🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. باب الْحَدِّ فِي الْخَمْرِ
باب: شراب کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4476
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا"، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، وَقَالَ: أَفَعَلَهَا وَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَيْءٍ؟، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ: حَدِيثُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ هَذَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس رضی اللہ عنہ کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا: کیا اس نے ایسا کیا ہے؟ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4476]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی حد متعین نہیں کی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی لی، اس سے اسے نشہ ہو گیا اور وہ گلی میں لہرا لہرا کر چلنے لگا۔ پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لے چلے۔ جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے آیا تو وہ گھوم کر ان کے گھر میں چلا گیا اور ان سے جا چمٹا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور پوچھا: کیا واقعی اس نے اس طرح کیا ہے؟ اور پھر اس کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔ امام ابوداؤد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ متفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6212)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/322) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3622)
ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (5290)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4477
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ: اضْرِبُوهُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا لَا تُعِينُوا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: اسے مارو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4477]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم میں سے کسی نے اسے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا۔ جب وہ آدمی وہاں سے چلا تو قوم میں سے کسی نے کہہ دیا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد مت کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحدود 4 (6777)، 5 (6781)، (تحفة الأشراف: 14999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/299، 300) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6777)
مشكوة المصابيح (3621)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي نَاجِيَةَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ قَالَ فِيهِ بَعْدَ الضَّرْبِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: بَكِّتُوهُ، فَأَقْبَلُوا عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: مَا اتَّقَيْتَ اللَّهَ مَا خَشِيتَ اللَّهَ وَمَا اسْتَحْيَيْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ الْكَلِمَةَ وَنَحْوَهَا.
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے: نہ تو تو اللہ سے ڈرا، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، اور اس کے آخر میں ہے: لیکن یوں کہو: اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر ر حم فرما کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4478]
یحییٰ بن ایوب، حیوہ بن شریح اور ابن لہیعہ نے ابن ہاد سے اس کی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ اس روایت میں مارنے کے ذکر کے بعد یوں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اسے ذرا شرم دلاؤ، تنبیہ کرو۔ چنانچہ وہ اسے اس طرح کہنے لگے: تجھے اللہ کا خوف نہ آیا؟ تو اللہ سے ڈرا نہیں؟ تجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا نہ آئی؟ پھر اس کو چھوڑ دیا اور روایت کے آخر میں ہے: لیکن یوں کہو: اے اللہ! اس کو معاف کر دے۔ اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ اور بعض راویوں نے اسی قسم کے الفاظ زیادہ کیے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14999) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3621)
انظر الحديث السابق (4477)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4479
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ الْمَعْنَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ دَعَا النَّاسَ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ دَنَوْا مِنَ الرِّيفِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْقُرَى وَالرِّيفِ فَمَا تَرَوْنَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ فِيهِ ثَمَانِينَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَلَدَ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ أَرْبَعِينَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَرَبَ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا، اور ان سے کہا: لوگ گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (اور مسدد کی روایت میں ہے) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں (یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کر دیں، چنانچہ اسی (۸۰) کوڑے مارنے کا حکم ہوا (کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار ماریں۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار ماریں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4479]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کی حد میں کھجور کی چھڑیوں اور جوتوں سے مارا ہے۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس درے (کوڑے) لگائے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے صحابہ کو بلایا اور ان سے مشورہ چاہا کہ لوگ اپنے کھیتوں اور زمینوں میں چلے گئے ہیں۔ (یعنی جہاں کھجوریں اور انگور وغیرہ کی فراوانی ہے اور وہ شراب پینے لگے ہیں)۔ مسدد کے الفاظ میں ہے کہ لوگ بستیوں اور زمینوں میں چلے گئے ہیں۔ تو تم لوگ شراب کی حد کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اسے سب سے ہلکی حد کی مانند کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے اس میں اسی درے (کوڑے) لگائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن ابی عروبہ نے بواسطہ قتادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی چھڑیوں اور جوتوں سے چالیس ضربیں لگائیں۔ جبکہ شعبہ نے قتادہ سے بواسطہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا تو کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی دو شاخوں سے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحدود 2 (6773)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1706)، سنن الترمذی/الحدود 14 (1443)، سنن ابن ماجہ/الحدود 16 (2570)، (تحفة الأشراف: 1352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/115، 180)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6773) صحيح مسلم (1706)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4480
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ هُوَ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ:" شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ، وَرَجُلٌ آخَرُ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ شَرِبَهَا يَعْنِي الْخَمْرَ وَشَهِدَ الْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ الْحَسَنُ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، قَالَ: فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ، قَالَ: حَسْبُكَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ، أَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ".
حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے (شراب) قے کرتے دیکھا ہے، تو عثمان نے کہا: جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کر سکتا، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو علی نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو حسن نے کہا: جو خلافت کی آسانیوں اور خیرات کا ذمہ دار رہا ہے وہی اس کی سختیوں اور برائیوں کا بھی ذمہ دار ہے، پھر علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا، اور علی رضی اللہ عنہ گننے لگے، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بس کافی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی، اور سب سنت ہے، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4480]
حضین بن منذر رقاشی ابو ساسان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا۔ تو حمران اور ایک دوسرے آدمی نے اس پر گواہی دی۔ ایک نے کہا کہ میں نے اس کو شراب پیتے دیکھا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اس کو قے کرتے دیکھا ہے۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے شراب پی تبھی قے کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کو حد لگاؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کو حد لگاؤ۔ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی حرارت اسی کے حوالے کریں جو اس کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ (اشارہ تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی کو یہ کڑوا کسیلا کام کرنا چاہیے)۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کو حد لگاؤ۔ تو انہوں نے کوڑا لیا اور مارنے لگے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے۔ جب چالیس کو پہنچے تو کہا کہ بس، کافی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس ضربیں ماری تھیں۔ (حضین نے کہا) میرا خیال ہے کہ یوں کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ضربیں ماریں اور سب ہی سنت ہے اور یہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 8 (1707)، سنن ابن ماجہ/الحدود 16 (2571)، (تحفة الأشراف: 1352، 10080)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحدود 4 (6773)، مسند احمد (1/82، 140، 144)، سنن الدارمی/الحدود 9 (2358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1707)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4481
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ الدَّانَاجِ، عَنْ حُضَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَلَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ وَأَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَكَمَّلَهَا عُمَرُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ الْأَصْمَعِيُّ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّيْ قَارَّهَا وَلِّ شَدِيدَهَا مَنْ تَوَلَّى هَيِّنَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا كَانَ سَيِّدَ قَوْمِهِ حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے، اور یہ سب سنت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی کہتے ہیں: «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4481]
حضین بن منذر، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ شراب کی حد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ضربیں ماریں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو اسی (80) سے پورا کیا، اور سب ہی سنت ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اصمعی نے «وَلِّ حَارَّهَا الخ» کا مفہوم یہ بیان کیا کہ اس معاملے کی سختی اور شدت اسی کے سپرد ہونی چاہیے جو اس کی نرمی اور راحت سے مستفید ہوتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضین بن منذر ابوساسان اپنی قوم کا سردار تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10080) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1707)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں