سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لِبَاسِ الْغَلِيظِ
باب: موٹے کپڑے پہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4036
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَعْنَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ، فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ".
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے «ملبدة» کہا جاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4036]
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں ایک موٹا تہبند دکھایا، جیسے کہ یمن میں بنتے ہیں اور ایک اونی چادر جسے «مُلَبَّدَةٌ» کہتے ہیں (بوجہ پیوند لگے ہونے کے یا موٹا ہونے کے اسے ملبدہ کہا گیا ہے)، انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی اور کہا: ”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ان دو کپڑوں میں ہوئی تھی۔“” [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فرض الخمس 5 (3108)، اللباس 19 (5818)، صحیح مسلم/اللباس 6 (2080)، سنن الترمذی/اللباس 10 (1733)، سنن ابن ماجہ/اللباس 1 (3551)، (تحفة الأشراف: 17693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/32، 131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2080)
حدیث نمبر: 4037
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو ثَوْرٍ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: ائْتِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا جَمِيلًا جَهِيرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ لَقَدْ" رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مَنِ الْحُلَلِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: ”تم ان لوگوں کے پاس جاؤ“ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4037]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حروریہ (خارجیوں) کا ظہور ہوا اور میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا، تو انہوں نے (مجھ سے) کہا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں۔ تو میں نے ایک خوبصورت یمنی حلہ زیب تن کیا۔ ابوزمیل رحمہ اللہ نے کہا: ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بڑے خوبرو اور وجیہ جوان تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں ان لوگوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھے «مَرْحَبًا» ”مرحبا“ کہا اور بولے: ”اے ابن عباس! یہ حلہ کیسا ہے؟“ (یعنی آپ نے اسے کیونکر زیب تن کیا ہے؟) تو انہوں نے جواب دیا: ”تم مجھ پر کیا اعتراض کرتے ہو، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی خوبصورت حلہ زیب تن کیے دیکھا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ابوزمیل کا نام سماک بن ولید حنفی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5676) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه الببيهقي (8/ 179 وسنده حسن)
أخرجه الببيهقي (8/ 179 وسنده حسن)