🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ
باب: مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4581
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دِيَةِ الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ يُودَى مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْمَمْلُوكِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام جسے قتل کر دیا جائے کی دیت میں فیصلہ فرمایا کہ قتل کے وقت جس قدر وہ بدل کتابت ادا کر چکا ہے اتنے حصہ کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی اور جس قدر ادائیگی باقی ہے اتنے حصے کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4581]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب، جو قتل کر دیا جائے، کی دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ وہ جس قدر حصہ اپنی کتابت کا ادا کر چکا ہو اس نسبت سے آزاد آدمی کی دیت دی جائے اور جس قدر باقی ہو اس میں غلام کی دیت دی جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 32 (4812، 4813)، (تحفة الأشراف: 6242)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/222، 226، 260، 292، 363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4814)
يحيي بن أبي كثير مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 161

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4582
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ وَرِثَ مِيرَاثًا يَرِثُ عَلَى قَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْسَلَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَإِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَهُ إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ قَوْلَ عِكْرِمَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4582]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکاتب پر جب کوئی حد لازم آ رہی ہو یا کسی کا وارث بن رہا ہو تو جس نسبت سے آزاد ہو چکا ہو اسی حساب سے حد لاگو ہو گی یا وراثت کا حصہ پائے گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو وہیب نے بسند ایوب، عکرمہ سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے؛ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے بواسطہ ایوب، عکرمہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول بنایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ البیوع 35 (1259)، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5993)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/369) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3402)
أخرجه الترمذي (1259 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں