پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. باب في القوم يسافرون يؤمرون أحدهم
باب: ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں۔
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ"، قَالَ نَافِعٌ: فَقُلْنَا لِأَبِي سَلَمَةَ: فَأَنْتَ أَمِيرُنَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎“، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2609]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد سفر میں ہوں تو چاہیے کہ ایک کو اپنا امیر بنا لیں۔“ نافع (مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: (یہ حدیث سننے کے بعد) ہم نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے کہا: ”آپ ہمارے امیر ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15349) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا تا کہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2608) لعلته وللحديث طرق ضعيفة
وأخرج الطبراني (الكبير 208/9 ح 8915) بإسناد حسن عن ابن مسعود قال : ’’ إذا كنتم ثلاثة في سفر فأمروا عليكم أحد كم ‘‘ إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2608) لعلته وللحديث طرق ضعيفة
وأخرج الطبراني (الكبير 208/9 ح 8915) بإسناد حسن عن ابن مسعود قال : ’’ إذا كنتم ثلاثة في سفر فأمروا عليكم أحد كم ‘‘ إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2609
| إذا كان ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2609 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2609
فوائد ومسائل:
1۔
اس نظم سے امور سفر مرتب اور آسان ہو جاتے ہیں۔
اور سب کو سہولت رہتی ہے۔
نفسی نفسی کا عالم نہیں ہوتا۔
نیز جب اس معمولی اجتماع میں امیر مقرر کرنے کی تاکید ہے۔
تو امارت عظمیٰ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوئی۔
2۔
قوم کو کسی بھی وقت امیر اور امارت کے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔
1۔
اس نظم سے امور سفر مرتب اور آسان ہو جاتے ہیں۔
اور سب کو سہولت رہتی ہے۔
نفسی نفسی کا عالم نہیں ہوتا۔
نیز جب اس معمولی اجتماع میں امیر مقرر کرنے کی تاکید ہے۔
تو امارت عظمیٰ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوئی۔
2۔
قوم کو کسی بھی وقت امیر اور امارت کے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2609]
Sunan Abi Dawud Hadith 2609 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي