال:"أحسنُهم خُلُقًا" قال: فأيُّ المؤمنين أكيَسُ؟ قال:"أكثرُهم للموت ذِكرًا، وأحسنُهم له استعدادًا قبل أن يَنزِلَ بهم، أولئك من الأَكْياس". ثم سَكَتَ الفتى، وأقبل عليه (1) النبيُّ ﷺ فقال:"يا معشرَ المهاجرين، خمسٌ إن ابتُلِيتم بهن، ونَزَل (2) فيكم أعوذُ بالله أن تُدركوهنَّ: لم تَظهَرِ الفاحشةُ في قوم قطُّ حتى يَعمَلوها (3) إلَّا ظهر فيهم الطاعونُ والأوجاعُ التي لم تكن مَضَت في أسلافِكم، ولم يَنقُصوا المِكيالَ والميزانَ إِلَّا أُخِذوا بالسِّنين وشدَّة المَؤونة وجَوْر السلطان عليهم، ولم يَمنَعوا زكاة أموالهم إلَّا مُنِعوا القَطْرَ من السماء، ولولا البهائمُ لم يُمطَروا، ولم يَنقُضوا عهدَ الله وعهدَ رسوله إلَّا سُلِّط عليهم عدوُّهم من غيرِهم وأَخَذوا بعضَ ما كان في أيديهم، وما لم يَحكُمْ أئمَّتُهم بكتاب الله إِلَّا أَلقى (4) الله بأسَهم بينهم". ثم أَمَرَ عبد الرحمن بن عوفٍ يتجهَّزُ لسَرِيَّة بَعَثَه عليها، وأصبح عبدُ الرحمن قد اعتَمَّ بعمامةٍ من كَرَابيسَ سوداءَ، فأدناه النبيُّ ﷺ ثم نَقضَه وعمَّمه بعمامةٍ بيضاءَ، وأرسلَ من خلفِه أربعَ أصابعَ ونحوَ ذلك، وقال:"هكذا يا ابنَ عوفٍ اعتَمَّ، فإنه أعرَبُ وأحسنُ"، ثم أمر النبيُّ ﷺ بلالًا أن يدفع إليه اللِّواءَ، فَحَمِدَ الله وصلَّى على النبي ﷺ ثم قال:"خُذِ ابنَ عوفٍ، فاغزُوا جميعًا في سبيل الله، فقاتِلُوا مَن كَفَر بالله، ولا تَغلُّوا ولا تَغدِروا ولا تُمثِّلوا ولا تَقتُلوا وَليدًا، فهذا عهدُ اللهِ وسيرةُ نبيِّه" ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8623 - صحيح
سیدنا عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں تھا، آپ کے پاس ایک نوجوان آیا، اس نے عمامے کا شملہ لٹکانے کے بارے میں مسئلہ پوچھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھے اس کا علمی جواب دوں گا، آپ فرماتے ہیں: میں مسجد نبوی میں دسواں آدمی تھا، مزید سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا حذیفہ، سیدنا ابن عوف اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم تھے۔ ایک انصاری نوجوان آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور بیٹھ گیا، پھر پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین میں سب سے افضل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ اس نے پوچھا: سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے، اور موت آنے سے پہلے اس کی اچھی طرح تیاری کر کے رکھتا ہے، یہ شخص سمجھداروں میں سے ہے۔ اس کے بعد وہ نوجوان خاموش ہو گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے مہاجرو! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ اگر تم اس میں مبتلا ہو جاؤ اور وہ چیزیں تم میں نازل ہوں، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان پانچ چیزوں کو پاؤ * جب کسی قوم میں زنا عام ہو جائے گا تو ان میں طاعون پھیل جائے گا اور ایسی ایسی بیماریاں پیدا ہوں گی کہ تم سے پہلے لوگوں میں ان کا نام نشان تک نہ تھا۔ * جب لوگ ناپ تول میں کمی کریں گے تو ان کو قحط اور مشقت میں مبتلا کر دیا جائے گا، اور ظالم بادشاہ ان پر مسلط کر دیئے جائیں گے۔ * جب لوگ زکوۃ دینا چھوڑ دیں گے، ان کی بارشیں روک لی جائیں گی، اگر روئے زمین پر جانور نہ ہوں تو ان کو بارش کا ایک قطرہ تک نہ ملے۔ * جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑیں گے تو ان پر ان کی اغیار اقوام میں سے ان کا دشمن ان پر مسلط کر دیا جائے گا، اور وہ ان کے ہاتھوں کی اشیاء بھی غصب کر لیں گے۔ * جب ان کے ائمہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب ڈال دے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ جہاد کی تیاری کریں، ان کو اس جنگی مہم کا سپہ سالار بنایا، اگلے دن صبح سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سیاہ رنگ کا عمامہ پہن کر تیار ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے قریب بلایا، ان کا کالا عمامہ اتارا اور ان کے سر پر سفید عمامہ باندھ دیا، اور پچھلی جانب چار انگلیوں کے برابر یا اس کے قریب قریب مقدار میں شملہ لٹکایا۔ پھر فرمایا: اے ابن عوف اس طرح عمامہ باندھتے ہیں، کیونکہ یہ اچھا لگتا ہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کو جھنڈا دیں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا، پھر فرمایا: اے ابن عوف یہ پکڑو اور سب لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اللہ کے منکروں کے ساتھ جہاد کرو کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرنا، اپنے سپہ سالار کے ساتھ غداری نہ کرنا، لاشوں کا مثلہ نہ کرنا، بچوں کو قتل نہ کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کا عہد ہے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8837]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8838
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم. وأخبرني أبو محمد المُزَني - واللفظ له - حدثنا علي بن محمد بن عيسى؛ قالا: حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيب، عن الزُّهْري قال: أخبرني طلحةُ بن عبد الله بن عَوْف، عن أبي بَكْرة أخي زيادٍ لأمِّه. وأخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهري، عن طلحة بن عبد الله بن عَوف، عن أبي بَكْرة أخي زيادٍ لأمِّه، قال: أكثرَ الناسُ في شأن مُسيلِمةَ الكذّابِ قبل أن يقول فيه رسول الله ﷺ، ثم قامَ رسولُ الله ﷺ فَأَثنى على الله بما هو أهلُه، ثم قال:"أما بعدُ، في شأنِ هذا الرجل، فقد أكثرتُم في شأنه، فإنه كذّابٌ من ثلاثين كذّابًا يخرجون قبلَ الدَّجال، وإنه ليس بلدٌ إِلَّا يَدخُلُه رُعْبُ المسيح إلَّا المدينةَ، على كلِّ نَقْبٍ من نِقَابِها يومَئِذٍ مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عنها رعبَ المسيح" (1) . قد احتجَّ مسلمٌ بطلحة بن عبد الله بن عَوْف (2) . وقد أَعضَلَ معمرٌ وشعيبُ بن أبي حمزة هذا الإسناد عن الزُّهْري، فإنَّ طلحة بن عبد الله لم يَسمَعه من أبي بَكْرة، إنما سمعه من عِيَاض بن مُسافِع عن أبي بكرة، هكذا رواه يونسُ بن يزيد وعُقَيلُ بن خالد عن الزُّهري. أما حديثُ يونس:
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8838]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8838N
من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8624 - لم يسمعه طلحة من أبي بكرة"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8624 - لم يسمعه طلحة من أبي بكرة"
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8838N]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8839
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهري، أنَّ طلحة بن عبد الله بن عوف حدَّثَه عن عِياض بن مُسافِع، عن أبي بَكْرةَ أخي زيادٍ لأمِّه، قال: لما أكثرَ الناسُ في شأن مُسلِمةَ الكذَّاب قبل أن يقولَ رسول الله ﷺ فيه ما قال، قام رسول الله ﷺ فَأَثْنَى على الله بما هو أهلُه، ثم قال:"أما بعدُ، فقد أكثرتُم في شأنِ هذا الرجل، وإنه كذَّابٌ من ثلاثينَ كذابًا يخرجون قبلَ الدَّجال، وإنه ليس بلدٌ إِلَّا سَيَدخلُه رُعْبُ المسيحِ إِلَّا المدينةَ على كل نَقْبٍ من نِقَابِها (1) يومئذٍ مَلَكان يَذُبَّانِ عنها رُعْبَ المسيح" (2) . وأما حديث عُقَيل بن خالد:
یونس نے زہری کے واسطے سے طلحہ بن عبداللہ بن عوف کے حوالے سے عیاض بن مسافع سے روایت کیا ہے کہ زیاد کے ماں شریک بھائی سیدنا ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ مسیلمہ کذاب کے بارے میں رسول اللہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگ گئے، پھر رسول اللہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا: تم اس آدمی کے بارے میں بہت زیادہ اظہار خیال کرنے لگ گئے ہو، وہ تیسں کذابوں میں سے ایک کذاب ہے جو دجال سے پہلے ہوں گے، ہر شہر میں مسیح دجال کا رعب داخل ہو جائے گا سوائے مدینہ منورہ کے۔ اس دن مدینہ کی ہر گزرگاہ پر دو فرشتے ہوں گے، وہ دجال کو مدینے میں داخل ہونے سے روک رہے ہوں گے۔ عقيل بن خالد كی روایت كردہ حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8839]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں