المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ يَصْدُرُونَ عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ .
لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے پھر اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکلیں گے
حدیث نمبر: 8955
أخبرني محمد بن طاهر بن يحيى، حدثني أَبي، حدثنا أحمد بن حفص، حدثني أَبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان عن الحَجّاج بن الحجّاج الباهِلي، عن قَتَادةَ، عن أبي نَضْرة، عن سَمُرَةَ بن جُندُب قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ من أهلِ النار لمَن تأخذُه النارُ إلى كَعَبيه، ومنهم من تأخذُه إلى رُكبتَيه، ومنهم من تأخذُه إلى الحُجْزة، ومنهم من تأخذُه إلى التّرقُوَةِ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8740 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8740 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچھ دوزخی ایسے ہوں گے جن کو ٹخنوں تک آگ جلا چکی ہو گی، کچھ کو گھٹنوں تک اور کچھ کو کمر تک اور بعض کو گردن تک جلا چکی ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8955]
حدیث نمبر: 8956
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي قال: سألتُ مُرّةً عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [مريم: 71] فحدَّثَني أنَّ عبد الله بن مسعود حدَّثَهم، أن رسول الله ﷺ قال:"يَرِدُ الناسُ النارَ ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم، فأولُهم كلَمْح البَرْق، ثم كالرِّيحِ، ثم كحُضْرِ الفَرَس، ثم كالراكب في رَحْلِه، ثم كشَدِّ الرَّجُل (1) ثم كمَشْيِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رواه شعبةُ عن إسماعيل السُّدّي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8741 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد رواه شعبةُ عن إسماعيل السُّدّي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8741 - على شرط مسلم
سیدنا سدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا مرہ سے قرآن کریم کی اس آیت کے بارے میں پوچھا {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] ” اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو “ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو دوزخ پر لایا جائے گا، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اس میں سے گزارا جائے گا، ان میں سے کچھ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے، کچھ تیز ہوا کی مانند، کچھ تیز گھوڑے کی طرح، کچھ کجاوے میں سوار کی طرح، کچھ تیز دوڑ کر اور کچھ پیدل چل کر گزریں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ شعبہ نے اسماعیل السدی کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8956]
حدیث نمبر: 8957
حدَّثَناه أحمد بن كامل القاضي، أخبرنا أبو بكر بن أبي العَوَّام، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعبة، عن السُّدِّي، عن مُرَّةَ، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصُدرون عنها بأعمالِهم (3) .
شعبہ، سدی سے مرہ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ نے {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] ” اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو “ کے بارے میں فرمایا: لوگ پل صراط پر آئیں گے، پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس پر سے گزر جائیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8957]
حدیث نمبر: 8958
حدَّثَنيه أبو علي الحافظ، حدثنا أبو عبد الرحمن النَّسَائي، حدثنا محمد بن المثَّنى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعبة، عن السُّدّي، عن مُرّة، عن عبد الله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ قال: يَرِدُونها ثم يَصدُرون عنها بأعمالِهم. قال عبد الرحمن بن مَهْدي: فحدَّثتُ شعبةَ عن إسرائيلَ عن السُّدِّي عن مُرّة عن عبد الله مرفوعًا عن النبي ﷺ، [قال: شعبةُ وقد سمعتُه من السُّدّي مرفوعًا] (1) ولكني أَدَعُه عَمْدًا (2) .
شعبہ نے سدی کے واسطے سے مرہ سے روایت كیا ہے كہ سیدنا عبداللہ نے {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] ” اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو “ کے بارے میں فرمایا ہے کہ لوگ پل صراط پر آئیں گے پھر اس پر سے اپنے اپنے اعمال کے مطابق گزریں گے۔ عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں: میں نے شعبہ کو اسرائیل کے واسطے سے، پھر سدی کے واسطے سے، پھر مرہ سے، اور پھر سیدنا عبداللہ کے واسطے سے مرفوعاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ لیکن میں نے اس کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8958]
حدیث نمبر: 8959
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا أبو صالح غالب بن سليمان، عن كَثير بن زيادٍ أبي سهل، عن مُسَّةَ الأزْديَّة، عن عبد الرحمن بن شَيْبة قال: اختلَفْنا هاهنا في الوُرود، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم يُنجِّي الله الذين اتَّقَوا [فَلَقِيتُ جابر بن عبد الله فسألته، فقال: يدخلونها جميعًا ثم يُنجي الله الذين اتَّقَوا] (3) فقلت له: إنا اختلفنا فيها بالبصرة، فقال قوم: لا يدخلُها مؤمنٌ، وقال آخرون: يدخلونها جميعًا ثم ينجِّي الله الذين اتَّقَوْا، فأهوى بإصبَعيهِ إلى أُذنيه فقال: صُمَّتا إن لم أكن سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوُرودُ الدخولُ، لا يبقى بَرٌّ ولا فاجرٌ إلَّا دخلها، فتكون على المؤمن بردًا وسلامًا كما كانت على إبراهيمَ، حتى إنَّ للنار - أو قال: لجهنَّم - ضجيجًا من بَرْدِها (4) ، قال: ثم يُنجِّي اللهُ الذين اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظالمين فيها جِثِيًّا" (5)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8744 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8744 - صحيح
عبدالرحمن بن شیبہ فرماتے ہیں: یہاں پر ورود کے بارے میں اختلاف ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں: مومن دوزخ میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کہتے ہیں کہ سب داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان میں سے متقین کو نجات دے دے گا۔ میں نے ان سے کہا: اس بابت بصرہ میں بھی ہمارا اختلاف ہوا تھا، کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ مومن دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے اور کچھ کا نظریہ تھا کہ سب داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان میں سے متقین کو نکال لے گا، پھر انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں کو لگائیں اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ سے یہ نہ سنا ہو تو یہ میرے یہ کان بہرے ہو جائیں، رسول اللہ نے فرمایا: ورود سے مراد دخول ہے۔ کوئی نیک و بد نہیں بچے گا، سب کو اس میں داخل کیا جائے گا، البتہ وہ آگ مومن پر سلامتی والی ٹھنڈی ہو جائے گی، جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر ہوئی تھی۔ حتی کہ دوزخ اپنے آگ کے ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے چیخ و پکار کر رہی ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ متقین کو اس میں سے نجات دے گا اور ظالموں کو اس میں جلتا رہنے دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8959]
حدیث نمبر: 8960
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجرّاح العَدْل بمَرُو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا داود بن الزِّبْرِقان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعبي، عن مُرّة الهَمْداني: أنَّ ابن مسعود سُئل عن قوله ﷿: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾، قال: وإن منكم إلَّا داخِلُها ﴿كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا﴾ ثم يُنجِّي الله الذين اتقوا ويذرُ الظالمين فيها جِثِيًّا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داود
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8745 - داؤد بن الزبر تركه أبو داود
مرہ ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] ” اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا دَاخِلُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا ” اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل کے“ مطلب یہ کہ اس آیت میں ” واردہا “ کا مطلب ”داخلہا “ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8960]
حدیث نمبر: 8961
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري وعلي بن عيسى بن إبراهيم قالا: حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا عُبَيد بن عَبِيدة القُرشي، حدثنا المُعتمِر بن سليمان قال: سمعت أبي يقول: حدثنا قَتادة، عن عُقْبة بن عبد الغافر، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَيَأْخُذَنَّ (2) رجلٌ بيد أَبيه يومَ القيامة، فلُيقطِّعنَّه النارَ يريد أن يُدخِلَه الجنةَ، قال: فيُنادَى: إِنَّ الجنةَ لا يَدخلُها مشركٌ، ألا إِنَّ الله قد حرَّمَ الجنةَ على كل مشركٍ، قال: فيقول: أيْ ربِّ، أَبي، فيُحوَّل في صورة قبيحةٍ وريحٍ مُنتِنة، فيتركُه". قال: فكان أصحابُ رسولَ الله ﷺ يرونَ أنه إبراهيمُ ﵇، ولم يَزِدْهم رسولُ الله ﷺ على ذلك (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8746 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8746 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا، لیکن آگ اس کا ہاتھ چھڑوا دے گی، وہ بندہ اس کو جنت میں لے جانا چاہتا ہو گا، پھر ایک ندا دینے والا کہے گا: جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو سکتا۔ خبردار! اللہ تعالیٰ نے جنت ہر مشرک پر حرام فرما دی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو آوازیں دے گا، تو اس کی شکل بگاڑ دی جائے گی اور اس سے بدبو پھوٹنے لگ جائے گی تو وہ اپنے باپ کو چھوڑ دے گا۔ صحابہ کرام اس سے یہ سمجھا كرتے تھے كہ یہ بات سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں كہی گئی ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس كی مزید كوئی تشریح نہیں فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ كے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8961]
حدیث نمبر: 8962
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا سعيد بن محمد الحَجْواني بالكوفة، حدثنا وكيع بن الجرَّاح، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: بَكَى عبد الله بن رَوَاحة فبَكَت، امرأتُه فقال: ما يُبكيكِ؟ قالت: رأيتُك تبكي فبكيتُ، قال: إني نُبِّئتُ أني واردُها، ولم أُنبَّأْ أني صادرٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
سیدنا قیس بن ابی حازم بیان كرتے ہیں كہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روئے اور ان كی زوجہ بھی رونے لگ گئی، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم كیوں رو رہی ہو؟ انہوں نے كہا: آپ كو روتے ہوئے دیكھ كر میں بھی رو پڑی۔ آپ نے فرمایا: مجھے یہ تو بتا دیا گیا ہے كہ میں دوزخ میں داخل ہوں گا، لیکن یہ نہیں بتایا گیا كہ میں نكل بھی پاؤں گا یا نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ كے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8962]