سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب فِي حَدِّ الْقَذْفِ
باب: زنا کی تہمت کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4474
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُهُ: أَنَّ ابْنَ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ ذَاكَ وَتَلَا تَعْنِي الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَةِ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4474]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب میری برات کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر النور 25 (3181)، سنن ابن ماجہ/الحدود (2567)، (تحفة الأشراف: 17898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/286، 6/35، 61) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3579)
أخرجه الترمذي (3181 وسنده حسن) وابن ماجه (2567 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 250)
مشكوة المصابيح (3579)
أخرجه الترمذي (3181 وسنده حسن) وابن ماجه (2567 وسنده حسن) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البيھقي (8/ 250)
حدیث نمبر: 4475
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرْ عَائِشَةَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ مِمَّنْ تَكَلَّمَ بِالْفَاحِشَةِ: حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَمِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: وَيَقُولُونَ: الْمَرْأَةُ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ.
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی (کوڑے لگانے کا) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں: اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4475]
محمد بن اسحاق نے یہ روایت بیان کی اور اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو مردوں اور ایک عورت کو جو اس تہمت میں شریک تھے، کے متعلق (حد لگانے کا) حکم دیا۔“ یعنی حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہما۔ نفیلی نے کہا کہ ”عورتوں میں حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17898) (حسن)» (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4474)
انظر الحديث السابق (4474)