🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ الْحَسَنَاتِ فَيُحْمَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَوْزَارِ
قیامت کے دن جب نیکیاں باقی نہیں رہیں گی تو (دوسروں کے) گناہ لاد دیے جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8932
أخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا صَدَقةُ بن موسى، عن أبي عمران الجَوْني، عن يزيد بن بابَنُوس، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"الدَّواوينُ ثلاثةٌ، فديوانٌ لا يَغْفِرُ الله منه شيئًا، وديوانٌ لا يَعبَأ الله به شيئًا، وديوانٌ لا يَترُكُ الله منه شيئًا، فأما الديوانُ الذي لا يَغْفِرُ الله منه شيئًا، فالإشراكُ بالله، قال الله ﷿: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء: 48] ، وأما الديوانُ الذي لا يَعبَأُ الله به شيئًا قطُّ، فظُلمُ العبد نفسه فيما بينه وبين ربِّه، وأما الديوانُ الذي لا يَتُرك الله منه شيئًا، فمظالمُ العبادِ بينهم، القِصاصُ لا مَحالةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8717 - صدقة ضعفوه وابن بابنوس فيه جهالة
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رجسٹر تین طرح کے ہوں گے۔ * ایک رجسٹر ایسا ہو گا جس میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائے گا۔ * ایک رجسٹر ایسا ہو گا جس سے اللہ تعالیٰ کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا۔ * ایک رجسٹر ایسا ہو گا جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا۔ جس رجسٹر میں سے کچھ بھی معاف نہیں کرے گا، وہ شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے، جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور وہ رجسٹر جس کی اللہ تعالیٰ کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا، یہ بندے کا اپنی ذات پر کیا ہوا وہ ظلم ہے جو صرف اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔ اور وہ رجسٹر جس میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑے گا، وہ بندوں کے ایک دوسرے پر کئے ہوئے ظلم ہیں، ان کا قصاص لازمی ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8932]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8933
حدثنا أبو منصور محمد بن القاسم العَتَكي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، أخبرنا عبَّاد بن شَيْبة الحَبَطي، عن سعيد بن أنس، عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ جالسٌ إذ رأيناه ضَحِكَ حتى بَدَتْ ثَناياه، فقال له عمر ما أضحَكَك يا رسولَ الله بأبي أنت وأمِّي؟ قال:"رجلانِ من أمَّتي جَثَيَا بين يَدَيْ ربِّ العِزَّة، فقال أحدُهما: يا ربِّ، خُذْ لي مَظْلِمَتي من أخي، فقال الله ﵎ للطالب: فكيف تَصنعُ بأخيك ولم يَبْقَ من حسناته شيءٌ؟ قال: يا ربِّ، فليَحمِلْ من أَوزاري، قال: وفاضت عَيْنا رسولِ الله ﷺ بالبكاء، ثم قال:"إِنَّ ذاكَ اليومَ عظيمٌ، يحتاج الناسُ أن يُحمَلَ عنهم من أَوزارِهم، فقال الله للطالب: ارفَعْ بصرَك فانظُرْ في الجِنَان، فرفع رأسَه فقال: يا ربِّ، أَرى مدائنَ من ذهبٍ وقُصورًا من ذهب مُكلَّلةٌ (2) باللؤلؤ، لأيِّ نبيٍّ هذا، أو لأيِّ صِدِّيق هذا، أو لأيِّ شهيدٍ هذا؟ قال: هذا لمن أَعطى الثَّمنَ، قال: يا ربِّ، ومن يَملِكُ ذلك؟ قال: أنت تَملِكُه، قال: بماذا؟ قال: بعَفْوِك عن أخيك، قال: يا ربِّ، فإني قد عَفَوتُ عنه، قال الله ﷿: فخُذْ بيدِ أخيك فأَدخِلْه الجنةَ"، فقال رسول الله ﷺ عند ذلك:"اتَّقُوا الله وأَصلحوا ذاتَ بينِكم، فإنَّ الله يُصلِحُ بين المسلمين" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس رہے تھے، حتی کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو آدمی ہیں جو کہ اپنے رب کے سامنے پاؤں کی انگلیوں کے بل کھڑے ہوں گے، ان میں سے ایک کہے گا: اے میرے رب! میرے بھائی سے میرے ظلم کا بدلہ لے، اللہ تبارک و تعالیٰ اس طالب سے فرمائے گا: تو اپنے بھائی کے ساتھ اب کیا کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس کی تو اب کوئی نیکی باقی نہیں بچی ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! میرے گناہ اس کے اوپر ڈال دیئے جائیں، یہ فرما کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، پھر فرمایا: وہ دن بہت عظیم ہے، اس دن لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ان کے بوجھ ان سے ہلکے کئے جائیں، اللہ تعالیٰ طالب سے فرمائے گا: اپنی نگاہ اٹھاؤ اور جنت میں دیکھو، وہ آدمی اپنا سر اٹھائے گا اور دیکھ کر بولے گا: یا اللہ میں سونے کے شہر اور سونے کے بنے ہوئے محلات دیکھ رہا ہوں، وہ محلات کس نبی کے ہیں؟ یا یہ کس صدیق کے ہیں؟ یا یہ کسی شہید کے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ اس کے لئے ہے جس نے ثمن خرچ کیا، وہ کہے گا: یا اللہ اس کا کون مالک ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم بھی اس کے مالک بن سکتے ہو، وہ پوچھے گا: یا اللہ وہ کیسے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اپنے بھائی کو معاف کر کے، وہ کہے گا: یا اللہ میں نے اس کو معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اپنے بھائی کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کو جنت میں لے جاؤ، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اپنے درمیان صلح رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے درمیان صلح چاہتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8933]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8934
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا عبد الله بن بَحِير، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: سمعت ابنَ عمر يقول: قال رسول الله ﷺ:"من سَرَّه أن يَنظُرَ إلى يوم القيامة كأنه رأيُ عينٍ، فليقرأ: ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ و ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ﴾ و ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8719 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی قیامت کا منظر نامہ اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہو، وہ سورت اذا الشمس کورت اور سورت اذا السماء انفطرت اور سورت اذا السماء انشقت پڑھ لیا کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8934]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں