🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب عيادة النساء
باب: عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، قَالَتْ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَرِيضَةٌ، فَقَالَ:" أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ".
ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18339) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر المعجم الكبير للطبراني (10/186 ح 10406 وسنده حسن) وھو يغني عنه (معاذ علي زئي)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم العلاء بنت الحارث الأنصارية، أم العلاءصحابي
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← أم العلاء بنت الحارث الأنصارية
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة ثبت
👤←👥سهل بن بكار القيسي، أبو بشر
Newسهل بن بكار القيسي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3092
مرض المسلم يذهب الله به خطاياه كما تذهب النار خبث الذهب والفضة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3092 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3092
فوائد ومسائل:

مریض کی عیادت کرنا ایک لازمی شرعی حق ہے۔
مردوں کا مردوں کے ہاں اور عورتوں کا عورتوں کے ہاں جانا معلوم ومعروف ہے۔
مگر مرد عورتوں کی عیادت کےلئے جایئں۔
یا عورتیں مردوں کی تو اس میں بھی کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔
جب کہ شرعی آداب یعنی حجاب (پردے) کا اہمتمام ہوا اور اس عمل پر کوئی ضروری نہیں کہ مریض اورعیادت کنندہ کی باہم گفتگو بھی ہو۔
مرد مردوں کے پاس جاکر مریضہ کے متعلق خیر وعافیت دریافت کرسکتے ہیں۔
اور ایسے ہی عورتیں۔


مذکورہ واقعہ میں حضرت ام علاء کے شرف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کا بیان ہے۔
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور صحابیات سب کا خاص خیال رکھا کرتے تھے۔


یہ خوشخبری مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3092]