سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب النَّهْىِ عَنِ الْوَسْمِ، فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ
باب: چہرے پر داغنا اور مارنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ:" أَمَا بَلَغَكُمْ أَنِّي قَدْ لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَةَ فِي وَجْهِهَا أَوْ ضَرَبَهَا فِي وَجْهِهَا"، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2564]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا لے جایا گیا جس کے چہرے پر داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ میں نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو کسی جانور کو اس کے چہرے پر داغے یا اس کے منہ پر مارے؟“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2757)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 29 (2117)، سنن الترمذی/الجھاد 30 (1710)، مسند احمد (3/323) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2117)