سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ في الإِيمَانِ
باب: ایمان کا بیان۔
حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ، أَوْ قَالَ: لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی (یا اپنے پڑوسی) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 66]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے مسلمان بھائی کے لیے۔۔۔ یا فرمایا: اپنے ہمسائے کے لیے۔۔۔ بھی وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، صحیح مسلم/الإیمان 17 (45)، سنن الترمذی/صفة القیامة 59 (2515)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5019)، (تحفة الأشراف: 1239)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/89، 3/171، 172، 176، 206)، سنن الدارمی/الرقاق 29 (2782) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کامل مومن نہیں ہو سکتا، اس حدیث سے مسلمانوں کی باہمی خیر خواہی کی اہمیت و فضیلت ظاہر ہوئی، اس سنہری اصول پر اگر مسلمان عمل کرنے لگ جائیں تو معاشرے سے لوٹ کھسوٹ، رشوت، بددیانتی، جھوٹ فریب وغیرہ بیماریاں خودبخود ختم ہو جائیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والد، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 67]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ میں اسے اس کی اولاد، والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو جاؤں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 67]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، 8 (15)، صحیح مسلم/الإیمان 16 (44)، سنن النسائی/الایمان 19 (5016)، سنن الترمذی/صفة القیامة 59 (2515)، (تحفة الأشراف: 1239)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177، 207) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ جب تک ساری دنیا کے رسم و رواج اور عادات و رسوم، اور اپنی آل اولاد اور ماں باپ سے زیادہ سنت کی محبت نہ ہو اس وقت تک ایمان کامل نہیں، پھر جتنی اس محبت میں کمی ہو گی اتنی ہی ایمان میں کمی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ،" لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَ لَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آؤ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اپنا لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے! آپس میں سلام کو عام کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 68]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک مومن نہ بن جاؤ اور (کامل) مومن نہیں بن سکتے جب تک باہم محبت کرنے والے نہ بن جاؤ۔ کیا میں تمہیں وہ کام نہ بتاؤں جس کے کرنے سے تمہارے اندر ایک دوسرے کی محبت پیدا ہو جائے؟ آپس میں «السَّلَامَ» ”سلام“ کو رواج دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 68]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 22 (54)، سنن الترمذی/الاستئذان 1 (2688)، (تحفة الأشراف: 12469، 12513)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 142 (5193)، مسند احمد (1/165، 2/391)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3692) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کا یہ مطلب نہیں کہ محض سلام کرنے ہی سے تم مومن قرار دیے جاؤ گے، اور جنت کے مستحق ہو جاؤ گے، بلکہ مطلب یہ کہ ایمان اسی وقت مفید ہو گا جب اس کے ساتھ عمل بھی ہو گا، اور سلام اسلام کا ایک شعار اور ایمان کا عملی مظاہرہ ہے، ایمان اور عمل کا اجتماع ہی مومن کو جنت میں لے جائے گا، اس حدیث میں سلام عام کرنے کی تاکید ہے کیونکہ یہ مسلمانوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کا بڑا موثر ذریعہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 69
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق (نافرمانی) ہے، اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 69]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 69]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 38 (48)، الأدب 44 (7044)، الفتن 8 (7076)، صحیح مسلم/الإیمان 28 (64)، سنن النسائی/المحاربة (تحریم الدم) 27 (4114، 4115، 4116)، (تحفة الأشراف: 9243، 9251، 9299)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 52 (1983)، الإیمان 15 (2635)، مسند احمد (1/385، 411، 417، 433) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 393) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 70
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا عَلَى الْإِخْلَاصِ لِلَّهِ وَحْدَهُ، وَعِبَادَتِهِ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، مَاتَ وَاللَّهُ عَنْهُ رَاضٍ"قَالَ أَنَسٌ: وَهُوَ دِينُ اللَّهِ الَّذِي جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ وَبَلَّغُوهُ عَنْ رَبِّهِمْ قَبْلَ هَرْجِ الْأَحَادِيثِ، وَاخْتِلَافِ الْأَهْوَاءِ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فِي آخِرِ مَا نَزَلَ يَقُولُ اللَّهُ: فَإِنْ تَابُوا سورة التوبة آية 5 قَالَ: خَلَعُوا الْأَوْثَانِ وَعِبَادَتِهَا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ سورة التوبة آية 5، وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى: فَإِنْ تَابُوا، وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ، وَآتَوْا الزَّكَاةَ، فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا کو اس حال میں چھوڑا کہ خالص اللہ واحد کی عبادت کرتا رہا، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، نماز قائم کی، اور زکاۃ ادا کی، تو اس کی موت اس حال میں ہو گی کہ اللہ اس سے راضی ہو گا“۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی اللہ کا دین ہے جس کو رسول لے کر آئے، اور اپنے رب کی طرف سے اس کی تبلیغ کی، اس سے پہلے کہ دین میں لوگوں کی باتوں اور طرح طرح کی خواہشوں کی ملاوٹ اور آمیزش ہو۔ اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورۃ (براءۃ) میں موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة» الآية، یعنی: ”اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں“ (سورۃ التوبہ: ۵)۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یعنی بتوں کو چھوڑ دیں اور ان کی عبادت سے دستبردار ہو جائیں، اور نماز قائم کریں، زکاۃ دیں (تو ان کا راستہ چھوڑ دو)۔ اور دوسری آیت میں یہ ہے: «فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فإخوانكم في الدين» یعنی: ”اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں، زکاۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں“ (سورۃ التوبہ: ۱۱) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 70]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک اللہ کے لیے خلوص رکھتے ہوئے اور کسی کو اس کا شریک نہ مان کر صرف اس کی عبادت کرتے ہوئے، نماز پڑھتے اور زکاۃ دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوا، اس کی موت اس حال میں آتی ہے کہ اللہ اس سے راضی ہوتا ہے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کا دین یہی ہے جسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اور جسے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے (بندوں کو) پہنچایا، بعد میں (سچی جھوٹی) باتیں خلط ملط ہوگئیں اور طرح طرح کی من مرضی کی باتیں سامنے آگئیں۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب کی ان آیات سے ہوتی ہے جو آخر میں نازل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِنْ تَابُوا﴾ [سورة التوبة: 5] ”پس وہ اگر توبہ کریں۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یعنی اوثان سے دست کش ہو جائیں اور ان کی عبادت ترک کر دیں۔ ﴿وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ﴾ [سورة التوبة: 5] ”اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔“ دوسری آیت میں فرمایا: ﴿فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ [سورة التوبة: 11] ”اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں تو وہ بھی تمہارے دینی بھائی ہیں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 70]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 832، ومصباح الزجاجة: 25) (ضعیف)» (سند میں ابو جعفر الرازی اور ربیع بن انس ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: پوری آیت اتنی ہی ہے جو اوپر گذری، اللہ تعالیٰ اس میں مشرکوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر وہ توبہ کے بعد نماز و زکاۃ ادا کریں تو تمہارے بھائی ہیں، اور خلاصہ حدیث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو توحید سکھانے کے لئے بھیجا ہے، اور دین کا دارومدار توحید و اخلاص پر ہے، اور نماز و زکاۃ ظاہری اعمال صالحہ میں سب سے اہم اور بنیادی رکن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
أبو جعفر الرازي ضعيف عن الربيع بن أنس وحسن الحديث عن غيره (انظر ضعيف سنن أبي داود: 1182)
والربيع ھذا حسن الحديث في غير رواية أبي جعفر الرازي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
ضعيف
أبو جعفر الرازي ضعيف عن الربيع بن أنس وحسن الحديث عن غيره (انظر ضعيف سنن أبي داود: 1182)
والربيع ھذا حسن الحديث في غير رواية أبي جعفر الرازي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
حدیث نمبر: 70M
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ
اس سند سے ربیع بن انس رحمہ اللہ سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 70M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 71
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 71]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کروں حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور میں (محمد) اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 71]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12259)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 1 (1399)، 40 (1457)، المرتدین 3 (6924)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، سنن ابی داود/الزکاة 1 (1556)، سنن الترمذی/الإیمان 1 (2606)، سنن النسائی/الزکاة 3 (2442)، المحاربة 1 (3983)، مسند احمد (2/528) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3927) (صحیح متواتر)» (اس کی سند حسن ہے، لیکن اصل حدیث متواتر ہے)
وضاحت: ۱؎: اس سے اسلام کے چار بنیادی ارکان معلوم ہوئے: ۱۔ توحید باری تعالیٰ، ۲۔ رسالت محمدیہ کا یقین و اقرار، ۳۔ اقامت نماز، ۴۔ زکاۃ کی ادائیگی، یہ یاد رہے کہ دوسری صحیح حدیث: «بني الإسلام على خمس» میں اسلام کے پانچویں رکن روزہ کا بھی ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
متواتر
متواتر
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں سے قتال (لڑنے) کا حکم دیا گیا ہے، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 72]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں (محمد) اللہ کا رسول ہوں، اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 72]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11340، ومصباح الزجاجة: 26)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/28، 5 245) (صحیح متواتر)» (اس کی سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد سے یہ حسن ہے، بلکہ اصل حدیث متواتر ہے، ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد: 1/ 24)
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
متواتر
متواتر
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا نِزَارُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ، أَهْلُ الْإِرْجَاءِ، وَأَهْلُ الْقَدَرِ".
ابن عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دو قسم کے لوگ ایسے ہوں گے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: ایک مرجئہ اور دوسرے قدریہ (منکرین قدر)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 73]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے دو جماعتیں ایسی ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں: «الْمُرْجِئَةُ» ”مرجئہ“ اور «الْقَدَرِيَّةُ» ”قدریہ“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 73]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2498، ومصباح الزجاجة: 27) (ضعیف)» (اس کی سند میں نزار بن حیان ضعیف راوی ہیں، اور عکرمہ سے ایسی روایت کرتے ہیں، جو ان کی نہیں ہو تی، اور عبدالرحمن محمدا للیثی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نزار: ضعيف (ترمذي: 2149)
وللحديث شواهد ضعيفة
وروي الطبراني في الأوسط (113/5ح4216) بسند صحيح عن حميد (الطويل) عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((صنفان من أمتي لا يردان الحوض ولا يدخلان الجنة: القدرية والمرجئة)) وھو حديث صحيح حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي اللّٰه عنه وثابت البناني ثقة
وروي الطبراني في الأوسط (5/ 113۔114 ح 4217) أيضًا بسند صحيح عن حميد عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((القدرية والمرجئة مجوس ھذه الأمة فإن مرضوا فلا تعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم)) وھو حديث صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
إسناده ضعيف
نزار: ضعيف (ترمذي: 2149)
وللحديث شواهد ضعيفة
وروي الطبراني في الأوسط (113/5ح4216) بسند صحيح عن حميد (الطويل) عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((صنفان من أمتي لا يردان الحوض ولا يدخلان الجنة: القدرية والمرجئة)) وھو حديث صحيح حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي اللّٰه عنه وثابت البناني ثقة
وروي الطبراني في الأوسط (5/ 113۔114 ح 4217) أيضًا بسند صحيح عن حميد عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((القدرية والمرجئة مجوس ھذه الأمة فإن مرضوا فلا تعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم)) وھو حديث صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ سَعِيدُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ".
ابوہریرہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ ایمان بڑھتا، اور گھٹتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 74]
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے فرمایا: ”ایمان میں اضافہ اور کمی ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 74]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6411، 14352) (ضعیف جدًا)» (سند میں عبد الوہاب بن مجاہد متروک الحدیث راوی ہے، لیکن سلف صالحین کے ایمان کی زیادتی اور نقصان پر بکثر ت اقوال ہیں، اور آیات کریمہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، نیز اس باب میں بعض مرفوع روایت مروی ہے، جو صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1123)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبدالوهاب بن مجاهد: متروك وقد كذبه الثوري (تقريب: 4263)
ومفھوم الأثر صحيح بإتفاق أھل السنة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
إسناده ضعيف جدًا
عبدالوهاب بن مجاهد: متروك وقد كذبه الثوري (تقريب: 4263)
ومفھوم الأثر صحيح بإتفاق أھل السنة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377