🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب
باب:۔۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4289
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ جَيْشِ الْخَسْفِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟ قَالَ:" يُخْسَفُ بِهِمْ وَلَكِنْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہو گا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4289]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین میں دھنسا دیے جانے والے لشکر کا قصہ بیان کیا۔ اس میں ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کا کیا حال ہو گا، جسے مجبوراً ان کے ساتھ نکلنا پڑا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمین میں دھنسا تو دیا جائے گا مگر قیامت کے دن اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الفتن 2 (2882)،(تحفة الأشراف: 18194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2882)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4290
قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ هَارُونَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَنَظَرَ إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهُ فِي الْخُلُقِ وَلَا يُشْبِهُهُ فِي الْخَلْقِ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا، اور کہا: یہ میرا بیٹا سردار ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام رکھا ہے، اور عنقریب اس کی نسل سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہو گا، اور سیرت میں ان کے مشابہ ہو گا البتہ صورت میں مشابہ نہ ہو گا پھر انہوں نے «سيملأ الأرض عدلاً» کا واقعہ ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4290]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور اس اثنا میں انہوں نے اپنے صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرا یہ فرزند سید (اور سردار) ہے، جیسے کہ اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور اس کی نسل سے ایک آدمی ہو گا جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم نام ہو گا، وہ اخلاق میں ان ہی کے مشابہ ہو گا مگر شکل میں مشابہ نہیں ہو گا۔ پھر قصہ بیان کیا کہ: وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10253، 10309) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو داود لم يدرك ھارون،فالأول منقطع و أبوإسحاق عنعن ولم يسمعه من علي رضي اللّٰه عنه،والثاني فيه أبو الحسن الكوفي وھلال بن عمرو مجهولان (تقريب التهذيب: 8051،7345)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4290M
وَقَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ حَرَّاثٍ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُورٌ يُوَطِّئُ أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ أَوْ قَالَ إِجَابَتُهُ".
ہارون کہتے ہیں: ہم سے عمرو بن ابی قیس نے بیان کیا وہ مطرف بن طریف سے وہ ابوالحسن سے اور وہ ہلال بن عمرو سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہر اس پار سے ایک شخص نکلے گا جس کا نام حارث بن حراث ہو گا اس کے آگے ایک شخص ہو گا اس کا نام منصور ہو گا، وہ آل محمد کو غالب کرے گا، جیسا کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کیا تھا، اس کی مدد کرنا، یا کہا: اس کا حکم ماننا ہر مومن پر واجب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَهْدِيِّ/حدیث: 4290M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10253، 10309) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں