سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. باب فِي التَّفَاخُرِ بِالأَحْسَابِ
باب: حسب و نسب پر فخر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5116
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَي. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ: مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ: أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ، إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتِنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ۱؎، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں (اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کر لے جاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5116]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عز وجل نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کو دور کر دیا ہے۔ (تمہیں ایمان و اسلام سے معزز بنایا ہے) (آدمی دو قسم کے ہیں) صاحب ایمان، متقی یا فاجر اور بدبخت۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ لوگوں کو قومی نخوت ترک کرنا پڑے گی، وہ تو (کفر و شرک کے سبب) جہنم کے کوئلے بن چکے، ورنہ یہ (قوم پر تکبر کرنے والے) اللہ کے ہاں گندگی کے کالے کیڑے سے بھی ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو دھکیلتا پھرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 75 (3956)، (تحفة الأشراف: 14333) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اصلاً تم سب ایک ہو پھر ایک دوسرے پر فخر کرنا کیسا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4899)
مشكوة المصابيح (4899)