المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. أَهْوَنُ النَّاسِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ
سب سے ہلکے عذاب والے انسان ابوطالب ہیں
حدیث نمبر: 8950
فحدَّثَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ (1) الحافظُ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمّاد، حدثنا ثابت البُنَاني، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"أهونُ الناسِ عذابًا أبو طالبٍ، وفي رِجليهِ نَعلانِ من نارٍ يَغْلي منهما دِماغُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه! إِنَّما اتفقا على حديثِ عبد الملك بن عُمَير عن عبد الله بن الحارث عن العباس قال: قلت: يا رسول الله، إنَّ أبا طالبٍ كان يَحُوطُك ويَمنعُك ويغضبُ لك، فهل نفعتَه؟ قال:"قد وجدتُه في غَمَراتٍ من النار، فأخرجتُه إلى ضَحْضَاحٍ" (3) . وحديثِ يزيدَ بن الهادِ عن عبد الله بن حبَّاب عن أبي سعيدٍ: أنه سمع رسول الله ﷺ وذُكِرَ عنده عمُّه أبو طالب، فقال:"لعلَّه أن تَنفعَه شفاعتي يومَ القيامة فيُجعَلَ في ضَحْضَاحِ من النار يَبلُغ كَعَبَيهِ يَغْلي منه دماغُه" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8735 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه! إِنَّما اتفقا على حديثِ عبد الملك بن عُمَير عن عبد الله بن الحارث عن العباس قال: قلت: يا رسول الله، إنَّ أبا طالبٍ كان يَحُوطُك ويَمنعُك ويغضبُ لك، فهل نفعتَه؟ قال:"قد وجدتُه في غَمَراتٍ من النار، فأخرجتُه إلى ضَحْضَاحٍ" (3) . وحديثِ يزيدَ بن الهادِ عن عبد الله بن حبَّاب عن أبي سعيدٍ: أنه سمع رسول الله ﷺ وذُكِرَ عنده عمُّه أبو طالب، فقال:"لعلَّه أن تَنفعَه شفاعتي يومَ القيامة فيُجعَلَ في ضَحْضَاحِ من النار يَبلُغ كَعَبَيهِ يَغْلي منه دماغُه" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8735 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا، ان کے پیروں میں آگ کے دو جوتے ہوں گے جن کی تپش سے ان کا دماغ کھول رہا ہوگا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) کا اتفاق تو محض عبدالملک بن عمیر کی اس حدیث پر ہے جو انہوں نے عبداللہ بن حارث سے، انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یقیناً ابوطالب آپ کی حفاظت کرتے تھے، آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غصہ ہوتے تھے، تو کیا آپ نے انہیں کوئی فائدہ پہنچایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے انہیں آگ کی گہرائیوں میں پایا تو انہیں نکال کر آگ کے کم گہرے حصے میں کر دیا۔“ اور یزید بن ہاد کی حدیث جو عبداللہ بن حباب کے واسطے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید قیامت کے دن میری شفاعت انہیں نفع دے اور انہیں جہنم کے ایک کم گہرے حصے میں رکھ دیا جائے جو ان کے ٹخنوں تک پہنچے اور اس کی تپش سے ان کا دماغ کھول رہا ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8950]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا! ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) کا اتفاق تو محض عبدالملک بن عمیر کی اس حدیث پر ہے جو انہوں نے عبداللہ بن حارث سے، انہوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یقیناً ابوطالب آپ کی حفاظت کرتے تھے، آپ کا دفاع کرتے تھے اور آپ کی خاطر غصہ ہوتے تھے، تو کیا آپ نے انہیں کوئی فائدہ پہنچایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے انہیں آگ کی گہرائیوں میں پایا تو انہیں نکال کر آگ کے کم گہرے حصے میں کر دیا۔“ اور یزید بن ہاد کی حدیث جو عبداللہ بن حباب کے واسطے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید قیامت کے دن میری شفاعت انہیں نفع دے اور انہیں جہنم کے ایک کم گہرے حصے میں رکھ دیا جائے جو ان کے ٹخنوں تک پہنچے اور اس کی تپش سے ان کا دماغ کھول رہا ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8950]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8950] [ترقيم الشركة 8841] [ترقيم العلميه 8735]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح