🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابُ: فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو مقرر کرتا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 137]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کو خلیفہ مقرر کرتا۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/المناقب 38 (3808، 3809)، (تحفة الأشراف: 10045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/76، 95، 107، 108) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حارث ضعیف اور متہم بالرفض ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2327)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3808،3809)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 138
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کی قراءت کے مطابق پڑھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 138]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خوشخبری دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو اس طرح تروتازہ پڑھنا چاہتا ہے جس طرح وہ نازل ہوا، اسے چاہیے کہ ابنِ اُمِّ عبد (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی قراءت کے مطابق پڑھے۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/7، 26، 38) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان کا طرز قراءت بھی معلوم ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اذن (گھر میں آنے کے لیے) یہی ہے کہ پردہ اٹھاؤ، اور تم میری رازدارانہ گفتگو بھی سن سکتے ہو، حتیٰ کہ میں منع کر دوں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 6 (2169)، (تحفة الأشراف: 9388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 394، 404) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں