سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فِي لُبْسِ الصُّوفِ وَالشَّعْرِ
باب: اونی اور بال والے کپڑے پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4032
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْن يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَلِي، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ"،وقَالَ حُسَيْنٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں (کجاوہ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لیے کپڑا مانگا، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4032]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالوں کی بنی ہوئی کجاووں جیسے نقش والی سیاہ رنگ کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔“ اور حسین نے سند یوں بیان کی «حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا» یعنی ابن ابی زائدہ کی بجائے اصل نام و نسب ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/فضائل الصحابة 9 (2081)، سنن الترمذی/الأدب 49 (2813)، (تحفة الأشراف: 9753، 17857)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/185، 6/162) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[4032ب] إسناده ضعيف
عقيل بن مدرك لم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ : مقبول (تق : 4663) أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
[4032ب] إسناده ضعيف
عقيل بن مدرك لم يوثقه غير ابن حبان وقال الحافظ : مقبول (تق : 4663) أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
حدیث نمبر: 4033
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي:" يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ حَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ".
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے کہا: بیٹے! اگر تم ہمیں دیکھتے اور ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے اور بارش ہوئی ہوتی تو تم ہم میں بھیڑوں کی بو محسوس کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4033]
جناب ابوبردہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”اے بیٹے! اگر تم ہمیں دیکھتے جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہم پر بارش ہو جاتی تو تم سمجھتے کہ ہم سے بھیڑوں کی سی بو آتی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”مقصد ہے کہ اون کے لباس کی وجہ سے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 38 (2479)، سنن ابن ماجہ/اللباس 4 (3562)، (تحفة الأشراف: 9126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/407، 419) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ہمارے کپڑے کھالوں اور بالوں کے ہوتے تھے بھیگنے کی وجہ سے ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2479) ابن ماجه (3562)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
إسناده ضعيف
ترمذي (2479) ابن ماجه (3562)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143