🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب الرَّجُلَيْنِ يَدَّعِيَانِ شَيْئًا وَلَيْسَتْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ
باب: دو آدمی ایک چیز پر دعویٰ کریں اور گواہ کسی کے پاس نہ ہوں اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3613]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ایک اونٹ یا کسی جانور کا دعویٰ کیا لیکن کسی کے پاس گواہ نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دونوں کے مابین (آدھا آدھا) کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/آداب القضاة 34 (5426)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2330)، (تحفة الأشراف والإرواء: 2656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/402) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (قتادة سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسی اشعری سے ہے، اور بعض رواة اسے سعید بن ابی بردہ عن ابیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
سعيد بن أبي عروبة تابعه شعبة عند أحمد (4/402) وللحديث شواھد عند ابن حبان (1201) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3614]
جناب سعید (سعید بن ابی بردہ) رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9088) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3613)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِمَعْنَى إِسْنَادِهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ.
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3615]
جناب قتادہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے بیان کیا جو مذکورہ بالا حدیث کے قریب قریب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو آدمیوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا اور ان دونوں نے دو دو گواہ بھی پیش کر دیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے مابین نصف نصف کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 3613، (تحفة الأشراف: 9088) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3772)
انظر الحديث السابق (3613)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِي مَتَاعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ مَا كَانَ أَحَبَّا ذَلِكَ أَوْ كَرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3616]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی کسی مال کا تنازع لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لو، جس کا بھی نکل آئے، تمہیں یہ پسند ہو یا نہ۔ (اس کا یہی حل ہے کہ جو قسم کھائے گا مال لے لے گا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأحکام 11 (2329)، (تحفة الأشراف: 14662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/489، 524) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قسم (حلف) پر قرعہ اندازی کا مطلب یہ ہے کہ جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر سامان لے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329،2346)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَرِهَ الِاثْنَانِ الْيَمِينَ أَوِ اسْتَحَبَّاهَا فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا"، قَالَ سَلَمَةُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَقَالَ: إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں (اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے)۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3617]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دونوں قسم کھانا ناپسند کریں یا دونوں ہی قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈال لیں۔ سلمہ (سلمہ بن شبیب) نے کہا: ہمیں معمر نے خبر دی کہ جب دونوں قسم کھانے پر مجبور کر دیے جائیں تو قرعہ ڈال لیں (کہ کون قسم کھائے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الشہادات 24 (2674)، (تحفة الأشراف: 14698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/317)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6001) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أصله عند البخاري (2574) بغير ھذا اللفظ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، بِإِسْنَادِ ابْنِ مِنْهَالٍ مِثْلَهُ، قَالَ: فِي دَابَّةٍ وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ.
سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3618]
جناب سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ نے حجاج بن منہال رحمہ اللہ کی سند سے اس حدیث کے مثل روایت کیا، انہوں نے کہا کہ دو آدمیوں نے ایک جانور کے سلسلے میں جھگڑا کیا اور کسی کے پاس گواہ نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3616)، (تحفة الأشراف: 14662) (صحیح) بما قبلہ» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2329)
قتادة وسعيد بن أبي عروبة مدلسان وعنعنا (معاذ علي زئي)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں