🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب فِي السَّتْرِ عَلَى أَهْلِ الْحُدُودِ
باب: حد والوں پر پردہ ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4377
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ، وَقَالَ لِهَزَّالٍ:" لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ".
نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال (جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا) سے کہا: اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپا لیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11651)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/217) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3567)
رواية يحيي بن سعيد القطان عن سفيان الثوري محمولة علي السماع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنْ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُخْبِرَهُ.
ابن المنکدر سے روایت ہے کہ ہزال رضی اللہ عنہ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور آپ کو بتا دیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11729) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابن المنکدر تابعی ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے حدیث ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3567)
انظر الحديث السابق (4377)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں