سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب دِيَةِ الْجَنِينِ
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچہ) کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4568
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ:" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، (اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غرہ (لونڈی یا غلام) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ (وارثین) کے ذمہ ٹھہرایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4568]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو عورتیں بنو ہذیل کے ایک آدمی کی زوجیت میں تھیں۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کا بانس دے مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا۔ وہ لوگ اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ تو دونوں اطراف کے لوگوں میں سے کسی ایک نے کہا: ”کس طرح دیت دیں ہم اس کی جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا اور نہ چلایا؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے اندازِ گفتگو پر) فرمایا: ”کیا یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے؟“ الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس بچے کی دیت) ایک غلام ہے“ اور اسے قاتلہ کے وارثوں کے ذمے لگایا کہ وہ اسے ادا کریں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 1 (1682)، سنن الترمذی/الدیات 15 (1411)، سنن النسائی/القسامة 33 (4825)، سنن ابن ماجہ/الدیات 7 (2633)، (تحفة الأشراف: 11510)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدیات 25 (6905-6908)، الاعتصام 13 (7317)، مسند احمد (4 /224، 245، 246، 249)، سنن الدارمی/الدیات 20 (2425) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1682)
حدیث نمبر: 4569
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ.
اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ (غلام یا لونڈی) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4569]
منصور نے اپنی سند سے مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا اور مزید کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مقتولہ عورت کی دیت قاتلہ کے وارثوں کے ذمے ڈالی اور اس کے پیٹ کے بچے کے بدلے میں ایک غلام لازم کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”حکم نے بواسطہ مجاہد، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11510) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1682)
حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ:" أَنّ عُمَرَ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ: ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ، فَأَتَاهُ بِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، زَادَ هَارُونُ: فَشَهِدَ لَهُ يَعْنِي ضَرْبَ الرَّجُلِ بَطْنَ امْرَأَتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، إِنَّمَا سُمِّيَ إِمْلَاصًا لِأَنَّ الْمَرْأَةَ تُزْلِقُهُ قَبْلَ وَقْتِ الْوِلَادَةِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ مَا زَلَقَ مِنَ الْيَدِ وَغَيْرِهِ فَقَدْ مَلِصَ.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4570]
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ کیا کہ اگر کسی عورت کے پیٹ کا بچہ ساقط کر دیا گیا ہو (تو اس میں کیا دیت ہو؟) سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تھا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کوئی گواہ لائیے جو آپ کی تائید میں گواہی دے۔“ چنانچہ وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے آئے۔ ہارون نے مزید کہا: ”چنانچہ انہوں نے گواہی دی یعنی اگر کوئی پیٹ والی عورت کو صدمہ پہنچائے (تو اس کی دیت یہی ہے)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوعبید سے مروی ہے کہ اسقاط کو «إِمْلَاصٌ» اس لیے کہتے ہیں کہ عورت بچے کو قبل از وقت پھسلا دیتی ہے، اور ہر وہ چیز جو ہاتھ وغیرہ سے پھسل جائے اسے «مَلَصَ» کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ القسامة 2 (1689)، سنن ابن ماجہ/ الدیات 11 (2640)، (تحفة الأشراف: 11233، 11529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253) (صحیح)» (ہارون کی زیادتی صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون زيادة هارون ق
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1683)
حدیث نمبر: 4571
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ.
عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4571]
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”اس روایت کو حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الدیات 25 (6907)، (تحفة الأشراف: 11511) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6905)
حدیث نمبر: 4572
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ:" أَنَّهُ سَأَلَ عَنْ قَضِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَامَ إِلَيِه حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ وَأَنْ تُقْتَلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: الْمِسْطَحُ هُوَ الصَّوْبَجُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمِسْطَحُ عُودٌ مِنْ أَعْوَادِ الْخِبَاءِ.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی (روٹی پکانے کی لکڑی) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا: «مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4572]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے بارے میں دریافت کیا (جو پیٹ کے بچے کے بارے میں ہوا تھا) تو حمل بن مالک بن نابغہ اٹھا اور کہا: ”میں دو عورتوں کے درمیان میں تھا (میری دو بیویاں تھیں) تو ایک نے دوسری کو خیمے کا بانس دے مارا اور اس کو اور اس کے پیٹ کے بچے کو مار ڈالا۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کے بچے کے بارے میں ایک غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور اس عورت کو (جو قاتلہ تھی قصاص میں) قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نضر بن شمیل نے کہا کہ: ” «مِسْطَح» سے مراد وہ لکڑی ہے جس کے ذریعے سے تنور سے روٹی نکالی جاتی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابوعبید نے کہا کہ: ” «مِسْطَح» خیمے کی لکڑی کو کہتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 33 (4720)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2641)، (تحفة الأشراف: 3444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/364، 4/ 79)، سنن الدارمی/الدیات 21 (2427) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2641 وسنده صحيح) ورواه النسائي (4743 وسنده صحيح)
أخرجه ابن ماجه (2641 وسنده صحيح) ورواه النسائي (4743 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 4573
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو،عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ وَأَنْ تُقْتَلَ، زَادَ: بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِ هَذَا.
طاؤس کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے «بغرة عبد أو أمة» کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4573]
جناب طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا مگر اس میں ”اس عورت (قاتلہ) کے قتل کیے جانے کا ذکر نہیں کیا۔“ البتہ (جنین کے بدلے میں) ایک غلام یا لونڈی دیے جانے کا بیان کیا۔ طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، ”اگر میں یہ نہ سنتا تو اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کر بیٹھتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3444) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
طاووس لم يسمع من عمر رضي اللّٰه عنه (قال أبو زرعة : طاوس عن عمر : مرسل / المراسيل ص 100)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
إسناده ضعيف
طاووس لم يسمع من عمر رضي اللّٰه عنه (قال أبو زرعة : طاوس عن عمر : مرسل / المراسيل ص 100)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
حدیث نمبر: 4574
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ، فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَهَانَتَهَا! أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالْأُخْرَى أُمَّ غُطَيْفٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کر دیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مر گئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا: اللہ کے نبی! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف (رائیگاں) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہو گی“۔ ابن عباس کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4574]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حمل بن مالک کے واقعہ میں بیان کیا کہ ”اس نے عورت کا بچہ ساقط کر دیا جو مردہ تھا اور اس کے بال اگ چکے تھے اور عورت بھی مر گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اس قاتلہ کے وارثوں پر ڈال دی۔ مقتولہ کے چچا نے کہا: ”اس کا بچہ ساقط ہوا ہے، اے اللہ کے نبی! جس کے بال اگ چکے تھے۔“ تو قاتلہ کے والد نے کہا: ”یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! بچہ نہ چیخا نہ چلایا، نہ پیا نہ کھایا، ایسا خون تو باطل ہوتا ہے (اس میں قصاص ہوتا ہے نہ دیت)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا جاہلوں اور کاہنوں کی سی سجع ہے؟ بچے کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی ادا کرو۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”ان عورتوں میں سے ایک کا نام ملیکہ تھا اور دوسری کا ام غطیف۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4568، (تحفة الأشراف: 3444) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4832)
سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
إسناده ضعيف
نسائي (4832)
سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
حدیث نمبر: 4575
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:" أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا زَوْجٌ وَوَلَدٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ وَبَرَّأَ زَوْجَهَا وَوَلَدَهَا، قَالَ: فَقَالَ: عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ مِيرَاثُهَا لَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا، ان میں سے ہر ایک کے شوہر بھی تھا، اور اولاد بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبات پر ٹھہرائی اور اس کے شوہر اور اولاد سے کوئی مواخذہ نہیں کیا، مقتولہ کے عصبات نے کہا: کیا اس کی میراث ہمیں ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس کی میراث تو اس کے شوہر اور اولاد کی ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4575]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کا شوہر بھی تھا اور بچہ بھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عاقلہ پر ڈالی اور اس قاتلہ کے شوہر اور بیٹے کو اس دیت کی ادائیگی سے بری رکھا۔ تو مقتولہ کے عاقلہ کہنے لگے کہ ”اس کی میراث ہمارا حق ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس کی وراثت اس کے شوہر اور بیٹے کا حق ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدیات 25 (2648)، (تحفة الأشراف: 2347) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2648)
مجالد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2648)
مجالد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161
حدیث نمبر: 4576
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ لَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو اسے قتل ہی کر ڈالا، تو لوگ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا: ”جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور عورت کی دیت کا فیصلہ کیا کہ یہ اس کے عصبہ پر ہو گی“ اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ کے لوگوں کو قرار دیا۔ حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، اور نہ چیخا، ایسے کا خون تو لغو قرار دے دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے“ آپ نے یہ بات اس کی اس «سجع» تعبیر کی وجہ سے کہی جو اس نے کی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4576]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں تو ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اسے قتل کر دیا۔ چنانچہ وہ اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ”جنین کی دیت میں ایک غلام یا لونڈی ادا کی جائے“ اور مقتولہ کی وراثت اس کے بیٹے اور اس کے ساتھ دوسرے وارثوں کو دلوائی۔ تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں بھلا اس کا جرمانہ کیونکر بھروں جس نے نہ پیا نہ کھایا، نہ بولا نہ چلایا، ایسا خون تو لغو ہوتا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو کاہنوں کا بھائی لگتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اس کی مسجع گفتگو کی وجہ سے فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 46 (5758)، الفرائض 11 (5759)، الدیات 25 (6909)، 26 (6910)، صحیح مسلم/القسامة 11(1681)، سنن النسائی/القسامة 33 (4822)، (تحفة الأشراف: 13320، 15308)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدیات 15 (1410)، سنن ابن ماجہ/الدیات 11 (2639)، موطا امام مالک/العقول 7 (5)، مسند احمد (2/236، 274، 438، 498، 535، 539)، دی/الدیات 21 (2427) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6910) صحيح مسلم (1681)
مشكوة المصابيح (3509)
مشكوة المصابيح (3509)
حدیث نمبر: 4577
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں پھر وہ عورت، جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا تھا، مر گئی، تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ پر ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4577]
جناب ابن مسیب رحمہ اللہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت کیا کہ پھر وہ عورت جس کو آپ نے غلام یا لونڈی دلوائی فوت ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کر دیا کہ ”اس کی وراثت اس کے بیٹے کو ملے اور (قاتلہ کی طرف سے) دیت اس کے عصبہ (عاقلہ) پر ڈالی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الفرائض (6740)، الدیات 25 (6909)، صحیح مسلم/ الحدود 11 (1681)، سنن الترمذی/ الدیات 15 (1410)، الفرائض 19 (2111)، سنن النسائی/ القسامة 33 (4821)، (تحفة الأشراف: 13225)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول 7 (5) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6740) صحيح مسلم (1681)