🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب فِي النُّورِ يُرَى عِنْدَ قَبْرِ الشَّهِيدِ
باب: شہید کی قبر پر دکھائی دینے والی روشنی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُرَى عَلَى قَبْرِهِ نُورٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2523]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: جب نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر نور دکھائی دیتا ہے۔ ابوسعید نے کہا: احمد بن عبدالجبار نے ہمیں بیان کیا کہ ہم کو یزید بن بکیر نے ابن اسحاق سے اسی کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17356) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی سلمہ روایت میں بہت غلطیاں کرتے تھے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5947)
أخرجه ابن ھشام في السيرة (1/364 بتحقيقي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُلْتُمْ فَقُلْنَا: دَعَوْنَا لَهُ، وَقُلْنَا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَصَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ؟" شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ إِنَّ بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.
عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ ہم نے جواب دیا: ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ: اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی نمازیں کہاں گئیں، جو اس نے اپنے ساتھی کے (قتل ہونے کے) بعد پڑھیں، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے ۱؎ شعبہ کو «صومه بعد صومه» اور «عمله بعد عمله» میں شک ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2524]
سیدنا عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا تھا۔ چنانچہ ایک (جہاد میں) قتل ہو گیا اور اس کا دوسرا ساتھی ایک ہفتہ بعد یا اس کے قریب فوت ہوا، ہم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے (اس کے حق میں) کیا کہا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے اس کے لیے دعا کی اور کہا: اے اللہ! اس کو اپنے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی وہ نمازیں جو اس کے بعد پڑھتا رہا، وہ روزے جو اس کے بعد رکھتا رہا اور وہ عمل جو اس کے بعد کرتا رہا، کیا ہوئے؟ ان کے درمیان تو اتنا فاصلہ ہے جیسے کہ زمین و آسمان کے درمیان۔ شعبہ کو «فِي صَوْمِهِ» اس کے روزوں میں کے الفاظ میں شک ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجنائز 77 (1987)، (تحفة الأشراف: 9742)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/500، 4/219) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہو گئی ہو کہ بغیر شہادت کے ہی اس کا عمل اس کے اخلاص اور خشوع و خضوع کی زیادتی کے سبب شہید کے عمل کے برابر ہے، پھر اسے جو مزید عمل کا موقع ملا تو اس کی وجہ سے اس کا ثواب اس شہید کے ثواب سے فزوں ہو گیا کتنے شہداء ایسے ہیں جو صدیقین کے مقام و مرتبہ کو نہیں پاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5286)
أخرجه النسائي (1987 وسنده حسن) عبد الله بن ربيعة وثقه ابن حبان وھو مختلف في صحبته فمثله: حديثه حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں