🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. كَشْفُ سَاقِ اللَّهِ وَسُجُودُ الْعِبَادِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن اللہ کی پنڈلی کا ظاہر ہونا اور بندوں کا سجدہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8950
فحدَّثَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ (1) الحافظُ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمّاد، حدثنا ثابت البُنَاني، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"أهونُ الناسِ عذابًا أبو طالبٍ، وفي رِجليهِ نَعلانِ من نارٍ يَغْلي منهما دِماغُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه! إِنَّما اتفقا على حديثِ عبد الملك بن عُمَير عن عبد الله بن الحارث عن العباس قال: قلت: يا رسول الله، إنَّ أبا طالبٍ كان يَحُوطُك ويَمنعُك ويغضبُ لك، فهل نفعتَه؟ قال:"قد وجدتُه في غَمَراتٍ من النار، فأخرجتُه إلى ضَحْضَاحٍ" (3) . وحديثِ يزيدَ بن الهادِ عن عبد الله بن حبَّاب عن أبي سعيدٍ: أنه سمع رسول الله ﷺ وذُكِرَ عنده عمُّه أبو طالب، فقال:"لعلَّه أن تَنفعَه شفاعتي يومَ القيامة فيُجعَلَ في ضَحْضَاحِ من النار يَبلُغ كَعَبَيهِ يَغْلي منه دماغُه" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8735 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا، اور وہ یہ ہو گا کہ ان کو آگ کی جوتیاں پہنا دی جائیں گی جس کی وجہ سے ان کا دماغ اہل رہا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالملک بن عمیر کی عبداللہ بن حارث کے واسطے سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث نقل کی ہے (آپ فرماتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطالب تو آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے، آپ کا دفاع کیا کرتے تھے اور آپ کی وجہ سے پورے عرب پر غصہ ہوتے تھے، کیا آپ کی ذات سے بھی ان کو کوئی فائدہ پہنچا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان کو دوزخ کی گہرائی میں پایا تو ان کو وہاں سے ہلکے عذاب کی جانب نکال لیا۔ اور یزید بن الہاد نے عبداللہ بن حباب کے واسطے سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ابوطالب کا ذکر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ قیامت کے دن ان کو میری شفاعت کام آ جائے، اس لئے ان کو سخت تیز آگ سے نکال کر تھوڑی آگ میں رکھ لیا گیا ہے، آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہے جس کی وجہ سے ان کا دماغ ابل رہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8950]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں