سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب عِيَادَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، قَالَتْ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَرِيضَةٌ، فَقَالَ:" أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ".
ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3092]
سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ام علاء! تمہیں خوشخبری ہو، بلاشبہ مسلمان کی بیماری کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جیسے کہ آگ سونے اور چاندی کا کھوٹ نکال دیتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18339) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر المعجم الكبير للطبراني (10/186 ح 10406 وسنده حسن) وھو يغني عنه (معاذ علي زئي)
انظر المعجم الكبير للطبراني (10/186 ح 10406 وسنده حسن) وھو يغني عنه (معاذ علي زئي)
حدیث نمبر: 3093
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ،عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ، قَالَ:" أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ؟ قَالَتْ: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، قَالَ: أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ أَوِ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ، وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ، قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، قَالَ: ذَاكُمُ الْعَرْضُ، يَا عَائِشَةُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ!“، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» ”جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا“ (سورۃ النساء: ۱۲۳)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہو جاتی ہے، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہو گا“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا“ (سورۃ الانشقاق: ۸)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کر لیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3093]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں خوب جانتی ہوں کہ قرآن مجید میں سب سے سخت آیت کون سی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی آیت ہے وہ؟ اے عائشہ!“ کہتی ہیں، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] ”جس نے بھی کوئی برائی کی، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مومن کو جو کوئی پریشانی آتی ہے یا کانٹا بھی چبھ جاتا ہے تو اسے اس کے کسی سب سے برے عمل کا بدلہ دے دیا جاتا ہے اور جس کا حساب لیا گیا تو اسے عذاب ہوا۔“ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”تو کیا اللہ نے نہیں فرمایا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 8] ”عنقریب بندے کا حساب لیا جائے گا آسان حساب؟““ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری ہے، اے عائشہ! جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گئی، اسے عذاب ہوا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ابن بشار کے لفظ ہیں، اور اس کی سند میں «عَنْ» کی بجائے «حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 36 (103)، وتفسیر القرآن 1 (4939)، صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا 18 (2876)، سنن الترمذی/صفة القیامة 5 (2426)، وتفسیر القرآن 75 (3337)، مسند احمد (4/47) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد لكن شطر من حوسب عذب الخ صحيح ق
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أبو عامر الخزاز صالح بن رستم: حسن الحديث، وأصله متفق عليه بالإختصار البخاري (4939) ومسلم (2876)
أبو عامر الخزاز صالح بن رستم: حسن الحديث، وأصله متفق عليه بالإختصار البخاري (4939) ومسلم (2876)