المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. كَشْفُ سَاقِ اللَّهِ وَسُجُودُ الْعِبَادِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن اللہ کی پنڈلی کا ظاہر ہونا اور بندوں کا سجدہ کرنا
حدیث نمبر: 8951
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وأبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل قالا: حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن سعد، حدثنا زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قلت: يا رسول الله، هل نرى ربَّنا يوم القيامة؟ قال:"هل تُضارُّونَ (1) في رُؤية الشمس بالظَّهيرة صَحْوًا ليس فيها سحابٌ؟" فقلنا: لا يا رسول الله، قال:"فهل تُضارُّون في رُؤية القمر في ليلة البَدْر صَحْوًا ليس فيه سحاب؟ قلنا: لا، قال:"ما تُضارون في رؤيته يومَ القيامة إلَّا كما تُضارُّون في رؤية أحِدهما. إذا كان يومُ القيامة نادى منادٍ: أَلَا لِتَلحَقُ كلُّ أُمَّةٍ بما كانت تعبدُ، فلا يبقى أحدٌ كان يعبد صنمًا ولا وَثَنًا ولا صورةً إلَّا ذهبوا حتى يَتساقَطُوا في النار، ويبقى مَن كان يعبدُ الله وحدَه من بَرٍّ وفاجرٍ، وغُبَّراتُ (2) أهلِ الكتاب، ثم تُعرَض جهنَّمُ كأنها سَرَابٌ يَحطِمُ بعضُها بعضًا، ثم يُدعَى اليهود فيقول: ماذا كنتم تَعبُدون؟ فيقولون: عُزَيرَ ابنَ الله، فيقول: كَذَبْتُم، ما اتَّخَذ اللهُ من صاحبةٍ ولا ولد، فما تريدون؟ فيقولون: أي ربَّنا ظَمِئْنا، فيقول: أفلا تَرِدُون، فيذهبون حتى يَتساقَطوا في النار. ثم يُدعَى النصارى، فيقول: ماذا كنتم تَعبُدون؟ فيقولون: المسيحَ ابنَ الله، فيقول: كَذَبْتُم، ما اتَّخَذَ الله من صاحبةٍ ولا ولد، فما تريدون؟ فيقولون: أي ربَّنَا، طَمِئْنا اسقِنا، فيقول: أفلا تَرِدُون، فيذهبون حتى يتَساقَطوا في النار. فيبقى مَن كان يعبدُ الله وحده من بَرٍّ، وفاجرٍ، ثم يَتبَدَّى الله لنا في صورةٍ غيرِ صورته التي كنا رأيَناه فيها أولَ مرّةٍ، فيقول: أيها الناس، لَحِقَت كلُّ أُمَّةٍ بما كانت تعبدُ وبَقِيتُم، فلا يكلِّمُه يومئذٍ إِلَّا الأنبياء، يقولون: فارَقْنا الناسَ في الدنيا ونحن كنا إلى صُحبتِهم فيها أحوجَ، لَحِقَت كلُّ أُمَّةٍ بما كانت تعبدُ، ونحن ننتظرُ ربَّنا الذي كنا نعبدُ، فيقول: أنا ربُّكم، فيقولون: نعوذُ بالله منك، فيقول: هل بينكم وبين الله من آيةٍ تَعرِفونها؟ فيقولون: نَعَم (3) ، فيُكشَفُ عن ساقٍ، فَنَخِرُّ سجودًا (1) أجمعون، ولا يبقى أَحدٌ كان يسجدُ في الدنيا سُمعةً ولا رِياءً ولا نِفاقًا إِلَّا على ظَهْره طَبَقٌ واحدٌ (2) ، كلَّما أراد أن يسجدَ خَرَّ على قَفَاهُ، قال: ثم يَرفَعُ بَرُّنا ومُسيئُنا، وقد عاد لنا في صورتِه التي رأَيناه فيها أولَ مرّةٍ، فيقول: أنا ربُّكم، فيقولون: نَعَم، أنت ربُّنا؛ ثلاثَ مرات. ثم يُضرَبُ الجسرُ على جهنَّم" قلنا: وأيُّما الجسرُ يا رسول الله بأَبينا أنت وأمَّنا؟ قال:"دَحْضُ مَزَلّةٌ، لها كَلاليبِّ وخَطاطيفُ، وحَسَكةٌ بنَجْدٍ عُقَيفاءُ (3) يقال لها: السَّعْدانُ، فيمرُّ المؤمنُ كلَمْح البصر وكالطَّرْف وكالرِّيح وكالطَّير وكأَجاوِد الخيل والمَراكب، فناجٍ مسلَّمٌ، ومخدوشٌ مُرسَل، ومكردسٌ (4) في نار جهنّم، والذي نفسي بيده ما أحدُكم بأشدَّ مُناشدةً في الحقِّ يَراهُ من المؤمنين في إخوانهم إذا رأَوْهم قد خَلَصُوا من النار، يقولون: أيْ ربَّنا، إخوانُنا كانوا يُصلُّون معنا، ويصومون معنا، ويحجُّون معنا، ويجاهدون معنا، قد أخَذَتْهم النارُ، فيقول الله ﵎: اذهَبوا، فمن عرفتُم صورتَه فأخرِجوه، وتُحرَّمُ صُورتُهم على النار، فيَجِدُ الرجلَ قد أخذَتْه النارُ إلى قدميه، وإلى أنصاف ساقيه، وإلى رُكْبتيه، وإلى حَقْوَيهِ (5) ، فيُخرجون منها بَشرًا، ثم يعودون فيتكلَّمون، فلا يزالُ يقول لهم، حتى يقول: اذهَبوا، فأخرِجوا من وجدتُم في قلبه مثقالَ ذرَّةٍ (6) فأَخرِجوه - فكان أبو سعيد إذا حدَّث بهذا الحديث يقول: إن لم تصدِّقوا فاقرؤوا: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: 48] - فيقولون: ربَّنا لم نَذَرْ فيها خيرًا، فيقول: هل بقي إلَّا أرحمُ الراحمين، قد شَفَعَت الملائكةُ وشَفَعَ الأنبياء، فهل بقيَ إلَّا أرحمُ الراحمين قال: فيَأخذُ قَبْضةً من النار فيُخرِجُ قومًا قد عادوا حُمَمةٌ (1) ، لم يَعمَلوا له عمل خيرٍ قَطُّ، فيُطرَحون في نهرٍ يقال له: نهرُ الحَيَاة، فيَنبُتون فيه -والذي نفسي بيدِه- كما تَنبُت الحِبَّةُ في حَمِيل السَّيل (2) ، ألم تَرَوْها وما يَليها من الظِّلِّ أصفرُ، وما يَلِيها من الشمس أخضرُ؟! قال: قلنا: يا رسول الله، كأنك تكونُ في الماشيةِ؟! قال:"يَنبُتون كذلك، فيَخرُجون أمثالَ اللؤلؤ، يُجعَل في رِقابِهم الخواتيمُ ثم يُرسَلون في الجنة، فيقول أهل الجنة: هؤلاءِ الجَهنَّميُّون، هؤلاء الذين أخرَجَهم من النار بغير عمل عَمِلوه، ولا خيرٍ قَدَّموه، يقول الله تعالى: خُذُوا، فلكم ما أَخذتُم، فيَأخُذون حتى يَنتَهُوا، ثم يقولون: لن يعطيَنا اللهُ ﷿ ما أَخَذْنا، فيقول الله ﵎: فإنِّي أعطَيتُكم أفضلَ مما أخَذتُم، فيقولون: ربَّنا، وما أفضلُ من ذلك وممّا أخَذْنا؟ فيقول: رضواني بلا سَخَطٍ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة! إنما اتَّفقا على حديث الزهري عن سعيد بن المسيّب وعطاء بن يزيد اللَّيْثي عن أبي هريرة مختصرًا (1) ، وأخرج مسلمٌ وحدَه حديثَ عبد الرزاق عن مَعمَر عن زيد بن أسلمَ عن عطاء بن يَسَارٍ عن أبي سعيد بأقلَّ من نصف هذه السِّياقة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة! إنما اتَّفقا على حديث الزهري عن سعيد بن المسيّب وعطاء بن يزيد اللَّيْثي عن أبي هريرة مختصرًا (1) ، وأخرج مسلمٌ وحدَه حديثَ عبد الرزاق عن مَعمَر عن زيد بن أسلمَ عن عطاء بن يَسَارٍ عن أبي سعيد بأقلَّ من نصف هذه السِّياقة (2) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں دوپہر کے وقت صاف آسمان میں سورج کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے جب بادل نہ ہوں؟“ ہم نے عرض کی: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا چودہویں رات کے چاند کو صاف آسمان میں دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے جب بادل نہ ہوں؟“ ہم نے عرض کی: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں قیامت کے دن اسے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں ہوتی ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی آواز دے گا: سن لو! ہر امت اس کے ساتھ مل جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔ تو کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جو کسی بت یا مورت یا تصویر کی عبادت کرتا تھا، مگر وہ سب جائیں گے یہاں تک کہ جہنم میں گر پڑیں گے۔ اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، اور اہل کتاب کے کچھ بچے کھچے لوگ۔ پھر جہنم ان کے سامنے لائی جائے گی گویا وہ ایک سراب ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو توڑ رہا ہے۔ پھر یہود کو بلایا جائے گا تو وہ (اللہ) فرمائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”عزیر کی جو اللہ کے بیٹے ہیں۔“ تو وہ فرمائے گا: ”تم نے جھوٹ بولا ہے، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا۔ اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں۔“ تو وہ فرمائے گا: ”کیا تم پانی پینے نہیں جاؤ گے؟“ تو وہ جائیں گے یہاں تک کہ جہنم میں گر پڑیں گے۔ پھر نصاریٰ کو بلایا جائے گا تو وہ فرمائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”مسیح کی جو اللہ کے بیٹے ہیں۔“ تو وہ فرمائے گا: ”تم نے جھوٹ بولا ہے، اللہ نے نہ کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا۔ اب تم کیا چاہتے ہو؟“ وہ عرض کریں گے: ”اے ہمارے رب! ہم پیاسے ہیں، ہمیں پانی پلا دے۔“ تو وہ فرمائے گا: ”کیا تم پانی پینے نہیں جاؤ گے؟“ تو وہ جائیں گے یہاں تک کہ جہنم میں گر پڑیں گے۔ پس صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمارے سامنے اس صورت کے علاوہ کسی اور صورت میں تجلی فرمائے گا جس میں ہم نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ وہ فرمائے گا: ”اے لوگو! ہر امت اس کے ساتھ مل گئی ہے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور صرف تم باقی رہ گئے ہو۔“ پس اس دن اس سے انبیاء کے سوا کوئی بات نہیں کرے گا۔ وہ عرض کریں گے: ”ہم نے دنیا میں لوگوں سے علیحدگی اختیار کی حالانکہ ہم ان کی صحبت کے زیادہ محتاج تھے، ہر امت اس کے ساتھ مل گئی جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے اس رب کا انتظار کر رہے ہیں جس کی ہم عبادت کرتے تھے۔“ وہ فرمائے گا: ”میں تمہارا رب ہوں۔“ وہ کہیں گے: ”ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ تو وہ فرمائے گا: ”کیا تمہارے اور اللہ کے درمیان کوئی نشانی ہے جس سے تم اسے پہچان لو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں۔“ پس پنڈلی سے پردہ ہٹا دیا جائے گا، تو ہم سب سجدے میں گر پڑیں گے۔ اور کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جو دنیا میں شہرت، دکھلاوے اور نفاق کے لیے سجدہ کرتا تھا مگر اس کی پیٹھ ایک تختے کی طرح ہو جائے گی، جب بھی وہ سجدہ کرنا چاہے گا تو اپنی گدی کے بل الٹا گر پڑے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ہمارے نیک اور بد سب سر اٹھائیں گے، تو وہ (اللہ) ہمارے سامنے اسی صورت میں لوٹ آئے گا جس میں ہم نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ تین مرتبہ کہیں گے: ہاں، تو ہی ہمارا رب ہے۔ پھر جہنم پر پل بچھایا جائے گا۔“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! وہ پل کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پھسلنے اور لڑکھڑانے کی جگہ ہے، اس پر آنکڑے، کنڈے اور نجد کے کانٹوں جیسے مڑے ہوئے کانٹے ہوں گے جنہیں سعدان کہا جاتا ہے۔ پس مومن اس پر سے آنکھ جھپکنے، پلک مارنے، ہوا، پرندے اور عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزر جائے گا، تو کوئی صحیح سلامت نجات پا جائے گا، کوئی زخمی ہو کر چھوڑ دیا جائے گا اور کوئی جہنم کی آگ میں اوندھے منہ گر پڑے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص اپنے حق کے لیے اتنی سختی سے مطالبہ نہیں کرتا جتنا مومن اپنے ان بھائیوں کے بارے میں اللہ سے سختی سے سفارش کریں گے جب وہ دیکھیں گے کہ وہ خود آگ سے نجات پا گئے ہیں۔ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے اور ہمارے ساتھ جہاد کرتے تھے، انہیں آگ نے پکڑ لیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ، اور جس کی صورت تم پہچانو اسے نکال لو۔ اور ان کی صورتیں آگ پر حرام کر دی جائیں گی، تو کوئی شخص پائے گا کہ آگ نے اسے اس کے قدموں تک، کسی کو آدھی پنڈلی تک، کسی کو گھٹنوں تک اور کسی کو کمر تک پکڑا ہوگا۔ وہ اس میں سے بہت سے لوگوں کو نکال لیں گے۔ پھر وہ دوبارہ عرض کریں گے، تو وہ انہیں مسلسل فرماتا رہے گا یہاں تک کہ فرمائے گا: جاؤ، پس تم جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان پاؤ اسے نکال لو۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تو فرماتے تھے: اگر تم تصدیق نہ کرو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ ”بے شک اللہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دگنا کر دیتا ہے، اور اپنے پاس سے اجرِ عظیم عطا فرماتا ہے۔“ [سورة النساء: 40] (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”پھر وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اس میں کوئی بھلائی (ایمان والا) نہیں چھوڑا۔ تو وہ فرمائے گا: اب ارحم الراحمین کے سوا کون باقی بچا ہے، فرشتوں نے شفاعت کر لی، انبیاء نے شفاعت کر لی، تو اب ارحم الراحمین کے سوا کون باقی بچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ آگ سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایک ایسی قوم کو نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہوں نے اللہ کے لیے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا ہوگا۔ پھر انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے نہرِ حیات کہا جاتا ہے، تو وہ اس میں اس طرح اگیں گے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جس طرح سیلاب کے بہا لائے ہوئے کوڑے کرکٹ میں بیج اگ آتا ہے۔ کیا تم نے اسے نہیں دیکھا کہ اس کا وہ حصہ جو سائے کی طرف ہوتا ہے وہ زرد ہوتا ہے اور جو سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! گویا آپ مویشیوں میں رہے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اسی طرح اگیں گے، پھر وہ موتیوں کی طرح نکلیں گے، ان کی گردنوں میں مہریں ڈالی جائیں گی پھر انہیں جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ تو اہل جنت کہیں گے: یہ جہنمی ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے کسی ایسے عمل کے بغیر جو انہوں نے کیا ہو اور کسی ایسی نیکی کے بغیر جو انہوں نے آگے بھیجی ہو، آگ سے نکالا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: لے لو، پس تم جو کچھ لو گے وہ تمہارا ہے۔ تو وہ لیتے جائیں گے یہاں تک کہ (ان کی خواہشات) ختم ہو جائیں گی۔ پھر وہ کہیں گے: ہم نے جو کچھ لیا ہے اللہ عزوجل اس سے (مزید) ہمیں ہرگز عطا نہیں کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بیشک میں نے تمہیں اس سے بھی بہتر عطا کر دیا ہے جو تم نے لیا ہے۔ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! اس سے اور جو کچھ ہم نے لیا ہے اس سے بہتر کیا ہے؟ تو وہ فرمائے گا: میری رضا کہ جس کے بعد کوئی ناراضی نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا! ان دونوں کا اتفاق تو زہری کی اس حدیث پر ہے جو سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید لیثی سے اور وہ ابوہریرہ سے مختصراً مروی ہے، اور امام مسلم نے اکیلے عبدالرزاق کی حدیث جو معمر سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے اور وہ ابوسعید سے مروی ہے، اس سیاق کے نصف سے بھی کم حصے کے ساتھ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8951]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا! ان دونوں کا اتفاق تو زہری کی اس حدیث پر ہے جو سعید بن مسیب اور عطاء بن یزید لیثی سے اور وہ ابوہریرہ سے مختصراً مروی ہے، اور امام مسلم نے اکیلے عبدالرزاق کی حدیث جو معمر سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ عطاء بن یسار سے اور وہ ابوسعید سے مروی ہے، اس سیاق کے نصف سے بھی کم حصے کے ساتھ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8951]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8951] [ترقيم الشركة 8842]
الحكم على الحديث: حديث صحيح