المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
136. الْحَرْبَ لَنْ تَضَعَ أَوْزَارَهَا حَتَّى تَكُونَ سِتٌّ
جنگ اپنے ہتھیار اس وقت تک نہیں ڈالے گی جب تک چھ نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں
حدیث نمبر: 8867
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى ومحمد بن بشّار قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن النُّعمان بن سالم قال: سمعت يعقوبَ بن عاصم بن مسعود قال: سمعت رجلًا قال لعبد الله بن عمرو: إنك تقول: إنَّ الساعة تقومُ إلى كذا وكذا، فقال: لقد هَمَمتُ أن لا أحدِّثَكم بشيءٍ، إنما قلتُ لكم: تَرَونَ بعد قليلٍ أمرًا عظيمًا، فكان تحريقُ البيت - قال شعبة: [هذا أو نحوه] (1) - قال عبد الله بن عمرو: قال رسول الله ﷺ:"يخرجُ الدَّجالُ في أمّتى فيمكُثُ فيهم أربعين" - لا أدري يومًا، أو أربعين عامًا، أو أربعين ليلةً، أو أربعين شهرًا -"فيبعثُ الله عيسى ابن مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بن مسعودٍ الثَّقفي، فيطلبه فيُهلِكُه، ثم يَمكُثُ أناسٌ بعدَه سنينَ ليس بين اثنين عداوةٌ، ثم يرسلُ الله ريحًا من قِبَلِ الشام، فلا يبقى أحدٌ في قلبِه مِثقالُ ذَرَّةٍ من إيمان إلَّا قَبَضَته، حتى لو كان أحدُكم في كَبِدِ جبلٍ لدَخَلَت عليه - قال عبد الله: سمعتُها من رسول الله ﷺ فيبقى شِرارُ الناسِ في خِفَّةِ الطير وأحلامِ السِّباع، لا يَعرِفون معروفًا ولا يُنكِرون مُنكرًا، فيتمثَّلُ لهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبون؟! ويأمرُهم بالأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارَّةٌ أرزاقُهم، حسنٌ عيَشُهم، ويُنفَخُ في الصُّور فلا يسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغى، وأولُ من يسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضه فيَصعَقُ، ثم لا يبقى أحدٌ إِلَّا صَعِقَ، ثم يُرسِلُ الله - أو يُنزل الله - مطرًا كأنه الطَّلُّ - أو الظِّلُ، النعمانُ الشاكُّ - فتَنبُت أجسادُهم، ثم يُنفَخُ فيه أخرى فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، ثم قال: هَلُمُّوا إلى ربكم وقِفُوهم إنهم مسؤولون، ثم يقال: أَخرِجوا بَعْثَ النارِ، فيقال: كم؟ فيقال: من كلٍّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةَ وتسعين، فيومئذٍ يُبعَثُ الولدان شيبًا، ويومئذٍ يُكشَفُ عن ساقٍ" (1) . قال محمد بن جعفر: حدَّثَني بهذا الحديث شعبةُ مرّاتٍ وعَرَضتُه عليه مراتٍ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
یعقوب بن عاصم بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہا: تم وقوع قیامت کے بارے میں بیان کرتے ہو، انہوں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تمہیں کچھ بھی بیان نہ کروں، میں نے تو تمہیں کچھ باتیں بتائی ہیں کہ تم کچھ ہی عرصہ بعد بہت بڑا حادثہ دیکھو گے جس میں بیت اللہ کو جلانا بھی شامل ہو گا۔ سیدنا شعبہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی کہ میری امت میں دجال نکلے گا، اور وہ ان میں چالیس تک رہے گا، مجھے یہ علم نہیں ہے کہ چالیس دن، یا چالیس راتیں ہوں گی یا چالیس مہینے یا چالیس سال ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرمائے گا، وہ عروہ بن مسعود ثقفی سے ملتے جلتے ہوں گے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اس کو ڈھونڈ کر قتل کر ڈالیں گے، اس کے بعد کچھ عرصہ ایسا گزرے گا کہ لوگوں میں آپس کی عداوتیں بالکل ختم ہو جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی جانب سے ایک ہوا چلائے گا، اس ہوا کی وجہ سے وہ تمام لوگ مر جائیں گے جن کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو گا، حتی کہ کوئی شخص اگر کسی غار میں موجود ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچ جائے گی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ سب بدکار اور بے حیاء لوگ رہ جائیں گے۔ جو پرندوں کی طرح ہلکے ہوں گے لیکن درندہ صفت ہوں گے، یہ لوگ نیکی کو نیکی نہیں سمجھیں گے، اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھیں گے، شیطان انسانی شکل میں ان کے پاس آ کر کہے گا: تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ پھر وہ ان کو بتوں کی عبادت کا حکم دے گا، لوگ بتوں کی عبادت کرنے لگ جائیں گے، ان لوگوں کا رزق وسیع ہو گا اور پرتعیش زندگی گزار رہے ہوں گے، پھر صور پھونکا جائے گا، صور کی آواز کو جو بھی سنے گا وہ جھک کر دوبارہ اٹھے گا، سب سے پہلے جو شخص صور کی آواز سنے گا، وہ ایسا آدمی ہو گا جو اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا، وہ آواز سنتے ہی بے ہوش ہو جائے گا، اس کے بعد باقی لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ سائبان کی طرح ان پر بارش فرمائے گا، ان کے جسم دوبارہ تازہ ہو جائیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے، پھر کہا جائے گا: ان کو اپنے رب کی جانب لاؤ، اور ان کو وہاں پر کھڑے کرو، کہ ان سے سوالات کئے جائیں، پھر کہا جائے گا کہ دوزخیوں کو الگ کیا جائے، فرشتہ پوچھے گا: کتنے لوگ؟ کہا جائے گا: ہر ایک ہزار میں سے 999۔ اس دن بچے جوان ہو جائیں گے۔ اور اسی دن اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق کشف ساق فرمائے گا۔ محمد بن جعفر کہتے ہیں: یہ حدیث شعبہ نے کئی مرتبہ مجھے سنائی اور میں نے کئی مرتبہ ان کو سنائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8867]
حدیث نمبر: 8868
أخبرني أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهرانَ، حدثني أَبي، حدثنا أبو الطاهر وأبو الرَّبيع المِصْريّان قالا: حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن شُرَيح، عن رَبيعة بن سيف (2) المَعافِري، عن إسحاق بن عبد الله: أنَّ عوف بن مالك الأشجعيَّ أتى رسولَ الله ﷺ في فتح له فَسَلَّم عليه، ثم قال: هنيئًا لك يا رسولَ الله، قد أعزَّ اللهُ نصرَك، وأظهرَ دينَك، ووَضَعَت الحربُ أوزارَها بجرَانِها، قال: ورسولُ الله ﷺ في قُبَّةٍ من أَدَمٍ، فقال:"ادخُلْ يا عوفُ" فقال: أدخلُ كُلِّي أو بَعْضي؟ فقال:"ادخُلْ كلُّك" فقال:"إنَّ الحرب لن تضعَ أوزارَها حتى تكونَ ستٌّ، أَوّلُهنَّ موتي" فبكى عوفٌ، قال رسول الله ﷺ:"قُلْ: إحدى، والثانيةُ فتحُ بيتِ المَقدِس، والثالثةُ فتنةٌ تكون في الناس كعُقَاصِ (1) الغنم، والرابعةُ فتنةٌ تكون في الناس لا يبقى أهلُ بيتٍ إِلَّا دَخَل عليهم نَصيبُهم منها، والخامسةُ يولدُ في بني الأصفر غلامٌ من أولاد الملوك، يَشِبُّ في اليوم كما يَشِبُّ الصبيُّ في الجمعة، ويَشِبُّ في الجمعة كما يَشِبُّ الصبيُّ في الشهر، ويَشِبُّ في الشهر كما يَشِبُّ الصبيُّ في السنة، فما بلغ اثنتي عشرةَ سنةً ملَّكوه عليهم، فقام بين أظهُرِهم فقال: إلى متى يَغلِبُنا هؤلاءِ القومُ على مكارمِ أرضنا؟! إني رأيت أن أسيرَ إليهم حتى أُخرِجَهم منها، فقام الخطباءُ فحسَّنوا له رأيَه (2) ، فبَعَثَ في الجزائر والبرِّيّة بصَنْعةِ السُّفن، ثم حَمَل فيها المقاتِلةَ حتى ينزلَ بين أنطاكيَةَ والعَريش". قال ابن شُرَيح: فسمعت من يقول: إنهم اثنا عشرَ غَيَايةً (3) ، تحت كل غَيَايَةٍ اثنا عشر ألفًا، فيجتمع المسلمون إلى صاحبِهم ببيت المَقدِس، وأَجمَعوا في رأيهم أن يسيروا إلى مدينة الرسول ﷺ حتى تكون مسالحُهم بالسَّرْح وخيبرَ. قال ابن أبي جعفر (4) : قال رسول الله ﷺ:"يُخرِجوا أمّتي من مَنابتِ الشِّيح". قال: وقال الحارث بن يزيد: إنهم سيُقيمون (5) فيما هنالك، فيَفِرُّ منهم الثُّلثُ، ويُقتَل منهم الثلثُ، فيَهزِمُهم الله ﷿ بالثلث الصابر. وقال خالد بن يزيد: يومئذٍ يَضْرِبُ والله بسيفه، ويَطعُنُ برمحِه، ويَتبَعُه المسلمون حتى يَبلُغوا المَضِيقَ الذي عند القُسطنطِينيَّة، فيجدونه قد يَبسَ ماؤُه فيُجِيزون إلى المدينة حتى يَنزِلوا بها، فيَهِدمُ الله جُدرانَهم بالتكبير ثم يَدخُلونها عليهم، فيَقسِمون أموالَهم بالأترِسَة. وقال أبو قَبِيل المَعافِري: فبينما هم على ذلك، إذْ جاءهم راكبٌ فقال: أنتم هاهنا والدَّجالُ قد خالَفَكم في أهلِيكم؛ وإنما كانت كَذِبةً، فمن سَمِعَ العلماءَ في ذلك أقام على ما أصابه، وأمّا غيرُهم فانفَضُّوا، ويكون المسلمون يَبنُون المساجدَ في القُسطنطِينيّة ويَغزُون وراءَ ذلك حتى يخرجَ الدجالُ، السادسةُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8655 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8655 - فيه انقطاع
اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، سلام عرض کرنے کے بعد فتح کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و نصرت عطا فرما کر آپ کی عزت افزائی فرمائی ہے اور آپ کے دین کو غالب کیا ہے، اور جنگ مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے خیمے میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عوف، اندر آ جاؤ، سیدنا عوف نے کہا: پورا اندر آ جاؤں یا تھوڑا سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورے ہی اندر آ جاؤ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک 6 امور وقوع پذیر نہیں ہو جائیں گے، * ان میں سب سے پہلے میری موت ہے۔ یہ سن کر سیدنا عوف رضی اللہ عنہ رو پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: ایک۔ * اور دوسرا واقعہ بیت المقدس کی فتح کا ہے۔ * تیسرا لوگوں میں ایک فتنہ ہو گا۔ جو کہ بھیٹر بکریوں کی وبائی امراض میں موت کی مانند ہو گا۔ * چوتھا، لوگوں میں ایک فتنہ ہو گا جسکا حصہ ہر گھر میں داخل ہو گا۔ * پانچواں، بنی الاصفر میں ایک بچہ پیدا ہو گا جو کہ بادشاہوں کی اولاد ہو گا، وہ ایک دن میں اتنا بڑا ہو گا جتنا عام بچے ایک ہفتے میں بڑھتے ہیں، اور وہ ایک ہفتے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک مہینے میں بڑھتے ہیں، اور وہ ایک مہینے میں اتنا بڑھے گا جتنا عام بچے ایک سال میں بڑھتے ہیں، جب وہ 12 سال کا ہو جائے گا تو اس کو اپنا حکمران بنا لیں گے، وہ ان لوگوں کے درمیان کھڑا ہو کر کہے گا۔ یہ لوگ ہماری سرزمین پر کب تک ہم پر غالب رہیں گے؟ میرا خیال ہے کہ ہم ان پر چڑھائی کریں اور ان کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں، خطباء کھڑے ہو کر اس کی رائے کی تائید کریں گے، یہ خشکی میں اور جزیروں میں بحری بیڑے بھیجے گا، ان میں جنگ کرے گا، اور انطاکیہ اور عریش کے درمیان ایک ساحل پر وہ رکے گا، ابن شریح کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان کے 12 جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے 12 ہزار کا لشکر ہو گا، مسلمان اپنے ساتھی کے پاس بیت المقدس میں جمع ہوں گے، اور سب متفقہ فیصلہ کریں گے کہ ہمیں مدینہ منورہ چلے جانا چاہئے، تاکہ ان کی سرحدیں مقام سرح اور خیبر تک پہنچ جائیں، ابن ابی جعفر کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کو شیح (نامی گھاس) کے اگنے کے مقام (یعنی عرب) سے نکالا جائے گا، انہوں نے ہی یا حارث بن زید نے کہا: یہ لوگ وہاں پر قیام کریں گے، وہاں سے ایک تہائی لوگ بھاگ جائیں گے، ایک تہائی لوگ جنگ کریں گے، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والے تیسرے حصے کی وجہ سے ان کو شکست دے گا۔ خالد بن یزید کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ شخص اس دن اپنی تلوار کے ساتھ جنگ کرے گا، اپنے نیزے استعمال کرے گا، مسلمان اس کا تعاقب کریں گے، حتی کہ قسطنطنیہ کے قریب مضیق کے مقام پر پہنچ جائیں گے، وہاں کا پانی خشک ہو چکا ہو گا، یہ لوگ شہر کا رخ کریں گے اور وہاں آ کر ٹھہر جائیں گے، تکبیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی دیواریں گرا دے گا، پھر یہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے اور اپنا مال ڈھال سے تقسیم کریں گے۔ ابوقبیل معافری کہتے ہیں، اسی اثناء میں ان کے پاس ایک سوار آئے گا اور کہے گا: تم یہاں پر ہو اور ادھر دجال نے تمہارے گھر والوں میں تمہاری مخالفت شروع کر رکھی ہے، یہ سراسر جھوٹ ہو گا۔ جس شخص نے علماء سے اس بارے میں سن رکھا ہو گا وہ ثابت قدم رہے گا، جبکہ دیگر لوگ وہاں سے بھاگ نکلیں گے اور مسلمان قسطنطنیہ میں مساجد تعمیر کریں گے اور وہاں پر جہاد کریں گے، حتی کہ دجال ظاہر ہو گا اور یہ چھٹی نشانی ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8868]
حدیث نمبر: 8869
أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل، حدثنا أبي، حدثنا أبو الطاهر وأبو الرَّبيع قالا: حدثنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن شُرَيح، عن بكر بن عمرو (2) المَعافِري، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشجِّ، عن كُرَيب مولى ابن عباس: أنه كان مع ابن عبّاس ومعه ابن الزُّبير في نَفَرٍ، فدخل عليهم أبو هريرة فقال: مُوتُوا فقال ابن الزُّبير: يا أبا هريرة، الدِّينُ قائم، والجهادُ قائم، والصلاةُ والزكاةُ والحجُّ وصيامُ رمضان، قال أبو هريرة: أنْ تموتَ قبل أن تُدرِكَ (3) ما لا يستطيع المحسنُ أن يزيدَ إحسانًا، ولا يستطيع المسيءُ أن يَنزِعَ عن إساءَتِه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8656 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8656 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سیدنا کریب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھے اور ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ایک وفد کے ہمراہ موجود تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، اور کہا: تم مر جاؤ۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا، دین قائم ہے، جہاد قائم ہے، نماز، زکاۃ، حج اور رمضان کے روزے قائم ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس وقت سے پہلے مر جاؤ، جب نیکوکار، نیکی میں اضافہ نہ کر سکے اور گنہگار اپنے گناہ سے نہ نکل سکے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8869]