🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. باب الدِّيَةِ كَمْ هِيَ
باب: دیت کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4541
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ. ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ: ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذَكَرٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ۱؎ تیس بنت لبون ۲؎ تیس حقے ۳؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4541]
جناب عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: جو شخص غلطی سے قتل کیا گیا ہو تو اس کی دیت ایک سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں مؤنث ایک سالہ، تیس اونٹنیاں مؤنث دو سالہ، تیس اونٹنیاں مؤنث تین سالہ اور دس عدد اونٹ مذکر دو سالہ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/االدیات 1 (1387)، سنن ابن ماجہ/الدیات 4 (2626)، (تحفة الأشراف: 8708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/183، 184، 185، 186، 217، 224) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایسی اونٹنی جو ایک برس کی ہو چکی ہو۔
۲؎: ایسی اونٹنی جو دو برس کی ہو چکی ہو۔
۳؎: ایسی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4805 وسنده حسن) وابن ماجه (2630 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4542
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ الْإِبِلَ قَدْ غَلَتْ، قَالَ: فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ، قَالَ: وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ مِنَ الدِّيَةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار (درہم) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں (مسلمانوں کی دیت کی طرح) اضافہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4542]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار (سونے کے) یا آٹھ ہزار درہم (چاندی کے) تھی اور ان دنوں اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت کے مقابلے میں آدھی ہوتی تھی۔ چنانچہ معاملہ ایسے ہی رہا حتیٰ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: بلاشبہ اونٹ مہنگے ہو گئے ہیں۔ پھر آپ نے یہ دیت سونے والوں پر ایک ہزار دینار اور چاندی والوں پر بارہ ہزار دینار کر دی، گائے والوں کے لیے دو سو گائے اور بکریوں والوں کے لیے دو ہزار بکریاں، حلے (خاص قسم کے کپڑے) تیار کرنے والوں کے لیے دو سو حلے مقرر کیے، اور ذمی لوگوں کی دیت ویسے ہی رہنے دی اور اسے نہیں بڑھایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8688) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی دیت کے اونٹوں کی قیمت۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3498)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4543
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الدِّيَةِ عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَيْ شَاةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ، وَعَلَى أَهْلِ الْقَمْحِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ مُحَمَّدٌ".
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد (محمد بن اسحاق) کو یاد نہیں رہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4543]
جناب عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی شرح یوں مقرر فرمائی تھی کہ اونٹوں والوں پر ایک سو اونٹ، گائے والوں پر دو سو گائے، بکریوں والوں پر دو ہزار بکریاں، حلے والوں پر دو سو حلے اور گندم والوں پر بھی کچھ مقرر کی تھی جو محمد بن اسحاق کو یاد نہیں رہی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2482) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن والسند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4544
قَالَ أَبُو دَاوُد: قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: ذَكَرَ عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُوسَى، وَقَالَ: وَعَلَى أَهْلِ الطَّعَامِ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طَعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4544]
جناب عطاء (عطاء بن ابی رباح) نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دیت کی شرح) مقرر کی اور مذکورہ بالا حدیث موسیٰ بن اسماعیل کی مانند روایت کی، اور کہا کہ غلے والوں پر بھی کچھ مقرر کی تھی جو مجھے یاد نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2482) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4545
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي دِيَةِ الْخَطَإِ عِشْرُونَ حِقَّةً، وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَعِشْرُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُرٍ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4545]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت بیس اونٹنیاں تین سالہ، بیس اونٹنیاں چار سالہ، بیس اونٹنیاں ایک سالہ، بیس اونٹنیاں دو سالہ اور بیس اونٹ مذکر ایک سالہ۔ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدیات 1 (1386)، سنن النسائی/القسامة 28 (4806)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2631)، (تحفة الأشراف: 9198)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 450)، دی/ الدیات 13 (2412) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن ارطاة مدلس اور کثیر الخطاء راوی ہیں اور خشف طائی مجہول)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1386) نسائي (4806) ابن ماجه (2631)
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4546
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَدِيٍّ قُتِلَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4546]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو عدی کا ایک آدمی قتل ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار (درہم) طے فرمائی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس روایت کو ابن عیینہ نے بواسطہ عمرو، عکرمہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، مگر اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدیات 2 (1388)، سنن النسائی/القسامة 29 (4807)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2629)، (تحفة الأشراف: 6165)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الدیات 11 (2408) (ضعیف)» ‏‏‏‏ امام ابو داود نے واضح فرما دیا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3499)
أخرجه الترمذي (1388 وسنده حسن) والنسائي (4807 وسنده حسن) وابن ماجه (2629 وسنده حسن) وأعله النسائي والصواب أنه حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں