🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

122. باب فِي الْعَصَبِيَّةِ
باب: عصبیت (تعصب) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5117
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" مَنْ نَصَرَ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ، فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رُدِّيَ فَهُوَ يُنْزَعُ بِذَنَبِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5117]
جناب عبدالرحمن اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے حق کے بغیر اپنی قوم کی مدد کی تو وہ ایسے اونٹ کی مانند ہے جو کنویں میں گر گیا ہو اور پھر اسے دم سے پکڑ کر باہر نکالا جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9363) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تو جس طرح دم پکڑ کر اونٹ کا نکالنا ممکن نہیں ہے ایسے ہی متعصب شخص کا جہنم سے نکلنا بھی ناممکن ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5118
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5118]
جناب عبدالرحمٰن اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4904، 5930)
انظر الحديث السابق (520)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5119
حَدَّثَنَا مُحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ بِشْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ بِنْتِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ , قَالَ: أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول: عصبیت کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو، اور ان کی مدد کرو۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5119]
جناب واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عصبیت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنی قوم کے لوگوں کی مدد کرے، حالانکہ وہ ظلم پر ہوں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفتن 7 (3949)، (تحفة الأشراف: 11757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/107) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی راویہ بنت واثلہ مجہول اور سلمہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
سلمة بن بشير الدمشقي مقبول (تق: 2485) أي مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان
وبينه وبين واثلة : عباد ابن كثير : وھو متروك (تق: 3139)
ومن طريقه أخرجه ابن ماجه (3949)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5120
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ضَعِيفٌ.
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا: تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5120]
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنے قبیلے کا دفاع کرے بشرطیکہ گناہ کی بات نہ ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ایوب بن سوید ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3817) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مؤلف نے سبب بیان کر دیا کہ ایوب بن سوید ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أيوب بن سويد ضعيف علي الراجح انظر التحرير (615) وقال الھيثمي : ولكن ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 130)
وسعيد لم يسمع من سراقة رضي اللّٰه عنه (انظر عون المعبود 494/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5121
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5121]
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عصبیت کی دعوت دی، وہ ہم میں سے نہیں۔ جس نے عصبیت پر لڑائی کی، وہ ہم میں سے نہیں اور جو عصبیت پر مرا، وہ ہم میں سے نہیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3188) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبداللہ بن ابی سلیمان کا سماع جبیر بن مطعم سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي لبيبة المكي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
َدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5122
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5122]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کی بہن کا بیٹا (بھانجا) قوم کا فرد ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9151)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/396) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد عند البخاري (3828) ومسلم (1059) وغيرھما

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ , قَالَ:" شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَهَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ".
ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا: یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ۱؎ (میری آواز سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ایسا کیوں نہ کہا؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں ۲؎۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5123]
سیدنا ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ اہل فارس کے غلام تھے، بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احد میں شریک تھا۔ میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو مارا اور کہا: یہ لو اور میں ہوں ایک فارسی جوان! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے ایسے کیوں نہ کہا: یہ لو اور میں ہوں ایک انصاری غلام! [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجھاد 13 (2784)، (تحفة الأشراف: 12070)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/295) (ضعیف)» ‏‏‏‏ اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ جملہ انہوں نے اظہار شجاعت کے لئے کہا۔
۲؎: کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2784)
ابن إسحاق عنعن
وعبد الرحمٰن بن أبي عقبة:مجهول (التحرير : 3957)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں