🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب مَا جَاءَ فِي التَّعَرِّي
باب: ننگے ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4016
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: حَمَلْتُ حَجَرًا ثَقِيلًا، فَبَيْنَا أَمْشِي، فَسَقَطَ عَنِّي ثَوْبِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ وَلَا تَمْشُوا عُرَاةً".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بھاری پتھر اٹھائے ہوئے چل رہا تھا کہ اسی دوران میرا کپڑا (تہبند میرے جسم سے کھل کر) گر پڑا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا کر باندھ لو اور ننگے نہ چلو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4016]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (ایک بار) ایک بھاری پتھر اٹھائے چلا جا رہا تھا کہ میرا کپڑا گر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنا کپڑا لے لو اور برہنہ ہو کر مت چلو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 19 (341)، (تحفة الأشراف: 11266) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (341)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4017
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى نَحْوَهُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَيَنَّهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ: اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ".
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنا ستر کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈیوں کے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سے ہو سکے کہ تمہارا ستر کوئی نہ دیکھے تو اسے کوئی نہ دیکھے وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی تنہا خالی جگہ میں ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے بہ نسبت اللہ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4017]
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ہمارے ستروں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، کیا اختیار کریں اور کیا چھوڑیں؟ (یعنی کس سے چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرمگاہ (اور ستر) کی حفاظت کرو، صرف بیوی یا لونڈی سے اجازت ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ آپس میں ملے جلے بیٹھے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک ہو سکے کوئی تیرا ستر ہرگز نہ دیکھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جب کوئی اکیلا ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی نسبت اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الطہارة قبیل حدیث (278 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الأدب 39 (2794)، سنن ابن ماجہ/النکاح 28 (1920)، (تحفة الأشراف: 11380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/3، 4) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3117)
أخرجه الترمذي (2794 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (1920 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4018
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عُرْيَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عُرْيَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثَوْبٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ستر کو نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی عورت کے ستر کو نہ دیکھے اور نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4018]
جناب عبدالرحمٰن بن ابو سعید خدری اپنے والد سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی دوسرے مرد کا ستر نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کا ستر دیکھے، نہ کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 17 (338)، النکاح 21 (1437)، سنن الترمذی/الأدب 38 (2793)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 137 (661)، (تحفة الأشراف: 4115) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (338)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4019
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ. ح حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا وَلَدًا، أَوْ وَالِدًا، قَالَ: وَذَكَرَ الثَّالِثَةَ، فَنَسِيتُهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ (ایک کپڑے میں) ہرگز نہ لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ لیٹے سوائے بیٹے اور باپ کے۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے تیسرے کا بھی ذکر کیا لیکن میں اسے بھول گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4019]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ یا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ہرگز نہ لیٹے، مگر بیٹا یا باپ ہو تو جائز ہے۔ راوی نے کہا کہ تیسری بات بھی ذکر کی تھی جو میں بھول گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2174)، (تحفة الأشراف: 15486) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں طفاوی مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (2174)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں