المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. رُجُوعُ النَّاسِ لِلشَّفَاعَةِ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ
لوگوں کا سفارش (شفاعت) کے لیے انبیاء علیہم السلام کی طرف رجوع کرنا
حدیث نمبر: 8964
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو مالك سعد بن طارق الأشجَعيّ، عن رِبْعيّ بن حِرَاش، عن حُذَيفة بن اليَمَان وأبي هريرة قالا: قال رسول الله ﷺ:"يَجمَعُ اللَّهُ الناسَ، فيقومُ المؤمنون حين تُزلَفُ الجنةُ، فيأتون آدمَ ﵇ فيقولون: يا أبانا، استفِتحْ لنا الجنةَ، فيقول: وهل أخرَجَكم من الجنة إلَّا خطيئةُ أبيكم؟ لستُ بصاحب ذاكَ، اعْمِدُوا إلى إبراهيمَ خليلِ ربِّه، فيقول إبراهيم: لستُ بصاحبِ ذاك، إنما كنتُ خليلًا من وراءَ وراءَ، اعمِدُوا إلى النبي موسى الذي كَلَّمه اللهُ تكليمًا، فيأتون موسى فيقول: لستُ بصاحبِ ذاك، اذهبوا إلى كلمةِ الله ورُوحِه عيسى، فيقول عيسى: لستُ بصاحبِ ذاك، فيأتون محمدًا ﷺ، فيقومُ فيُؤذَنُ له، ويُرسَل معه الأمانةُ والرَّحِمُ، فيقفانِ بالصِّراط يمينَه وشِمالَه، فيمرُّ أوّلُكم كمَرِّ البَرْق" قلت: بأبي وأمِّي، أيُّ شيءٍ مرُّ البرق؟ قال:"ألم ترَ إلى البرقِ كيف يمرُّ ثم يَرجِعُ في طَرْفةٍ، ثم كمَرِّ الريح، ومرِّ الطَّيرِ، وشدِّ الرِّجال تَجْري بهم أعمالُهم، ونبيُّكم قائمٌ على الصِّراط: ربِّ سلِّمْ سلِّمْ، قال: حتى تُعجِزَ أعمالُ الناس، حتى يجيءَ الرجلُ فلا يستطيع أن يمرَّ إِلَّا زَحْفًا، قال: وفي حافَتَيِ الصراطِ كلاليبُ معلَّقةٌ مأمورةٌ تأخذ من أُمِرَت به، فمخدوشٌ ناج، ومُكردَسٌ في النار". والذي نفسُ أبي هريرة بيدِه إن قَعْرَ جَهَنَّمَ لِسبعينَ خريفًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8749 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8749 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع فرمائے گا، تو جب جنت (اہلِ تقویٰ کے) قریب لائی جائے گی تو مومن کھڑے ہوں گے، وہ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے باپ! ہمارے لیے جنت کا دروازہ کھلوائیے، وہ فرمائیں گے: تمہیں تمہارے باپ کی خطا ہی نے تو جنت سے نکالا تھا؟ میں اس منصب کا اہل نہیں، تم اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، میں تو بصد عجز دور سے خلیل تھا، تم اللہ کے نبی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے براہِ راست کلام فرمایا تھا، وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، تم اللہ کے کلمے اور اس کی روح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: میں اس کا اہل نہیں، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مقامِ شفاعت پر) کھڑے ہوں گے اور آپ کو اجازت دے دی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑی ہو جائیں گی، پس تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی چمک کی طرح گزرے گا۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! بجلی کی چمک کی طرح گزرنے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح پلک جھپکتے گزر کر واپس آ جاتی ہے؟ پھر ہوا کے گزرنے کی طرح، پھر پرندے کے اڑنے کی طرح اور تیز رفتار آدمیوں کے دوڑنے کی طرح، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے، اور تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے یہ دعا کر رہے ہوں گے: «رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ”اے میرے رب! سلامت رکھ، سلامت رکھ۔“ یہاں تک کہ لوگوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے، یہاں تک کہ ایک آدمی آئے گا تو وہ گھسٹنے کے سوا گزرنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط کے دونوں کناروں پر لٹکے ہوئے آنکڑے ہوں گے جنہیں حکم ہوگا کہ وہ ان لوگوں کو اچک لیں جن کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا ہے، پس کوئی زخمی ہو کر نجات پا جائے گا اور کوئی جہنم میں اوندھا گرا دیا جائے گا۔“ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8964]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8964]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن ذكر أبي هريرة مجموعًا إلى حذيفة فيه من رواية ربعي بن حراش عنهما وهمٌ، وهمَ فيه مَن دون أبي مالك الأشجعي، والصواب أن لأبي مالك فيه إسنادين» [ترقيم الرساله 8964] [ترقيم الشركة 8855] [ترقيم العلميه 8749]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8965
حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن أيوب السَّخِتياني، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَلقَى رجلٌ أباه يومَ القيامة، فيقول له: يا أبتِ، أيَّ ابنٍ كنت لك؟ فيقول: خيرَ ابنٍ، فيقول: هل أنت مُطيعي اليومَ؟ فيقول: نعم، فيقول: خُذْ بإزْرَتي، فيأخذُ بإزرتِه، ثم ينطلقُ حتى يأتيَ الله ﵎ وهو يَعرِضُ الخلقَ، فيقول: يا عَبْدي ادخُلْ من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أي ربِّ، فأَبي معي؟ فإنك وعدتني أن لا تُخزِيَني، قال: فيُعرِضُ عنه، ثم يقول يا عبدي، ادخُلْ من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أي ربِّ، فأَبي معي؟ فإنك وعدتَني أن لا تُخزِيَني، قال: فيُعرِضُ عنه، ثم يقول: يا عبدي، ادخُل من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أيْ ربِّ، وأَبي معي؟ فإنك وعدتنَي أن لا تُخزِيَني، قال: فيَمَسَخُ الله أباه ضَبُعًا، فيَهوِي في النار، فيأخذُ بأنفِه، فيقول الله ﵎: يا عَبْدي، أبوك هو؟ فيقول: لا وعِزَّتِك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8750 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8750 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ سے ملے گا، تو اس سے کہے گا: اے میرے باپ! میں آپ کا کیسا بیٹا تھا؟ وہ کہے گا: بہترین بیٹا۔ بیٹا کہے گا: کیا آج آپ میری بات مانیں گے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ بیٹا کہے گا: میرا تہبند پکڑ لیں۔ چنانچہ وہ اس کا تہبند پکڑ لے گا، پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں آئے گا جبکہ اللہ مخلوق کو اپنے سامنے پیش کر رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! کیا میرے والد بھی میرے ساتھ (داخل ہوں گے)؟ کیونکہ تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے گا۔ پھر فرمائے گا: اے میرے بندے! تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! کیا میرے والد بھی میرے ساتھ؟ کیونکہ تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر اعراض فرمائے گا۔ پھر فرمائے گا: اے میرے بندے! تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا۔ وہ پھر عرض کرے گا: اے میرے رب! اور میرے والد بھی میرے ساتھ؟ کیونکہ تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ اس کے باپ کو بجو (ایک قسم کے جانور) کی شکل میں مسخ کر دے گا، تو وہ جہنم میں گر پڑے گا اور اسے اس کی ناک سے پکڑ لیا جائے گا۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا یہ تیرا باپ ہے؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم!“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8965]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8965]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شيخ المصنف عبد الرحمن بن الحسن القاضي، لكنه متابع» [ترقيم الرساله 8965] [ترقيم الشركة 8856] [ترقيم العلميه 8750]
الحكم على الحديث: حديث صحيح