🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب دِيَةِ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ
باب: قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4547
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، إِلَى هَاهُنَا حَفِظْتُهُ، عَنْ مُسَدَّدٍ، ثُمَّ اتَّفَقَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُذْكَرُ وَتُدْعَى مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِ أَوْلَادِهَا"، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسدد کی روایت کے مطابق) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی (یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے) سنو! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں (یعنی لغو اور باطل ہیں) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے (یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپر د پہلے تھی پھر فرمایا: سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں (اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4547]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور تین بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا۔ پھر فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور اس ایک اکیلے ہی نے تمام گروہوں کو پسپا کر دیا۔ یہاں تک کی روایت مجھے مسدد سے یاد ہے۔ پھر سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں روایت کرنے میں متفق ہیں، فرمایا: خبردار! جاہلیت میں ذکر کیے جانے والے تمام مفاخر یا خون اور مال کے مطالبات میرے پاؤں تلے روندے جا رہے ہیں (ان کی کوئی حیثیت نہیں اور کوئی مطالبہ نہیں ہو گا) سوائے اس کے جو حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت تھی یا بیت اللہ کی خدمت کا شرف تھا (وہ باقی رہے گا)۔ پھر فرمایا: خبردار! قتل خطا جو عمد کے مشابہ ہو، جو سانٹے یا لاٹھی کی مار سے ہوا ہو، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں جن کے پیٹوں میں بچے ہوں۔ اور مسدد کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 27 (4797)، سنن ابن ماجہ/الدیات 5 (2628)، (تحفة الأشراف: 8889) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3490)
أخرجه ابن ماجه (2627) ورواه النسائي (4797)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4548
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ مَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4548]
موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں وہیب نے خالد سے حدیث بیان کی اسی اسناد سے اور مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8889)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3490)
انظر الحديث السابق (4547)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4549
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ أَوْ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى دَرَجَةِ الْبَيْتِ أَوْ الْكَعْبَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْضًا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، مِثْلَ حَدِيثِ خَالِدٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَعْقُوبَ السَّدُوسِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَوْلُ زَيْدٍ، وَأَبِي مُوسَى، مِثْلُ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن یا فتح مکہ کے دن بیت اللہ یا کعبہ کی سیڑھی پر خطبہ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے بھی اسی طرح علی بن زید سے، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اسے ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے خالد کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ نیز اسے حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے، علی بن زید نے یعقوب سدوسی سے، سدوسی نے عبداللہ بن عمرو سے، اور عبداللہ بن عمرو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور زید اور ابوموسیٰ کا قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4549]
قاسم بن ربیعہ نے بواسطہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے ہم معنی روایت کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے دن بیت اللہ کی سیڑھی پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن عیینہ نے بسند علی بن زید، قاسم بن ربیعہ سے، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ اور ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے خالد کی حدیث کی مانند روایت کیا ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے بسند علی بن زید، یعقوب سدوسی سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ زید اور ابوموسیٰ کا قول حدیثِ نبوی اور روایتِ عمر رضی اللہ عنہ (جو آگے آ رہی ہے) کے مطابق ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ الدیات 5 (2628)، وانظر حدیث رقم: (4547)، (تحفة الأشراف: 7372) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4803) ابن ماجه (2628)
علي بن زيد بن جدعان ضعيف
و حديث أبي داود (4547) و البخاري (6895) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4550
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" قَضَى عُمَرُ فِي شِبْهِ الْعَمْدِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا".
مجاہد کہتے ہیں عمر نے قتل شبہ عمد میں تیس حقہ، تیس جزعہ، چالیس گابھن اونٹنیوں (جو چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) کی دیت کا فیصلہ کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4550]
مجاہد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شبہِ عمد میں فیصلہ کیا تھا کہ تیس اونٹنیاں تین سالہ، تیس اونٹنیاں چار سالہ اور چالیس اونٹنیاں جو حاملہ ہوں اور ان کی عمر میں دو دانتا یعنی چھٹے سے لے کر نویں سال میں شروع ہونے والی کے درمیان ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أبي نجيح عنعن و مجاهد لم يسمع من عمر رضي اللّٰه عنه
فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4551
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" فِي شِبْهِ الْعَمْدِ أَثْلَاثٌ: ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُون جَذَعَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ ثَنِيَّةً، إِلَى بَازِلِ عَامِهَا وَكُلُّهَا خَلِفَةٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت میں تین قسم کے اونٹ ہوں گے، تینتیس حقہ، تینتیس جذعہ اور چونتیس ایسی اونٹنیاں جو چھ برس سے لے کر نو برس تک کی ہوں اور سب گابھن ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4551]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: شبہ عمد کی دیت میں اونٹ تین قسموں کے ہوں: تینتیس اونٹنیاں تین سالہ، تینتیس اونٹنیاں چار سالہ اور چونتیس اونٹنیاں چھ سے نو سالہ کے درمیان ہوں اور (یہ آخری) سب حاملہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4552
عَنْ  أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ  عَلْقَمَةَ ،  وَالْأَسْوَدِ ، قَالَ  عَبْدُ اللَّهِ  " فِي شِبْهِ الْعَمْدِ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ " .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4552]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قتلِ خطا میں دیت کے اونٹ چار طرح کے ہوں: پچیس اونٹنیاں تین سالہ، پچیس اونٹنیاں چار سالہ، پچیس اونٹنیاں دو سالہ اور پچیس اونٹنیاں ایک سالہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4551)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 160
وَبِهِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4553
حدثنا هَنَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ" فِي شِبْهِ الْعَمْدِ: خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قتل خطا کی دیت میں چار قسم کے اونٹ ہوں گے: پچیس حقہ، پچیس جزعہ، پچیس بنت لبون، اور پچیس بنت مخاض۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4553]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شبہ عمد کی دیت میں اونٹوں کی تفصیل یہ ہے کہ پچیس اونٹنیاں تین سالہ، پچیس اونٹنیاں چار سالہ، پچیس اونٹنیاں دو سالہ اور پچیس اونٹنیاں ایک سالہ ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثين السابقين (4551،4552)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ" في الْمُغَلَّظَةِ: أَرْبَعُونَ جَذَعَةً خَلِفَةً، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَفِي الْخَطَإِ: ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ، وَعِشْرُونَ بَنُو لَبُونٍ ذُكُورٍ، وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ".
عثمان بن عفان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں چالیس گابھن جزعہ، تیس حقہ اور تیس بنت لبون ہیں، اور دیت خطا میں تیس حقہ، تیس بنت لبون، بیس ابن لبون، اور بیس بنت مخاض ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4554]
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مغلظ دیت کی تفصیل یہ ہے کہ: چالیس اونٹنیاں چار سالہ اور حاملہ، تیس اونٹنیاں تین سالہ اور تیس اونٹنیاں دو سالہ ہوں اور قتلِ خطا میں تیس اونٹنیاں تین سالہ، تیس اونٹنیاں دو سالہ، بیس اونٹ مذکر دو سالہ اور بیس اونٹنیاں ایک سالہ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الدِّيَةِ الْمُغَلَّظَةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
زید بن ثابت سے دیت مغلظہ یعنی شبہ عمد میں مروی ہے پھر راوی نے ہو بہو اسی کے مثل ذکر کیا جیسے اوپر گزرا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4555]
جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے دیت مغلظہ میں مذکورہ بالا کی طرح بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں