🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب النهى عن الوسم، في الوجه والضرب في الوجه
باب: چہرے پر داغنا اور مارنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ:" أَمَا بَلَغَكُمْ أَنِّي قَدْ لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَةَ فِي وَجْهِهَا أَوْ ضَرَبَهَا فِي وَجْهِهَا"، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2564]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا لے جایا گیا جس کے چہرے پر داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ میں نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو کسی جانور کو اس کے چہرے پر داغے یا اس کے منہ پر مارے؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2757)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 29 (2117)، سنن الترمذی/الجھاد 30 (1710)، مسند احمد (3/323) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2117)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5550
نهى رسول الله عن الضرب في الوجه عن الوسم في الوجه
صحيح مسلم
5552
لعن الله الذي وسمه
جامع الترمذي
1710
نهى عن الوسم في الوجه والضرب
سنن أبي داود
2564
لعنت من وسم البهيمة في وجهها ضربها في وجهها فنهى عن ذلك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2564 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2564
فوائد ومسائل:

چہرہ جسم کا قابل عزت حصہ ہے۔
انسان کا ہویا حیوان کا چہرے پر مارنا ممنوع ہے۔


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعنت کرنا اپنی مرضی سے نہ تھا، بلکہ الہام الہی کی بنیاد پر تھا-
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2564]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1710
جانوروں کو باہم لڑانے، مارنے اور ان کے چہرے پر داغنے کی کراہت کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1710]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے،
چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہو سکتے ہیں،
ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے،
اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1710]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5550
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور چہرے کو داغنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5550]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
الوسم:
داغ،
علامت،
نشان۔
فوائد ومسائل:
امام نووی فرماتے ہیں،
ہر قابل احترام جاندار کے چہرے پر مارنا ممنوع ہے،
انسان،
گدھا،
گھوڑا،
اونٹ،
خچر اور بھیڑ بکری وغیرہ سب اس میں داخل ہیں،
لیکن آدمی کے چہرے پر مارنا انتہائی ممنوع ہے،
کیونکہ چہرہ تمام محاسن کا مرکز ہے اور لطیف (نرم و نازک)
عضو ہے،
جس پر مار کا اثر و نشان پڑ جاتا ہے اور بسا اوقات اس کی بدصورتی کا باعث بنتا ہے اور بعض دفعہ اس سے جو اس کو تکلیف پہنچ جاتی ہے،
اور چہرے پر داغ دینا بھی جائز نہیں ہے،
انسان کے سوا باقی حیوانات کو چہرے کے سوا داغنا ضرورت کے وقت جائز ہے،
اس طرح چہرے کے سوا ضرورت کے تحت مارنا بھی جائز ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5550]

Sunan Abi Dawud Hadith 2564 in Urdu