المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
137. لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ فَإِنَّ فِيهِمُ الْأَبْدَالَ
اہلِ شام کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ ان میں ابدال ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 8871
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني عيّاش بن عبّاس، أنَّ الحارث بن يزيد حدَّثه، أنه سمع عبدَ الله بن زُرَير (1) الغافقي يقول: سمعت عليَّ بن أبي طالب يقول: ستكون فتنةٌ يُحصَّلُ الناسُ منها كما يُحصَّلُ الذهبُ في المَعِدِن، فلا تسبُّوا أهلَ الشام وسبُّوا ظَلَمتَهم، فإنَّ فيهم الأبدالَ، وسيرسل الله إليهم سَيِّبًا (2) من السماء فيُغرِقُهم، حتى لو قاتلهم الثعالبُ غَلَبتْهم، ثم يبعثُ الله عند ذلك رجلًا من عِتْرة الرسول ﷺ في اثني عشر ألفًا إن قَلُّوا، وخمسةَ (3) عشرَ ألفًا إن كَثُروا، أمَارتُهم - أو علامتَهم -: أَمِتْ أَمِتْ، على ثلاث راياتٍ، يقاتلهم أهلُ سبعِ راياتٍ، ليس من صاحب رايةٍ إِلَّا وهو يَطْمَعُ بالمُلْك، فيُقتَلون ويُهزَمون، ثم يَظهرُ الهاشميُّ، فيَردُّ اللهُ إلى الناس أُلفتَهَم ونِعمتَهم، وإناضَتهم وبَرِيرَهم (4) ، فيكونون على ذلك حتى يخرج الدجالُ (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8658 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8658 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ ہوگا جس میں لوگ اس طرح چھانٹ کر الگ کیے جائیں گے جیسے کان (معدن) میں سے سونے کو (مٹی سے) الگ کیا جاتا ہے، لہٰذا تم اہل شام کو برا نہ کہو بلکہ ان کے ظالموں کو برا کہو، کیونکہ ان میں 'ابدال' (اللہ کے برگزیدہ بندے) موجود ہیں۔ عنقریب اللہ تعالیٰ ان (ظالموں) پر آسمان سے ایسی بلا (سیلاب یا آفت) بھیجے گا جو انہیں غرق کر دے گی، یہاں تک کہ اگر لومڑیاں بھی ان سے لڑیں گی تو وہ ان پر غالب آ جائیں گی۔ پھر اس وقت اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت (اہل بیت) میں سے ایک شخص (مہدی) کو مبعوث فرمائے گا، جن کے ساتھ بارہ ہزار (اگر کم ہوئے) یا پندرہ ہزار (اگر زیادہ ہوئے) افراد ہوں گے، ان کا نعرہ (یا نشانی) ”أَمِتْ أَمِتْ“ (مار دو، مار دو) ہوگا، وہ تین جھنڈوں تلے لڑیں گے جبکہ ان کے مقابلے پر سات جھنڈوں والے ہوں گے اور ان میں سے ہر جھنڈے والا بادشاہت کا لالچ رکھتا ہوگا، پس وہ (مخالفین) قتل ہوں گے اور انہیں شکست ہوگی۔ پھر وہ ہاشمی (مہدی) ظاہر ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ لوگوں میں دوبارہ الفت، نعمت، خوشحالی اور رزق (اناج اور پیلو کے پھل وغیرہ) لوٹا دے گا، اور وہ اسی حالت پر رہیں گے یہاں تک کہ دجال نکل آئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8871]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8871]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، ومتنه غريب جدًّا» [ترقيم الرساله 8871] [ترقيم الشركة 8763] [ترقيم العلميه 8658]
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
حدیث نمبر: 8872
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا عمرو بن محمد العَنقَزي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، أخبرني عمّار الدُّهْني، عن أبي الطُّفَيل، عن محمد ابن الحنفيّة قال: كنا عند عليٍّ فسأله رجلٌ عن المَهْدي، فقال علي: هَيْهاتَ، ثم عَقَدَ بيده سبعًا، فقال: ذاك يخرجُ في آخر الزمان؛ إذا قال الرجل: اللهُ اللهُ، قُتِلَ، فَيَجمَعُ الله تعالى له قومًا قَزَعًا (1) كَفَزَعِ السَّحاب، يؤلِّفُ الله بين قلوبهم، لا يَستوحِشون إلى أحدٍ ولا يفرَحون بأحدٍ يدخل فيهم، على عِدَّة أصحاب بَدْر، لم يَسبِقْهم الأوَّلون ولا يُدرِكُهم الآخِرون، وعلى عَدَد أصحابِ طالوتَ الذين جازُوا معه النهرَ. قال أبو الطُّفيل: قال ابن الحنفيَّة: أتريدُه؟ قلت: نعم، قال: إنه يخرج من بين هذين الخَشَبتين (1) ، قلت: لا جَرَمَ واللهِ لا أَرِيمُهما (2) حتى أموتَ، فمات بها. يعني مكة، حَرسها الله (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8659 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8659 - على شرط البخاري ومسلم
محمد ابن الحنفیہ (سیدنا علی کے فرزند) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے ان سے 'مہدی' کے بارے میں سوال کیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ کہاں! (ابھی اس کا وقت نہیں)“ پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے سات (زمانوں یا مدتوں) کی گرہ لگائی اور فرمایا: ”وہ آخری زمانے میں اس وقت نکلے گا جب (حالت یہ ہوگی کہ) اگر کوئی شخص 'اللہ اللہ' کہے گا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ اس (مہدی) کے لیے ایسی قوم کو جمع فرمائے گا جو بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح (مختلف جگہوں سے آ کر) اکٹھی ہو جائے گی، اللہ ان کے دلوں میں ایسی الفت پیدا کر دے گا کہ وہ نہ تو کسی (کے چلے جانے) سے وحشت محسوس کریں گے اور نہ ہی کسی کے ان میں شامل ہونے پر (دنیاوی بنیاد پر) خوش ہوں گے۔ ان کی تعداد اصحابِ بدر کے برابر (313) ہوگی، نہ ان سے پہلے والے ان سے آگے بڑھ سکے اور نہ بعد والے ان کے مرتبے کو پہنچ سکیں گے، اور ان کی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کے برابر ہوگی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی تھی۔“ ابوطفیل کہتے ہیں کہ ابن الحنفیہ نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اسے دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے (مکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا: وہ ان دو لکڑیوں (یا ستونوں) کے درمیان سے نکلے گا، ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا کہ اللہ کی قسم! میں موت تک ان دونوں کو نہیں چھوڑوں گا، چنانچہ وہیں ان کی وفات ہوئی۔ (مکہ مراد ہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8872]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8872]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل يونس بن أبي أسحاق، فإنه صدوق يَهِمُ» [ترقيم الرساله 8872] [ترقيم الشركة 8764] [ترقيم العلميه 8659]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل يونس بن أبي أسحاق