🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. آخِرُ صَنِيعِ اللَّهِ بِأُنَاسٍ أُخِذُوا بِذُنُوبِهِمْ وَخَطَايَاهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن اپنے گناہوں کی وجہ سے پکڑے جانے والے لوگوں کے ساتھ اللہ کا آخری معاملہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8951
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وأبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل قالا: حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن سعد، حدثنا زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قلت: يا رسول الله، هل نرى ربَّنا يوم القيامة؟ قال:"هل تُضارُّونَ (1) في رُؤية الشمس بالظَّهيرة صَحْوًا ليس فيها سحابٌ؟" فقلنا: لا يا رسول الله، قال:"فهل تُضارُّون في رُؤية القمر في ليلة البَدْر صَحْوًا ليس فيه سحاب؟ قلنا: لا، قال:"ما تُضارون في رؤيته يومَ القيامة إلَّا كما تُضارُّون في رؤية أحِدهما. إذا كان يومُ القيامة نادى منادٍ: أَلَا لِتَلحَقُ كلُّ أُمَّةٍ بما كانت تعبدُ، فلا يبقى أحدٌ كان يعبد صنمًا ولا وَثَنًا ولا صورةً إلَّا ذهبوا حتى يَتساقَطُوا في النار، ويبقى مَن كان يعبدُ الله وحدَه من بَرٍّ وفاجرٍ، وغُبَّراتُ (2) أهلِ الكتاب، ثم تُعرَض جهنَّمُ كأنها سَرَابٌ يَحطِمُ بعضُها بعضًا، ثم يُدعَى اليهود فيقول: ماذا كنتم تَعبُدون؟ فيقولون: عُزَيرَ ابنَ الله، فيقول: كَذَبْتُم، ما اتَّخَذ اللهُ من صاحبةٍ ولا ولد، فما تريدون؟ فيقولون: أي ربَّنا ظَمِئْنا، فيقول: أفلا تَرِدُون، فيذهبون حتى يَتساقَطوا في النار. ثم يُدعَى النصارى، فيقول: ماذا كنتم تَعبُدون؟ فيقولون: المسيحَ ابنَ الله، فيقول: كَذَبْتُم، ما اتَّخَذَ الله من صاحبةٍ ولا ولد، فما تريدون؟ فيقولون: أي ربَّنَا، طَمِئْنا اسقِنا، فيقول: أفلا تَرِدُون، فيذهبون حتى يتَساقَطوا في النار. فيبقى مَن كان يعبدُ الله وحده من بَرٍّ، وفاجرٍ، ثم يَتبَدَّى الله لنا في صورةٍ غيرِ صورته التي كنا رأيَناه فيها أولَ مرّةٍ، فيقول: أيها الناس، لَحِقَت كلُّ أُمَّةٍ بما كانت تعبدُ وبَقِيتُم، فلا يكلِّمُه يومئذٍ إِلَّا الأنبياء، يقولون: فارَقْنا الناسَ في الدنيا ونحن كنا إلى صُحبتِهم فيها أحوجَ، لَحِقَت كلُّ أُمَّةٍ بما كانت تعبدُ، ونحن ننتظرُ ربَّنا الذي كنا نعبدُ، فيقول: أنا ربُّكم، فيقولون: نعوذُ بالله منك، فيقول: هل بينكم وبين الله من آيةٍ تَعرِفونها؟ فيقولون: نَعَم (3) ، فيُكشَفُ عن ساقٍ، فَنَخِرُّ سجودًا (1) أجمعون، ولا يبقى أَحدٌ كان يسجدُ في الدنيا سُمعةً ولا رِياءً ولا نِفاقًا إِلَّا على ظَهْره طَبَقٌ واحدٌ (2) ، كلَّما أراد أن يسجدَ خَرَّ على قَفَاهُ، قال: ثم يَرفَعُ بَرُّنا ومُسيئُنا، وقد عاد لنا في صورتِه التي رأَيناه فيها أولَ مرّةٍ، فيقول: أنا ربُّكم، فيقولون: نَعَم، أنت ربُّنا؛ ثلاثَ مرات. ثم يُضرَبُ الجسرُ على جهنَّم" قلنا: وأيُّما الجسرُ يا رسول الله بأَبينا أنت وأمَّنا؟ قال:"دَحْضُ مَزَلّةٌ، لها كَلاليبِّ وخَطاطيفُ، وحَسَكةٌ بنَجْدٍ عُقَيفاءُ (3) يقال لها: السَّعْدانُ، فيمرُّ المؤمنُ كلَمْح البصر وكالطَّرْف وكالرِّيح وكالطَّير وكأَجاوِد الخيل والمَراكب، فناجٍ مسلَّمٌ، ومخدوشٌ مُرسَل، ومكردسٌ (4) في نار جهنّم، والذي نفسي بيده ما أحدُكم بأشدَّ مُناشدةً في الحقِّ يَراهُ من المؤمنين في إخوانهم إذا رأَوْهم قد خَلَصُوا من النار، يقولون: أيْ ربَّنا، إخوانُنا كانوا يُصلُّون معنا، ويصومون معنا، ويحجُّون معنا، ويجاهدون معنا، قد أخَذَتْهم النارُ، فيقول الله ﵎: اذهَبوا، فمن عرفتُم صورتَه فأخرِجوه، وتُحرَّمُ صُورتُهم على النار، فيَجِدُ الرجلَ قد أخذَتْه النارُ إلى قدميه، وإلى أنصاف ساقيه، وإلى رُكْبتيه، وإلى حَقْوَيهِ (5) ، فيُخرجون منها بَشرًا، ثم يعودون فيتكلَّمون، فلا يزالُ يقول لهم، حتى يقول: اذهَبوا، فأخرِجوا من وجدتُم في قلبه مثقالَ ذرَّةٍ (6) فأَخرِجوه - فكان أبو سعيد إذا حدَّث بهذا الحديث يقول: إن لم تصدِّقوا فاقرؤوا: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: 48] - فيقولون: ربَّنا لم نَذَرْ فيها خيرًا، فيقول: هل بقي إلَّا أرحمُ الراحمين، قد شَفَعَت الملائكةُ وشَفَعَ الأنبياء، فهل بقيَ إلَّا أرحمُ الراحمين قال: فيَأخذُ قَبْضةً من النار فيُخرِجُ قومًا قد عادوا حُمَمةٌ (1) ، لم يَعمَلوا له عمل خيرٍ قَطُّ، فيُطرَحون في نهرٍ يقال له: نهرُ الحَيَاة، فيَنبُتون فيه -والذي نفسي بيدِه- كما تَنبُت الحِبَّةُ في حَمِيل السَّيل (2) ، ألم تَرَوْها وما يَليها من الظِّلِّ أصفرُ، وما يَلِيها من الشمس أخضرُ؟! قال: قلنا: يا رسول الله، كأنك تكونُ في الماشيةِ؟! قال:"يَنبُتون كذلك، فيَخرُجون أمثالَ اللؤلؤ، يُجعَل في رِقابِهم الخواتيمُ ثم يُرسَلون في الجنة، فيقول أهل الجنة: هؤلاءِ الجَهنَّميُّون، هؤلاء الذين أخرَجَهم من النار بغير عمل عَمِلوه، ولا خيرٍ قَدَّموه، يقول الله تعالى: خُذُوا، فلكم ما أَخذتُم، فيَأخُذون حتى يَنتَهُوا، ثم يقولون: لن يعطيَنا اللهُ ﷿ ما أَخَذْنا، فيقول الله ﵎: فإنِّي أعطَيتُكم أفضلَ مما أخَذتُم، فيقولون: ربَّنا، وما أفضلُ من ذلك وممّا أخَذْنا؟ فيقول: رضواني بلا سَخَطٍ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّيَاقة! إنما اتَّفقا على حديث الزهري عن سعيد بن المسيّب وعطاء بن يزيد اللَّيْثي عن أبي هريرة مختصرًا (1) ، وأخرج مسلمٌ وحدَه حديثَ عبد الرزاق عن مَعمَر عن زيد بن أسلمَ عن عطاء بن يَسَارٍ عن أبي سعيد بأقلَّ من نصف هذه السِّياقة (2) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دوپہر کے وقت جب بادل بھی نہ ہوں تو سورج کی جانب دیکھ سکتے ہو؟ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو بادلوں کے بغیر دیکھ سکتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب تم اللہ تعالیٰ کا دیدار کرو گے تو اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں کرو گے جتنا تم ان میں سے کسی ایک کو دیکھتے وقت محسوس کرتے ہو، جب قیامت کا دن ہو گا تو ایک ندا دینے والا کہے گا: خبردار! ہر امت اپنے معبودوں کے ساتھ مل جائے، چنانچہ جو کسی بت یا صورت کو پوجتا ہو گا، سب ان سے جا ملیں گے، اور یہ سب دوزخ میں جا گریں گے، اور وہ لوگ باقی بچیں گے جو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کیا کرتے تھے، ان میں نیک بھی ہوں گے، گنہگار بھی ہوں گے اور باقی ماندہ اہل کتاب بھی ہوں گے، پھر دوزخ کو لایا جائے گا، یہ سراب کی مانند ہو گی، اس کا بعض حصہ اپنی بعض کو جلا رہا ہو گا، پھر یہودیوں کو بلایا جائے گا، فرشتہ ان سے پوچھے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ فرشتہ کہے گا: تم جھوٹ بول رہے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد ہے، تمہاری مراد کیا ہے؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب، ہمیں پیاس لگی ہے، ہمیں پانی پلا، ان کو کہا جائے گا: تم لوٹ کیوں نہیں جاتے؟، وہ لوٹ جائیں گے، اور دوزخ میں جا گریں گے، پھر عیسائیوں کو بلایا جائے گا، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تم کس کی عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: اللہ کے بیٹے مسیح کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم جھوٹ بول رہے ہو، اللہ تعالیٰ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد۔ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب ہمیں پیاس لگی ہے، ہمیں پانی عطا فرما، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم لوٹ کیوں نہیں جاتے، وہ چلے جائیں گے اور دوزخ میں گر جائیں گے۔ اس کے بعد صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوں گے، ان میں نیک بھی ہوں گے اور گنہگار بھی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمارے سامنے ایسی صورت میں ظاہر ہو گا جو پہلی صورت سے مختلف ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے لوگو ہر امت ان معبودوں سے جا ملی جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، اب تم باقی بچے ہو، اس دن اللہ تعالیٰ سے نبیوں کے سوا کوئی ہم کلام نہیں ہو سکے گا، وہ عرض کریں گے: دنیا میں لوگ ہم سے جدا رہے، جب کہ ہم ان کی صحبت کے ضرورت مند تھے، آج سب امتیں ان معبودوں سے جا ملی ہیں جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، اور ہم اپنے اس معبود کا انتظار کر رہے ہیں جس کی ہم عبادت کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، مسلمان کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کو پہچاننے کی کوئی نشانی ہے؟ وہ کہیں گے: ہاں، پنڈلی۔ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا، تو سب لوگ سجدہ ریز ہو جائیں گے اور جس نے دنیا میں منافقت کے طور پر، یا دکھاوے اور ریاکاری کے طور پر سجدہ کیا ہو گا، اس کی پشت میں لوہے کا ایک سریا ڈال دیا جائے گا جس کی وجہ سے وہ جب سجدہ کرنے لگے گا تو گدی کے بل گر جائے گا، پھر نیک و بد سب سر اٹھائیں گے، اب کی بار پھر اللہ تعالیٰ پہلی سے الگ صورت میں ظاہر ہو گا، وہ فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، سب لوگ کہیں گے: جی ہاں تو ہمارا رب ہے، یہ بات تین مرتبہ دہرائیں گے، پھر جہنم کے اوپر جسر بچھایا جائے گا، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں جسر کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک پل ہے جس پر پھسلن ہے، اس پر لوہے کے تیز کنڈے ہیں (جس میں انسان پھنس سکتا ہے)، اور نجد کے کانٹے دار پودے ہوں گے، ان کو سعدان کہا جاتا ہے۔ اس پر سے مومن بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے، کچھ پلک جھپکنے میں، کچھ ہوا کی مانند، کچھ پرندے کی طرح، کچھ تیز رفتار گھوڑے کی طرح، کچھ عام سواریوں کی طرح گزریں گے، کئی لوگ نجات پائیں گے، کچھ لوگ سلامتی کے ساتھ نجات پا جائیں گے، کچھ لوگ زخمی ہوں گے لیکن نجات پا جائیں گے اور کچھ لوگ دوزخ میں گر جائیں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم جب اپنا حق دیکھ لو تو اس کے وصول کرنے میں اتنی سختی نہیں کرتے ہو جتنے سخت اس دن مومن اپنے بھائیوں کے بارے میں ہوں گے، جب یہ ان کو دیکھیں گے کہ وہ لوگ دوزخ سے نجات پا چکے ہیں، یہ لوگ کہیں گے: اے ہمارے رب یہ لوگ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کیا کرتے تھے، ہمارے ساتھ جہاد کیا کرتے تھے، یہ آگ کی لپیٹ میں ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: تم جاؤ، اور جس جس کو پہچانتے ہو، ان کو دوزخ سے نکال لو، ان کے چہروں پر آگ حرام کر دی گئی ہو گی (اس لئے ان کے چہرے جلنے سے بچے ہوں گے) یہ ایک آدمی کو دیکھیں گے کہ اس کے قدموں تک آگ پہنچ چکی ہے، کسی کی پنڈلی تک جلا چکی ہو گی، اور کسی کو گھٹنوں تک جلا چکی ہو گی، بعض کی کمر تک ہو گی، یہ ان میں سے ایک آدمی کو نکال لائیں گے، پھر دوبارہ لوٹ کر آئیں گے، اور اللہ تعالیٰ سے گفتگو کریں گے، (ان کو اجازت ملے گی، یہ ایک آدمی کو پھر نکال لائیں گے،) مسلسل یہی عمل دہراتے رہیں گے، حتی کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم جاؤ اور جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان موجود ہے، اس کو بھی دوزخ سے نکال لاؤ، یہ لوگ ایسے لوگوں کو بھی نکال کر لے آئیں گے۔ سیدنا ابوسعید جب یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے تو فرمایا کرتے تھے: اگر تمہیں یقین نہیں آتا، تو یہ آیت پڑھ لیں {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40] اللہ تعالیٰ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے وہ کہیں گے: اے ہمارے رب ہم نے اس میں کوئی مومن نہیں چھوڑا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ارحم الراحمین کے سوا کوئی باقی نہیں بچا، فرشتے شفاعت کر چکے، انبیاء کرام شفاعت کر چکے، اب اس ذات کے سوا کوئی نہیں بچا جو ذات ہر رحم کرنے والے سے بڑی رحم کرنے والی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک مٹھی بھر کر دوزخ سے نکالے گا، یہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہوں نے کبھی کوئی نیک عمل کیا ہی نہیں ہو گا، ان کو نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا، اس میں ان کے جسم دوبارہ ٹھیک ہو جائیں گے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جیسے دانہ گندم سیلاب کی تری میں اگتا ہے، کیا تم اس کو اور اس کے زرد سائے کو نہیں دیکھتے ہو؟ اور اس کے ساتھ سبز روشنی کو، ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاید کہ آپ اہل مواشی میں ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اسی طرح اگیں گے، پھر وہ موتیوں کی مانند ہو جائیں گے، ان کی گردنوں میں مہریں لگائی جائیں گی پھر ان کو جنت کی جانب بھیج دیا جائے گا، جنتی لوگ ان کو (دیکھ کر) کہیں گے: یہ جہنمی ہیں، انہوں نے نہ کوئی نیک عمل کیا اور نہ آخرت کے لئے کوئی کام کیا، ان کو بلا عمل دوزخ سے نکال لیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: یہاں سے جو دل چاہتا ہے لے لو، تم جو بھی لے لو گے، وہ تمہارا ہو جائے گا، وہ بہت کچھ لیں گے اور پھر رک جائیں گے اور کہیں گے: ہم نے جو کچھ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ عطا نہیں کیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تمہاری منتخب کردہ چیزوں سے بہتر چیزیں عطا کی ہیں، وہ کہیں گے، یا اللہ جو کچھ ہم نے پسند کیا ہے، اس سے بہتر کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میری خوشنودی ناراضگی کے بغیر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم شیخین نے زہری کے واسطے سے سعید بن مسیب کی اور عطاء بن یزید لیثی کی روایت جو انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اس کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالرزاق کی وہ حدیث نقل کی ہے جو انہوں نے معمر سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے سیدنا ابوسعید سے روایت کی ہے۔ وہ اس سیاق کے نصف سے بھی کم ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8951]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8952
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، أخبرنا عثمان بن غِيَاثَ الرَّاسِبي، أنَّ أبا نَضْرة حدَّثهم عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُجمعُ الناسُ عند جسر جهنَّم عليه حَسَكٌ وكلاليبُ، ويَمرُّ الناس، فيمرُّ منهم مثل البَرْق، وبعضُهم مثلَ الفَرَس المُضمَّر (3) ، وبعضُهم يَسعَى، وبعضُهم يَمْشي، وبعضُهم يَزحَفُ، والملائكةُ بجَنَبَتيه تقول: اللهمَّ سلِّمْ سلِّمْ، والكلاليبُ تَخطَفُهم. قال: وأمَّا أهلها الذين هم أهلُها، فلا يموتون ولا يَحيَوْنَ، وأما أُناسٌ يُؤخَذون بذنوبٍ وخطايا يَحترِقون فيكونون فَحْمًا، فيُؤخَذون ضباراتٍ ضباراتٍ، فيُقذَفون على نهرٍ من الجنة، فيَنبُتون كما تَنبُتُ الحِبَّةُ في حَمِيل السَّيل"، قال النبي ﷺ:"هل رأيتم السَّعْفاء (4) ؟ ثم إنهم بعدُ يُؤذَن لهم فيدخُلون الجنة"، قال أبو سعيد: فيُعطَى أحدُهم مثلَ الدنيا. قال:"وعلى الصراط ثلاثُ شَجَراتٍ، فيكون آخرُ من يَخرج من النار على شَفَتِها، فيقول: يا ربِّ، قدِّمْني إلى هذه الشجرة أكونُ في ظِلِّها وأكلُ من ثمرِها، قال: فيقول: عَهْدَك وذمَّتك أن تسألَني غيرَها، فيُحوَّلُ إليها، ثم يرى أخرى أحسنَ منها، فيقول مثلَ ذلك، فيقول: عهدَك وذِمَّتك لا تسألُني غيرَها، فيقول: عهدي وذمَّتي لا أسألُ غيرَها، فيُحوَّل إليها، فيرى أخرى أحسنَ منها، فيقول: يا ربِّ، آكل من ثمرِها وأكون في ظلِّها، فيُحوَّل إليها، قال: فيسمعُ أصواتَ الناس ويَرى سَوادَهم، فيقول: يا ربِّ، أَدخِلْني الجنة". قال أبو سعيد: ثم ذكر على إثرِه أصحابَ النبي ﷺ ذكرها (1) ، فقال أحدُهما:"يُعطَى مِثلَ الدنيا ومثلَها معها" وقال آخر:"مثلَ الدنيا وعشرَ أمثالِها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8737 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پل صراط کے پاس لوگ جمع کئے جائیں گے، اس کے اوپر خاردار جھاڑیاں اور لوہے کے کنڈے ہوں گے، لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے، کچھ بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے، کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی مانند گزریں گے، کچھ دوڑتے ہوئے، اور کچھ پیدل چلتے ہوئے اور بعض لوگ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے۔ اس کے دائیں بائیں فرشتے ہوں گے جو کہ اللہم سلم سلم کی دعائیں مانگ رہے ہوں گے، اور لوہے کے کنڈے ہوں گے، وہ کنڈے لوگوں کو اچک رہے ہوں گے۔ اور جو لوگ دوزخی ہوں گے، نہ وہ جی سکیں گے نہ مر سکیں گے، کچھ لوگوں کو گناہوں کی وجہ سے پکڑا ہوا ہو گا، وہ جل رہے ہوں گے، جل جل کر کوئلہ ہو جائیں گے، پھر ان کو جماعت در جماعت پکڑا جائے گا۔ پھر ان کو جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا، یہ اس میں اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کی تری کی وجہ سے دانہ گندم اگتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے پکتی ہوئی کھجوروں کو دیکھا ہے؟ پھر اس کے بعد ان کو اجازت ملے گی تو یہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان میں سے ہر ایک کو پوری دنیا کے برابر دیا جائے گا۔ آپ نے فرمایا: اور پل صراط پر تین درخت ہوں گے، سب سے آخر میں جو شخص دوزخ سے نکلے گا وہ اس کے کنارے پر ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب کر دے، تاکہ میں اس کے سائے میں بیٹھ سکوں، اور اس کا پھل کھا سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اپنا وعدہ یاد رکھنا، اب اس کے علاوہ اور کچھ نہ مانگنا، وہ کہے گا: یا اللہ میں وعدہ کرتا ہوں، اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب کر دے گا، وہ وہاں سے دوسرا درخت دیکھے گا جو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا، وہ کہے گا: یا اللہ! میں اس درخت کا پھل کھانا چاہتا ہوں اور اس کے سائے میں بیٹھنا چاہتا ہوں، اس کو اس درخت کے پاس پہنچا دیا جائے گا، وہ وہاں سے اگلے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا، وہ کہے گا: یا اللہ میں اس کا پھل کھانا چاہتا ہوں اور اس کے سائے میں بیٹھنا چاہتا ہوں، اس کو اس تک پہنچا دیا جائے گا، وہ وہاں سے لوگوں کی آوازیں سنے گا اور ان کے سائے دیکھے گا، وہ کہے گا: اے میرے اللہ! مجھے جنت میں داخل فرما دے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس کا پورا قصہ سنایا، ایک راوی کا بیان ہے کہ اس آدمی کو جنت میں پوری دنیا کی مثل اور اتنا ہی مزید اس کے ساتھ دیا جائے گا، اور دوسرے راوی کا بیان ہے کہ دنیا کی مثل اور اس کا دس گنا مزید بھی دیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8952]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں