المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. تَقْسِيمُ النُّورِ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ
نور کی تقسیم لوگوں کے اعمال کے مطابق ہوگی
حدیث نمبر: 8966
أخبرني أبو جعفر محمد بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة الغفاري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا يزيد بن عبد الرحمن أبو خالد الدَّالَاني، حدثنا المِنهال بن عمرو، عن أبي عُبَيدة عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يَجمَعُ الله الناسَ يومَ القيامة، فينادي منادٍ: يا أيها الناس، ألم ترضَوا من ربِّكم الذي خلقكم وصوِّركم ورَزَقكم أن يُولّيَ كلَّ إنسانٍ ما كان يعبدُ في الدنيا ويتولَّى، أليس ذلك عَدْلٌ من ربِّكم؟ قالوا: بلى، قال: فينطلقُ كلُّ إنسانٍ منكم إلى ما كان يتولَّى في الدنيا، ويُمثَّلُ لهم ما كانوا يَعبُدون في الدنيا، وقال: يُمثَّلُ لمن كان يعبدُ عيسى شيطانُ عيسى، ويُمثَّل لمن كان يعبدُ عُزَيرًا شيطانُ عُزير، حتى يُمثَّلَ لهم الشجرُ والعودُ والحجرُ، ويبقى أهلُ الإسلام جُثومًا، فيقول لهم: ما لكم لم تَنطلِقوا كما انطلق الناس؟ فيقولون: إنَّ لنا ربًّا ما رأَيناه بعدُ، قال: فيقول: فبِمَ تعرفون ربَّكم إن رأيتُموه؟ قالوا: بيننا وبينَه علامةٌ، إنْ رأيَناه عَرَفْناه، قال: وما هي؟ (1) فيُكشَف عن ساقٍ قال: فيَخِرُّ (2) كلُّ من كان لظَهرِه طَبَقٌ ساجدًا، ويبقى قومٌ ظهورُهم كصَيَاصي بقرٍ، يريدون السجودَ فلا يستطيعون. قال: ثم يُؤمَرون فيَرفعون رؤوسهم، فيُعطَون نورهم على قَدْرِ أعمالهم، فمنهم من يُعطَى نورَه مثل الجبل بين يديه، ومنهم من يُعطَى نورَه دونَ ذلك، ومنهم من يُعطَى نورَه مثلَ النَّخْلة بيمينه، ومنهم من يُعطَى دون ذلك، حتى يكونَ آخرُ ذلك يُعطَى نورَه على إبهام قدمه، يُضيءُ مرّةً ويَطفَأُ مرّةً، فإذا أضاء قدَّم قدمه، وإذا طَفِئَ قام، فيمرُّون على الصِّراط، والصراطُ كحدِّ السيف، دَحْضٌ مَزَلَّةٌ، قال: فيقال انجُوا على قَدْر نورِكم، فمنهم من يمرُّ كانقِضَاض الكوكب، ومنهم من يمرُّ كالرِّيح، ومنهم من يمرُّ كشدِّ الرَّجُل ويَرمُل رَمَلًا، فيمرُّون على قَدْر أعمالهم، حتى يمرَّ الذي نورُه على إبهام قدمه، تَخِرُّ يدٌ وتَعلَقُ يدٌ، وتَخِرُّ رجلٌ وتَعلَقُ رجلٌ، فتصيبُ جوانبه النارُ. قال: فيَخلُصون، فإذا خَلَصُوا قالوا: الحمدُ لله الذي نجَّانا منكِ بعدَ إذ رأيناكِ، فقد أعطانا اللهُ ما لم يُعطِ أحدًا. فينطلقون إلى ضَحْضاحٍ (1) عند باب الجنة [فيغتسلون، فيعودُ إليهم ريحُ أهلِ الجنة وألوانهم، ويَرَونَ من خَلَلِ باب الجنة] (2) وهو مُصفَقٌ منزلًا في أدنى الجنة، فيقولون: ربَّنا أعطِنا ذلكَ المنزل، قال: فيقول لهم: تسألوني الجنةَ (3) وقد نَجَّيتُكم من النارِ؟! [فيقولون: ربَّنا، أعطناه، اجعَلْ بيننا وبين النار] هذا البابَ، لا [نسمعُ] حَسِيسَها، فيقول لهم: لعلَّكم إن أُعطِيتُموه أن تسألوني غيرَه؟ قال: فيقولون: لا وعزَّتِك لا نسألُك غيرَه، وأيُّ منزلٍ يكون أحسنَ منه؟ قال: فيُعطَوْهُ، فيُرفَعُ لهم أمامَ ذلك منزلٌ آخرُ، كأنَّ الذي أُعطُوه قبل ذلك حُلْمٌ عند الذي رأَوْا، قال: [فيقولون: ربَّنا، أَعطِنا ذلك المنزل، فيقول لهم: لعلَّكم إن أُعطِيتُموه أن تسألوني غيَره؟] فيقولون: لا وعزَّتِك لا نسألُك غيره، وأيُّ منزلٍ أحسنُ منه؟ ثم يَسكُتون، قال: فيقال لهم: ما لكم لا تَسألون؟ فيقولون: ربَّنا قد سألْنا حتى استَحْيَينا، قال: فيقول لهم: ألم تَرضَوا أني أعطيتُكم مثل الدنيا منذُ يومِ خلقتُها إلى يومِ أفنيتُها وعَشَرة أضعافها". قال: قال مسروق: فما بَلَغَ عبد الله هذا المكانَ من الحديث إِلَّا ضَحِكَ، قال: فقال له: رجل يا أبا عبد الرحمن، لقد حدَّثت بهذا الحديث مِرارًا، فما بلغتَ هذا المكان من هذا الحديث إلَّا ضحكت قال: فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يحدِّث بهذا الحديث مِرارًا، فما بلغ هذا المكان من هذا الحديث إلَّا ضحك حتى تَبدُوَ لَهَواتُه ويَبدُوَ آخرُ ضِرسٍ من أضراسه، لقول إنسان: [أتهزأُ بي وأنتَ المَلِكُ؟] (4) قال: فيقول الربُّ ﵎: لا، ولكنِّي على ذلك قادرٌ، فسَلُوني، قال: فيقولون: ربَّنا ألحِقْنا الناسَ [فيقول لهم: الحَقُوا الناسَ] (3) . قال: فينطلقون يَرمُلون في الجنة حتى يبدوَ للرجل منهم قصرٌ من دُرّةٍ مجوَّفةٍ، قال: فيَخِرُّ ساجدًا، قال: فيقال له: ارفَعْ رأسَك، فيَرفعُ رأسَه، فيقال: إِنَّما هذا منزلٌ من منازلِك، قال: فيَنطلقُ فيَستقبِلُه رجلٌ فيقول: أنت مَلِكٌ أو مَلَك؟ فيقال: إنما ذلك قَهرمانٌ من قَهارِمتِك، عبدٌ من عبيدِك، قال: فيأتيه فيقول: إنما أنا قَهرمانٌ من قهارمتِك على هذا القصر، تحت يدي ألفُ قَهرمان، كلُّهم على ما أنا عليه، قال: فيَنطلِق به عند ذلك حتى يفتحَ القصر، وهو دُرَّةٌ مجوَّفةٌ سقائفُها وأبوابُها وأغلاقُها ومفاتيحُها منها، فيفتحُ له القصر، فيستقبلُه جوهرةٌ خضراءُ مبطَّنةٌ بحمراءَ سبعون ذراعًا، فيها ستون بابًا، كلُّ بابٍ يُفْضي إلى جوهرة واحدة على غير لون صاحبتها، في كلِّ جوهرةٍ سُرُرٌ وأزواجٌ وتصاريفُ - أو قال: ووصائف (1) قال: فيدخل فإذا هو بحَوْراءَ عَيناءَ عليها سبعون حُلَّةً، يُرى مخ ساقها من وراء حُلَلِها، كَبِدُها مِرآتُه وكَبِدُه مِرأتُها، إذا أعرض عنها إعراضةً ازدادت في عينه سبعين ضِعفًا [عمَّا كان قبلَ ذلك، فيقول: لقد ازدَدتِ في عيني سبعين ضِعفًا] (2) وتقول له مثل ذلك، قال: فيُشرِفُ ببصرِه على مُلكِه مسيرةَ مئةِ عام. قال: فقال عمرُ عند ذلك: يا كعبُ، ألا تسمعُ إلى ما يحدِّثُنا ابن أمِّ عبدٍ عن أدنى أهلِ الجنة ما له، فكيف بأعلاهم؟ قال: يا أمير المؤمنين، ما لا عينٌ رأت، ولا أُذنٌ سَمِعَت، إنَّ الله كان فوق العرشِ والماءِ فخلق لنفسِه دارًا بيده، فزَيَّنَها بما شاء، وجعل فيها من الثَّمَرات والشَّراب، ثم أطبَقَها فلم يرها أحدٌ من خلقه منذُ يوم خَلَقَها، جبريلُ ولا غيرُه من الملائكة؛ ثم قرأَ كعبٌ: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [السجدة: 17] ، وخلق دونَ ذلك جنَّتين، فزَيَّنَهما بما شاء، وجعل فيهما ما ذَكَرَ من الحرير والسُّندُس والإستبرَق، وأَراهما من شاء من خلقِه من الملائكة، فمن كان كتابُه في عِلِّيِّينَ يُرَى في تلك الدار، فإذا رَكِبَ الرجلُ من أهل عِلِّيِّين في مُلكِه لم يبقَ (1) خيمةٌ من خيام الجنة إلَّا دخلها من ضَوْء وجهه، حتى إنهم يستنشقون ريحَه ويقولون: واهًا لهذه الريح الطَّيِّبة، ويقولون: لقد أشرَفَ علينا اليوم رجلٌ من أهل عِليِّين، فقال عمر: وَيحَك يا كعبُ، إنَّ هذه القلوبَ قد استَرسَلَت فاقبِضْها، فقال كعب: يا أميرَ المؤمنين، إنَّ لجهنَّمَ زَفْرةً ما من مَلَكٍ مُقرَّب ولا نبيٍّ، إلَّا يَخِرُّ الرُكبتَيهِ، حتى يقولَ إبراهيمُ خليل الله: ربِّ نَفْسي نَفْسي، وحتى لو كان لك عملُ سبعين نبيًا إلى عملِك، لظننتَ أن لا تَنجُوَ منها (2) . رواةُ هذا الحديث عن آخرهم ثِقاتٌ، غيرَ أنهما لم يُخرِّجا أبا خالد الدَّالاني في"الصحيحين" لما ذُكِرَ من انحرافه عن السُّنة في ذِكْر الصحابة، فأما الأئمةُ المتقدِّمون فكلُّهم شَهِدوا لأبي خالد بالصدق والإتقان، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه، وأبو خالد الدَّالاني ممَّن يُجمَع حديثُه في أئمَّة أهل الكوفة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8751 - ما أنكره حديثا على جودة إسناده
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8751 - ما أنكره حديثا على جودة إسناده
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا، تو ایک منادی آواز دے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری صورت گری کی اور تمہیں رزق دیا، کہ وہ ہر انسان کو اسی کے حوالے کر دے جس کی وہ دنیا میں عبادت کرتا تھا اور اس سے عقیدت رکھتا تھا، کیا یہ تمہارے رب کی طرف سے انصاف نہیں ہے؟ لوگ کہیں گے: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چنانچہ تم میں سے ہر انسان اس کی طرف چلا جائے گا جس سے وہ دنیا میں عقیدت رکھتا تھا، اور ان کے سامنے ان چیزوں کی شکلیں بنا دی جائیں گی جن کی وہ دنیا میں عبادت کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں سیدنا عیسیٰ کی عبادت کی ہوگی اس کے لیے عیسیٰ کے شیطان کی شکل بنا دی جائے گی، جس نے عزیر کی عبادت کی ہوگی اس کے لیے عزیر کے شیطان کی شکل بنا دی جائے گی، یہاں تک کہ ان کے سامنے درخت، لکڑی اور پتھر کی شکلیں بھی پیش کر دی جائیں گی۔ اور اہل اسلام گھٹنوں کے بل گرے ہوئے باقی رہ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: تمہیں کیا ہوا، تم اس طرح کیوں نہیں چلے گئے جس طرح باقی لوگ چلے گئے ہیں؟ وہ عرض کریں گے: بے شک ہمارا ایک رب ہے جسے ہم نے ابھی تک نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ پوچھے گا: اگر تم اپنے رب کو دیکھ لو تو اسے کیسے پہچانو گے؟ وہ عرض کریں گے: ہمارے اور اس کے درمیان ایک نشانی ہے، اگر ہم اسے دیکھ لیں گے تو پہچان لیں گے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: وہ نشانی کیا ہے؟ پس پنڈلی سے پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہر وہ شخص جس کی پیٹھ (دنیا میں سجدے کے لیے جھکتی) تھی، سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے گا، اور کچھ ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی پیٹھیں گائے کے سینگوں کی طرح (سخت) ہوں گی، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہیں کر سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر انہیں حکم دیا جائے گا تو وہ اپنے سر اٹھائیں گے، تو انہیں ان کے اعمال کے بقدر نور عطا کیا جائے گا۔ ان میں سے کسی کو اس کے سامنے پہاڑ جتنا نور دیا جائے گا، کسی کو اس سے کم نور دیا جائے گا، کسی کو اس کے دائیں ہاتھ میں کھجور کے درخت جتنا نور دیا جائے گا، اور کسی کو اس سے بھی کم دیا جائے گا، یہاں تک کہ ان میں سب سے آخری شخص وہ ہوگا جسے اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر نور دیا جائے گا، جو کبھی جلے گا اور کبھی بجھ جائے گا، جب وہ جلے گا تو وہ اپنا قدم آگے بڑھائے گا اور جب بجھ جائے گا تو کھڑا ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ پل صراط پر سے گزریں گے، اور پل صراط تلوار کی دھار کی طرح تیز اور پھسلنے والی جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کہا جائے گا کہ اپنے نور کے بقدر نجات حاصل کرو (گزر جاؤ)۔ چنانچہ ان میں سے کوئی ٹوٹتے ہوئے تارے کی طرح گزرے گا، کوئی ہوا کی طرح گزرے گا، کوئی آدمی کے تیز دوڑنے کی طرح اور کوئی ہلکی دوڑ دوڑتے ہوئے گزرے گا۔ وہ اپنے اعمال کے بقدر گزریں گے، یہاں تک کہ وہ شخص گزرے گا جس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر ہوگا، اس کا ایک ہاتھ گرے گا تو دوسرا لٹک جائے گا، ایک پاؤں گرے گا تو دوسرا لٹک جائے گا، اور آگ اس کے پہلوؤں کو چھوئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ (اس طرح) نجات پا جائیں گے، اور جب وہ نجات پا لیں گے تو کہیں گے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے دیکھنے کے بعد ہمیں تجھ سے نجات عطا فرمائی، یقیناً اللہ نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے جو اس نے کسی اور کو عطا نہیں کیا۔ پھر وہ جنت کے دروازے کے قریب ایک کم گہرے پانی کی طرف جائیں گے، اس میں غسل کریں گے تو ان کی طرف جنتیوں کی خوشبو اور ان کے رنگ لوٹ آئیں گے، اور وہ جنت کے دروازے کی درزوں سے دیکھیں گے، جبکہ وہ دروازہ بند ہوگا، اور یہ جنت کے سب سے نچلے درجے میں ایک مقام ہوگا۔ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں یہ مقام عطا فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: تم مجھ سے جنت مانگ رہے ہو حالانکہ میں نے تمہیں ابھی آگ سے نجات دی ہے؟! وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں یہ عطا فرما دے، اور اس دروازے کو ہمارے اور آگ کے درمیان آڑ بنا دے تاکہ ہم اس کی آواز نہ سنیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: اگر تمہیں یہ عطا کر دیا جائے تو شاید تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگنے لگو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عرض کریں گے: نہیں، تیری عزت کی قسم! ہم تجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگیں گے، اور بھلا اس سے بہتر اور کون سا مقام ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو انہیں وہ دے دیا جائے گا، پھر ان کے سامنے اس سے آگے ایک اور مقام بلند کیا جائے گا، جسے دیکھ کر انہیں اپنا پہلا مقام ایک خواب معلوم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں وہ مقام عطا فرما دے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: اگر تمہیں یہ عطا کر دیا جائے تو شاید تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگنے لگو؟ وہ عرض کریں گے: نہیں، تیری عزت کی قسم! ہم تجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگیں گے، اور بھلا اس سے بہتر اور کون سا مقام ہو سکتا ہے؟ پھر وہ خاموش ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان سے کہا جائے گا: تمہیں کیا ہوا، تم سوال کیوں نہیں کرتے؟ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اتنا مانگا ہے کہ اب ہمیں حیا آنے لگی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں تمہیں دنیا کی تخلیق سے لے کر اس کے فنا ہونے تک کی مقدار کے برابر اور پھر اس سے دس گنا زیادہ عطا فرما دوں۔“ مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث کے اس حصے پر پہنچے تو ہنس پڑے۔ ایک شخص نے ان سے عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! آپ نے یہ حدیث کئی مرتبہ بیان کی ہے، اور جب بھی آپ اس حصے پر پہنچتے ہیں تو ہنس پڑتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حدیث کئی مرتبہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حصے پر پہنچتے تھے تو اتنا ہنستے تھے کہ آپ کا حلق اور آخری داڑھ ظاہر ہو جاتی تھی، کیونکہ وہ انسان کہے گا: ”کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو رب عزوجل فرمائے گا: نہیں، لیکن میں ایسا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہوں، پس مجھ سے مانگو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہمیں لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: لوگوں کے ساتھ مل جاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ جنت میں دوڑتے ہوئے جائیں گے، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص کے سامنے ایک کھوکھلے موتی کا محل ظاہر ہوگا، تو وہ سجدے میں گر پڑے گا۔ اس سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ۔ وہ سر اٹھائے گا تو کہا جائے گا: یہ تو تمہارے محلات میں سے صرف ایک محل ہے۔ وہ چلے گا تو اس کے سامنے ایک شخص آئے گا، وہ پوچھے گا: تو کوئی بادشاہ ہے یا فرشتہ؟ اسے بتایا جائے گا: یہ تو تمہارے خادموں میں سے ایک خادم اور تمہارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے۔ وہ شخص اس کے پاس آ کر کہے گا: میں تو اس محل پر مقرر تمہارے خادموں میں سے ایک خادم ہوں، میرے ماتحت ایک ہزار خادم ہیں اور وہ سب اسی حالت پر ہیں جس پر میں ہوں۔ پس وہ اسے لے کر چلے گا یہاں تک کہ وہ محل کا دروازہ کھولے گا، اور وہ ایک کھوکھلا موتی ہوگا جس کی چھتیں، دروازے، تالے اور چابیاں بھی اسی موتی میں سے ہوں گی۔ اس کے لیے محل کھلے گا تو اس کے سامنے ستر ہاتھ لمبا ایک سبز ہیرا آئے گا جس کے اندر سرخ رنگ ہوگا، اس میں ساٹھ دروازے ہوں گے، ہر دروازہ ایک ایسے ہیرے کی طرف کھلے گا جس کا رنگ دوسرے سے مختلف ہوگا۔ ہر ہیرے میں تخت، بیویاں، اور خادمائیں ہوں گی۔ وہ اس میں داخل ہوگا تو ایک خوبصورت بڑی آنکھوں والی حور کے پاس پہنچے گا جس نے ستر جوڑے پہنے ہوں گے، ان جوڑوں کے پیچھے سے اس کی پنڈلی کا گودا نظر آ رہا ہوگا، اس حور کا جگر اس شخص کا آئینہ ہوگا اور اس شخص کا جگر اس حور کا آئینہ ہوگا۔ جب وہ اس سے تھوڑی دیر کے لیے رخ پھیرے گا تو وہ اس کی نظروں میں پہلے سے ستر گنا زیادہ خوبصورت ہو جائے گی، اور وہ کہے گا: تم میری آنکھوں میں ستر گنا زیادہ حسین ہو گئی ہو۔ اور وہ بھی اسے یہی کہے گی۔ وہ اپنی اس بادشاہت پر نظر دوڑائے گا جو سو سال کی مسافت کے برابر ہوگی۔“ (یہ سن کر) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے کعب! کیا آپ سن رہے ہیں کہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) ہمیں جنت کے سب سے نچلے درجے والے شخص کے بارے میں کیا بتا رہے ہیں کہ اسے کیا ملے گا، تو پھر جنت کے اعلیٰ درجے والوں کا کیا حال ہوگا؟ تو کعب نے فرمایا: اے امیرالمومنین! (ان کے لیے وہ کچھ ہے) جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ بے شک اللہ تعالیٰ عرش اور پانی کے اوپر تھا تو اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے لیے ایک گھر بنایا، پھر اسے جس چیز سے چاہا مزین کیا، اور اس میں پھل اور مشروبات رکھے، پھر اسے بند کر دیا تو اس کی پیدائش کے دن سے لے کر آج تک اسے اس کی مخلوق میں سے کسی نے نہیں دیکھا، نہ جبرائیل نے اور نہ ہی کسی اور فرشتے نے۔ پھر کعب نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔“ [سورة السجدة: 17] اور اس سے نیچے اس نے دو اور جنتیں بنائیں اور انہیں جس چیز سے چاہا مزین کیا، اور ان میں وہ ریشم، سندس اور استبرق رکھا جس کا ذکر کیا گیا ہے، اور اسے اپنی مخلوق اور فرشتوں میں سے جسے چاہا دکھایا۔ پس جس کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا وہ اس گھر میں دیکھا جا سکے گا، اور جب علیین والوں میں سے کوئی شخص اپنی بادشاہت میں سوار ہو کر نکلے گا تو جنت کے خیموں میں سے کوئی خیمہ ایسا نہیں بچے گا جس میں اس کے چہرے کی روشنی نہ پہنچے، یہاں تک کہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں گے اور کہیں گے: واہ! کیا عمدہ خوشبو ہے۔ اور کہیں گے: آج علیین والوں میں سے کسی شخص نے ہم پر جھانکا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھ پر رحم ہو اے کعب! ان دلوں کو کچھ ڈھیل مل گئی ہے، اب انہیں ذرا سکیڑئیے (یعنی آخرت کا خوف دلایئے)۔ تو کعب نے فرمایا: اے امیرالمومنین! بے شک جہنم کی ایک ایسی چیخ ہوگی کہ کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی نبی ایسا نہیں بچے گا جو گھٹنوں کے بل نہ گر پڑے، یہاں تک کہ اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام بھی کہیں گے: ”اے میرے رب! (آج مجھے صرف) میری جان، میری جان (کی فکر ہے)۔“ اور اگر آپ کے پاس آپ کے اپنے عمل کے ساتھ مزید ستر انبیاء کا عمل بھی ہو، تب بھی آپ یہی گمان کریں گے کہ آپ اس سے نجات نہیں پا سکتے۔
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، البتہ ان دونوں (شیخین) نے ”صحیحین“ میں ابوالخالد دالانی سے تخریج نہیں کی کیونکہ ان کے بارے میں صحابہ کرام کے تذکرے میں سنت سے انحراف کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن متقدمین ائمہ نے ابوالخالد کی سچائی اور پختگی کی گواہی دی ہے۔ اور یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابوالخالد دالانی اہل کوفہ کے ان ائمہ میں سے ہیں جن کی احادیث جمع کی جاتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8966]
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، البتہ ان دونوں (شیخین) نے ”صحیحین“ میں ابوالخالد دالانی سے تخریج نہیں کی کیونکہ ان کے بارے میں صحابہ کرام کے تذکرے میں سنت سے انحراف کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن متقدمین ائمہ نے ابوالخالد کی سچائی اور پختگی کی گواہی دی ہے۔ اور یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابوالخالد دالانی اہل کوفہ کے ان ائمہ میں سے ہیں جن کی احادیث جمع کی جاتی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8966]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني، وقال ابن القيم في "حادي الأرواح": هذا حديث كبير حسنٌ» [ترقيم الرساله 8966] [ترقيم الشركة 8857] [ترقيم العلميه 8751]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أبي خالد الدالاني