سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب الْقَوَدِ بِغَيْرِ حَدِيدٍ
باب: لوہے کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4535]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی جس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا، تو اس سے پوچھا گیا: ”تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟“ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا (کہ ہاں)۔ وہ یہودی پکڑ لیا گیا تو اس نے اقرار کر لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس کا سر بھی پتھر سے کچلا جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4527)، (تحفة الأشراف: 1391) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2746) صحيح مسلم (1672)
وانظر الحديث السابق (4527)
وانظر الحديث السابق (4527)