سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب دِيَاتِ الأَعْضَاءِ
باب: اعضاء کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4556
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ عَشْرٌ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4556]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں۔ (ہر ایک کی دیت) دس دس اونٹ ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 38 (4847)، سنن ابن ماجہ/الدیات 18 (2654)، (تحفة الأشراف: 9030)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/397، 398، 404)، دی/ الدیات 15 (2414) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه ابن ماجه (2654 وسنده صحيح) سعيد بن أبي عروبة صرح بالسماع عند البيھقي (8/92)
أخرجه ابن ماجه (2654 وسنده صحيح) سعيد بن أبي عروبة صرح بالسماع عند البيھقي (8/92)
حدیث نمبر: 4557
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ، قُلْتُ: عَشْرٌ عَشْرٌ، قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ غَالِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ،وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي غَالِبٌ التَّمَّارُ، بِإِسْنَادِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، عَنْ غَالِبٍ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيل.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں تمام برابر ہیں“ میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4557]
سیدنا (ابوموسیٰ اشعری) اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں۔“ (مسروق کہتے ہیں) میں نے کہا: ”دس دس اونٹ؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن جعفر نے شعبہ سے، اس نے غالب سے روایت کی تو کہا: ”میں نے مسروق بن اوس سے سنا۔“ اور اسماعیل نے روایت کی تو کہا: ”مجھے غالب التمار نے ابوولید کی سند سے بیان کی۔“ اور حنظلہ بن ابو صفیہ نے غالب سے اسماعیل کی سند سے بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 9030) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4556)
انظر الحديث السابق (4556)
حدیث نمبر: 4558
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ يَعْنِي الْإِبْهَامَ وَالْخِنْصَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور یہ برابر ہیں“ یعنی انگوٹھا اور چھنگلی (کانی انگلی)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4558]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور یہ برابر ہیں۔“ یعنی انگوٹھا اور چھنگلیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 20 (6895)، سنن الترمذی/الدیات 4 (1392)، سنن النسائی/القسامة 38 (4851)، سنن ابن ماجہ/الدیات 18 (2652)، (تحفة الأشراف: 6187)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/339)، سنن الدارمی/الدیات 15 (2415) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6895)
حدیث نمبر: 4559
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ الثَّنِيَّةُ وَالضِّرْسُ سَوَاءٌ، هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ،عَنْ شُعْبَةَ، بِمَعْنَى عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه الدَّارِمِيُّ، عَنْ النَّضْرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4559]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، آگے کے دو دانت اور ڈاڑھیں، یہ اور یہ سب برابر ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت نضر بن شمیل نے شعبہ سے (مذکورہ بالا روایت) عبدالصمد کے ہم معنی بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں (ابوجعفر احمد بن سعید) دارمی نے نضر (نضر بن شمیل) سے یہ حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 17 (2650)، (تحفة الأشراف: 6193) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3495)
أخرجه ابن ماجه (2650 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (4858)
مشكوة المصابيح (3495)
أخرجه ابن ماجه (2650 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (4858)
حدیث نمبر: 4560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانت سب برابر ہیں اور انگلیاں سب برابر ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4560]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانت سب برابر ہیں اور انگلیاں (سب) برابر ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 4 (1391)، (تحفة الأشراف: 6249)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/289) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2651 وسنده صحيح) ورواه الترمذي (1391 وسنده صحيح)
أخرجه ابن ماجه (2651 وسنده صحيح) ورواه الترمذي (1391 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 4561
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کی انگلیوں کو برابر قرار دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4561]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کی انگلیاں، سب برابر قرار دی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6249) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3494)
انظر الحديث السابق (4560)
مشكوة المصابيح (3494)
انظر الحديث السابق (4560)
حدیث نمبر: 4562
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ فِي الْأَصَابِعِ: عَشْرٌ عَشْرٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں جبکہ آپ اپنی پیٹھ کعبہ سے ٹیکے ہوئے تھے فرمایا: ”انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4562]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کعبہ سے لگائے ہوئے تھے: ”انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 38 (4854)، (تحفة الأشراف: 8684)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 18 (2653)، مسند احمد (2/207) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4855 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (4855 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4563
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الْأَسْنَانِ: خَمْسٌ خَمْسٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانتوں میں پانچ پانچ (اونٹ) ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4563]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانتوں میں پانچ پانچ اونٹ ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 38 (4854)، سنن ابن ماجہ/الدیات 19 (2354)، (تحفة الأشراف: 8685) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4845 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (4552)
أخرجه النسائي (4845 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (4552)
حدیث نمبر: 4564
قَالَ أَبُو دَاوُد: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ شَيْبَانَ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ دِيَةَ الْخَطَإِ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عَدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ، فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، وَإِذَا هَاجَتْ رُخْصًا نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا، وَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ، وَعَدْلُهَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَمَنْ كَانَ دِيَةُ عَقْلِهِ فِي الشَّاءِ فَأَلْفَيْ شَاةٍ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى قَرَابَتِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَإِنْ جُدِعَتْ ثَنْدُوَتُهُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ عَدْلُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوْ مِائَةُ بَقَرَةٍ أَوْ أَلْفُ شَاةٍ، وَفِي الْيَدِ إِذَا قُطِعَتْ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَفِي الرِّجْلِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ مِنَ الْإِبِلِ وَثُلُثٌ أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الشَّاءِ وَالْجَائِفَةُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَفِي الْأَصَابِعِ فِي كُلِّ أُصْبُعٍ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَسْنَانِ فِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا مَنْ كَانُوا لَا يَرِثُونَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهُمْ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْءٌ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَارِثٌ فَوَارِثُهُ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ وَلَا يَرِثُ الْقَاتِلُ شَيْئًا"، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا كُلُّهُ حَدَّثَنِي بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ هَرَبَ إِلَى الْبَصْرَةِ مِنَ الْقَتْلِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گاؤں والوں پر قتل خطا کی دیت کی قیمت چار سو دینار، یا اس کے برابر چاندی سے لگایا کرتے تھے، اور اس کی قیمت اونٹوں کی قیمتوں پر لگاتے، جب وہ مہنگے ہو جاتے تو آپ اس کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیتے، اور جب وہ سستے ہوتے تو آپ اس کی قیمت بھی گھٹا دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے لے کر آٹھ سو دینار تک پہنچی، اور اسی کے برابر چاندی سے (دیت کی قیمت) آٹھ ہزار درہم پہنچی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے بیل والوں پر (دیت میں) دو سو گایوں کا فیصلہ کیا، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریوں کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہو گا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے سلسلے میں فیصلہ کیا کہ اگر وہ کاٹ دی جائے تو پوری دیت لازم ہو گی۔ اور اگر اس کا بانسہ (دونوں نتھنوں کے بیچ کی ہڈی) کاٹا گیا ہو تو آدھی دیت لازم ہو گی، یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی، یا سو گائیں، یا ایک ہزار بکریاں۔ اور ہاتھ جب کاٹا گیا ہو تو اس میں آدھی لازم ہو گی، پیر میں بھی آدھی دیت ہو گی۔ اور مامومہ ۱؎ میں ایک تہائی دیت ہو گی، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، گائے یا بکری اور جائفہ ۲؎ میں بھی یہی دیت ہے۔ اور انگلیوں میں ہر انگلی میں دس اونٹ اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ کی دیت ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”عورت کی جنایت کی دیت اس کے عصبات میں تقسیم ہو گی (یعنی عورت اگر کوئی جنایت کرے تو اس کے عصبات کو دینا پڑے گا) یعنی ان لوگوں کو جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لیتے ہیں (جیسے بیٹا، چچا، باپ، بھائی وغیرہ) اور اگر وہ قتل کر دی گئی ہو تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی (نہ کہ عصبات میں) اور وہی اپنے قاتل کو قتل کریں گے (اگر قصاص لینا ہو)“۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں، اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا وارث سب سے قریبی رشتے دار ہو گا لیکن قاتل کسی چیز کا وارث نہ ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4564]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتلِ خطا میں دیہات والوں پر اونٹوں کی قیمت کے اعتبار سے دیت لاگو کرتے تھے، چار سو دینار یا اس کے مساوی چاندی۔ جب اونٹ مہنگے ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیت کی قیمت بڑھا دیتے اور جب سستے ہو جاتے تو دیت کی قیمت کم کر دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک یا اس کے برابر آٹھ ہزار درہم رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے والوں پر دو سو گائیں لاگو کیں اور جس کی دیت میں بکریاں آتی تھیں تو ان پر دو ہزار بکریاں مقرر کیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت مقتول کے وارثوں میں قرابت کے اعتبار سے ورثے میں تقسیم ہو گی اور جو باقی بچ رہے وہ عصبات کے لیے ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ: ”جب پوری طرح کاٹ دی گئی ہو، اس میں پوری دیت ہے اور جب اس کا سرا (بانسہ) کاٹا گیا ہو تو اس میں نصف دیت پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی یا ایک سو گائے یا ایک ہزار بکری ہے۔ اور ایک ہاتھ میں، جب وہ کاٹ دیا گیا ہو، تو اس میں آدھی دیت ہے۔ اور ایک پاؤں میں آدھی دیت ہے۔ کھوپڑی کا زخم جو دماغ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت سونا یا چاندی یا گائیں یا بکریاں۔ اور جو زخم پیٹ میں لگے تو اس میں بھی اسی طرح سے ہے (تہائی دیت) اور انگلیوں میں، ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ ہیں، اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: ”عورت (اگر کوئی جرم کرے تو اس) کی دیت اس کے عصبہ کے ذمے ہے یعنی جو اس حصہ کے وارث بنتے ہیں جو مقررہ حصوں کے بعد باقی بچ رہے (یعنی باپ، بیٹا، بھائی اور چچا وغیرہ) اور اگر عورت قتل ہو جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی اور یہی لوگ قاتل سے قصاص لینے کے حقدار ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل کے لیے کچھ نہیں۔ اور اگر مقتول کا اور کوئی وارث نہ ہو تو سب سے قریب ترین آدمی اس کا وارث ہو گا اور قاتل کو وراثت میں سے کچھ نہیں ملے گا۔“ محمد بن راشد نے کہا: ”مجھے یہ تمام روایت سلیمان بن موسیٰ نے بسندِ عمرو بن شعیب اپنے والد سے، اس نے اپنے دادا سے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”محمد بن راشد اہل دمشق سے تھے اور قتل (کے خوف) سے بصرہ بھاگ گئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 27 (4805)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2630)، (تحفة الأشراف: 8710)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/183، 217، 224) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: «مامومہ» : سر کے ایسے زخم کو کہتے ہیں جو دماغ تک پہنچ جائے۔
۲؎: «جائفہ» : وہ زخم ہے جو سر، پیٹ یا پیٹھ کے اندر تک پہنچ جائے اور اگر وہ زخم دوسری طرف بھی پار کر جائے تو اس میں دو تہائی دیت دینی ہو گی۔
۲؎: «جائفہ» : وہ زخم ہے جو سر، پیٹ یا پیٹھ کے اندر تک پہنچ جائے اور اگر وہ زخم دوسری طرف بھی پار کر جائے تو اس میں دو تہائی دیت دینی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3500)
أخرجه النسائي (4805 وسنده ح سن) وابن ماجه (2630 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3500)
أخرجه النسائي (4805 وسنده ح سن) وابن ماجه (2630 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ الْعَامِلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ"، قَالَ: وَزَادَنَا خَلِيلٌ: عَنِ ابْنِ رَاشِدٍ: وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونُ دِمَاءٌ فِي عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شبہ عمد کی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے، البتہ اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا“۔ خلیل کی محمد بن راشد سے روایت میں یہ اضافہ ہے ”یہ (قتل شبہ عمد) لوگوں کے درمیان ایک شیطانی فساد ہے کہ بلا کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے خون ہو جاتا ہے اور قاتل کا پتا نہیں چلتا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4565]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل شبہ عمد کی دیت مغلظ (ثقیل اور شدید) ہوتی ہے جیسے کہ قتل عمد کی، مگر اس کا مرتکب قتل نہیں کیا جا سکتا۔“ (امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے) کہا کہ خلیل نے ابن راشد سے مزید کہا: ”وہ (شبہ عمد) یوں ہے کہ شیطان لوگوں میں فساد پیدا کر دے اور بلوے میں کوئی خون ہو جائے (قاتل کو کسی نے دیکھا نہ ہو) اور لڑائی کرنے والوں میں کوئی گہری عداوت بھی نہ ہو اور نہ انہوں نے اسلحہ اٹھایا ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 8713) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3501)
مشكوة المصابيح (3501)