🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب فِي الْحَدِّ يُشْفَعُ فِيهِ
باب: شرعی حدود کو ختم کرنے کے لیے سفارش نہیں کی جا سکتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4373
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي. ح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُسَامَةُ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کر دیا، وہ کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہو سکتی ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہو جاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالوں گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4373]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کو بنو مخزوم کی اس عورت کی بہت فکر ہوئی جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا: اس سلسلے میں کون بات کر سکتا ہے؟ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ کہنے لگے: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ اور کوئی یہ جرات نہیں کر سکتا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسامہ! کیا اس حد میں سفارش کرتے ہو جو اللہ کی حدود میں سے ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، اور فرمایا: تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے کہ ان میں سے جب کوئی معزز آدمی چوری کر لیتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے، اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔ اور اللہ کی قسم! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الشہادات 8 (2648)، الأنبیاء 54 (3475)، فضائل الصحابة 18 (3732)، المغازي 53 (4304)، الحدود 11 (6787)، 12 (6788)، 14 (6800)، صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، سنن الترمذی/الحدود 6 (1430)، سنن النسائی/قطع السارق 5 (4903)، سنن ابن ماجہ/الحدود 6 (2547)، (تحفة الأشراف: 16578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162)، سنن الدارمی/الحدود 5 (2348) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3732) صحيح مسلم (1688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4374
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ومُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا وَقَصَّ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ: فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ فِيهِ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ: إِنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ، فَقَالَ: اسْتَعَارَتِ امْرَأَةٌ وَرَوَى مَسْعُودُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: سَرَقَتْ قَطِيفَةً مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کر دیا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے (کوئی چیز) منگنی (مانگ کر) لی تھی (پھر وہ مکر گئی تھی)۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4374]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو چیزیں مانگ کر لے جاتی اور پھر ان سے مکر جاتی تھی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور مذکورہ بالا حدیثِ لیث کے مانند قصہ بیان کیا۔ کہا: چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے یہ حدیث بواسطہ یونس، زہری سے روایت کی اور اسی طرح کہا جیسے کہ لیث نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فتح مکہ کے دنوں میں چوری کر لی۔ اور لیث نے بواسطہ یونس، ابن شہاب سے اپنی سند سے روایت کیا تو کہا: ایک عورت کوئی چیز مانگ کر لے گئی۔ مسعور بن اسود نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مانند روایت کیا، کہا: اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چوری کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے چوری کر لی پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں جا کر پناہ لے لی۔ اور سفیان بن عیینہ نے اسے بواسطہ ایوب بن موسیٰ، عن زہری، عن عروہ، عن عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کیا۔ اور سفیان سے روایت کرنے والوں میں الفاظِ روایت کا اختلاف ہے، ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ وہ چوری کرتی تھی، اور شعیب بواسطہ زہری، عن عروہ، عن عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ عورت چیزیں مانگ کر لے جاتی تھی اور آگے مذکورہ حدیث بیان کی۔ اور جب اسماعیل بن امیہ اور اسحاق بن راشد دونوں زہری سے بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چوری کی تھی اور باقی حدیث مذکورہ حدیث کی مثل بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 2 (1688)، (تحفة الأشراف: 16643)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/162)، ویأتی برقم (4397) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3475، 3732) صحيح مسلم (1688)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4375
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَيْدٍ نَسَبَهُ جَعْفَرٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4375]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عزت دار لوگوں کی لغزشیں معاف کر دیا کرو سوائے اس کے کہ شرعی حدود ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17912)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/181) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3569)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں