سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6.1. باب
باب: قیمتی لباس پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4034
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً، فَقَبِلَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ شاہ ذی یزن ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا جسے اس نے (۳۳) اونٹ یا اونٹنیاں دے کر لیا تھا تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4034]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”شاہ ذی یزن (بنو حمیر) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حلہ (کپڑوں کا جوڑا) ہدیہ بھیجا جو اس نے تینتیس اونٹوں یا اونٹنیوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/221)، سنن الدارمی/السیر 53 (2536) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: ذی یزن حمیری بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کا نام تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال أحمد في عمارة بن زاذان :’’ يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير ‘‘ (الجرح والتعديل 6/ 366 وسنده صحيح)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
إسناده ضعيف
قال أحمد في عمارة بن زاذان :’’ يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير ‘‘ (الجرح والتعديل 6/ 366 وسنده صحيح)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
حدیث نمبر: 4035
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى حُلَّةً بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ قَلُوصًا، فَأَهْدَاهَا إِلَى ذِي يَزَنَ".
اسحاق بن عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یزن کو ہدیے میں بھیجا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4035]
اسحاق بن عبداللہ بن حارث رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس سے کچھ اوپر اونٹنیاں دے کر ایک جوڑا خریدا اور پھر ذی یزن کی طرف ہدیہ بھیج دیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18434) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل وعلي بن زيد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144
إسناده ضعيف
السند مرسل وعلي بن زيد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 144