سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب فِي إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى الْمَرِيضِ
باب: مریض پر حد نافذ کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4472
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ:" أَنَّهُ اشْتَكَى رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى أُضْنِيَ، فَعَادَ جِلْدَةً عَلَى عَظْمٍ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ جَارِيَةٌ لِبَعْضِهِمْ فَهَشَّ لَهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالُ قَوْمِهِ يَعُودُونَهُ أَخْبَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَقَالَ: اسْتَفْتُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةٍ دَخَلَتْ عَلَيَّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مِنَ الضُّرِّ مِثْلَ الَّذِي هُوَ بِهِ لَوْ حَمَلْنَاهُ إِلَيْكَ لَتَفَسَّخَتْ عِظَامُهُ مَا هُوَ إِلَّا جِلْدٌ عَلَى عَظْمٍ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذُوا لَهُ مِائَةَ شِمْرَاخٍ فَيَضْرِبُوهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً".
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4472]
جناب ابوامامہ بن سہل بن حنیف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض انصاری صحابیوں رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ ان کا ایک آدمی بیمار ہو گیا اور اس قدر نحیف ہو گیا کہ بس ہڈیوں پر چمڑا رہ گیا۔ اس کے پاس کسی کی لونڈی آئی، اسے دیکھ کر اسے جوش آ گیا اور پھر اس سے جماع کر بیٹھا۔ جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کے لیے گئے تو اس نے انہیں اپنی یہ بات بتائی اور کہا: ”میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو، بیشک میرے پاس ایک لونڈی آئی تھی اور میں اس سے جماع کر بیٹھا ہوں۔“ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور بتایا: ”ہم نے اس جیسا بیمار کوئی نہیں دیکھا، اگر ہم اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر بھی لائیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں گی، وہ تو بس ہڈیوں پر چمڑا ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کھجور کی ایک ایسی ڈالی حاصل کرو جس میں باریک سو شاخیں ہوں، وہ اسے ایک ہی مار دو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15528)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود 18 (2574) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4473
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" فَجَرَتْ جَارِيَةٌ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ انْطَلِقْ فَأَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا بِهَا دَمٌ يَسِيلُ لَمْ يَنْقَطِعْ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: يَا عَلِيُّ أَفَرَغْتَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُهَا وَدَمُهَا يَسِيلُ، فَقَالَ: دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ،عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، فَقَالَ فِيهِ قَال: لَا تَضْرِبْهَا حَتَّى تَضَعَ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کر لی تو آپ نے فرمایا: ”علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو“ میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”علی! کیا حد لگا کر آ گئے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے“ لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4473]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے بدکاری کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے علی! جاؤ اور اس کو حد لگاؤ۔“ کہتے ہیں کہ میں چلا تو معلوم ہوا کہ اس سے خون بہہ رہا ہے جو رکتا ہی نہیں ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے علی! کیا فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”میں اس کے پاس گیا تھا مگر اس سے خون بہہ رہا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دے۔ حتیٰ کہ اس کا خون رک جائے۔ اس کے بعد اس کو حد لگانا اور اپنے غلاموں کو بھی حد لگایا کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ حدیث ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے ایسے ہی روایت کی ہے اور شعبہ نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی تو اس میں کہا: ”جب تک وضع حمل نہ ہو جائے حد نہ لگانا۔“ اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10283)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحدود 7 (1705)، سنن الترمذی/الحدود 13 (1441)، مسند احمد (1/89، 95، 135، 136، 145) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله وأقيموا الحدود
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبدالأعلي بن عامر الثعلبي ضعيف
وحديث مسلم (1705) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158
إسناده ضعيف
عبدالأعلي بن عامر الثعلبي ضعيف
وحديث مسلم (1705) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158