سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. باب مَا يُقْرَأُ عَلَى الْجَنَازَةِ
باب: جنازے میں قرآت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: إِنَّهَا مِنَ السُّنَّةِ".
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازہ کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور کہا: یہ سنت میں سے ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3198]
سیدنا طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازہ پڑھا تو انہوں نے سورۃ فاتحہ کی قرأت کی اور کہا: ”یہ سنت ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 65 (1335)، سنن الترمذی/الجنائز 39 (1027)، سنن النسائی/الجنائز 77 (1989)، (تحفة الأشراف: 5764)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 22 (1495) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہی محققین علماء کا مذہب ہے، یعنی چار تکبیریں کہے اور تکبیر اولی کے بعد سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1335)
مشكوة المصابيح (1673)
مشكوة المصابيح (1673)