🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب فِي فَضْلِ الْحَرْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: اللہ کی راہ میں پہرہ دینے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2501
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ أَبُو كَبْشَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَتْ عَشِيَّةً، فَحَضَرْتُ الصَّلَاةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ آبَائِهِمْ بِظُعُنِهِمْ وَنَعَمِهِمْ وَشَائِهِمُ اجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ: أَنَسُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: فَارْكَبْ، فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ وَلَا نُغَرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَحْسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَسْنَاهُ فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَكُمْ فَارِسُكُمْ، فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى خِلَالِ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ اطَّلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ كِلَيْهِمَا فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ نَزَلْتَ اللَّيْلَةَ؟، قَالَ: لَا، إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيًا حَاجَةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَوْجَبْتَ فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا".
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن چلے اور بہت ہی تیزی کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ شام ہو گئی، میں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اتنے میں ایک سوار نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں آپ لوگوں کے آگے گیا، یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں، چوپایوں اور بکریوں کے ساتھ بھاری تعداد میں مقام حنین میں جمع ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ان شاءاللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے، پھر فرمایا: رات میں ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟ انس بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سوار ہو جاؤ، چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھاٹی میں جاؤ یہاں تک کہ اس کی بلندی پہ پہنچ جاؤ اور ایسا نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے آج کی رات دھوکہ کھا جائیں، جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر آئے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا: تم نے اپنے سوار کو دیکھا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے نہیں دیکھا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے لیکن دوران نماز کنکھیوں سے گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے اور سلام پھیرا تو فرمایا: خوش ہو جاؤ! تمہارا سوار آ گیا، ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے، یکایک وہی سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا اور کہنے لگا: میں گھاٹی کے بالائی حصہ پہ چلا گیا تھا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو جب صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں دکھائی پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم آج رات گھوڑے سے اترے تھے؟، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ نماز پڑھنے کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے اترا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنے لیے جنت کو واجب کر لیا، اب اگر اس کے بعد تم عمل نہ کرو تو تمہیں کچھ نقصان نہ ہو گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2501]
سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ہم) لوگ غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور بہت لمبی مسافت طے کی حتیٰ کہ پچھلا پہر ہو گیا۔ سو میں نماز کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھا کہ ایک گھوڑ سوار آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے آگے آگے چلتا رہا حتیٰ کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھ گیا تو دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے سب لوگ اپنی عورتوں، چوپاؤں اور بکریوں سمیت حنین کی طرف جمع ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور کہا: کل ان شاء اللہ یہ سب مسلمانوں کی غنیمت ہو گا۔ پھر فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا انس بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تو سوار ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے اس سے فرمایا: اس گھاٹی کی طرف چلے جاؤ حتیٰ کہ اس کے اوپر چڑھ جاؤ اور ایسا نہ ہو کہ رات میں ہم تمہاری طرف سے دھوکہ کھا جائیں۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دریافت فرمایا: کیا تم نے اپنے سوار کو دیکھا ہے؟ صحابہ نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم نے اس کو نہیں دیکھا ہے۔ پھر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے اور اس دوران میں آپ گھاٹی کی طرف بھی دیکھتے رہے حتیٰ کہ جب نماز مکمل کر لی اور سلام پھیر لیا تو فرمایا: خوشخبری ہو، تمہارا سوار آ گیا ہے۔ پس ہم بھی درختوں میں سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے، تو وہ سامنے آ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کھڑا ہوا۔ اس نے سلام کیا اور کہا: میں (آپ کے ہاں سے) روانہ ہوا حتیٰ کہ اس گھاٹی کے اوپر چڑھ گیا جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا، جب صبح ہوئی تو میں نے دونوں گھاٹیوں میں دیکھا تو مجھے کوئی شخص نظر نہیں آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم رات کو (گھوڑے سے) اترے بھی تھے؟ اس نے کہا: نہیں، صرف نماز پڑھنے یا قضائے حاجت کے لیے ہی اترا ہوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم نے اپنے لیے لازم کر لی (جنت) تم اس کے بعد اور کوئی عمل نہ بھی کرو تو کوئی مؤاخذہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4650)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ السیر (8870) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی تمہارے لئے تمہارا یہی عمل جنت میں داخل ہونے کے لئے کافی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5932)
انظر الحديث السابق (416)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں