🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : فضل عبد الله بن مسعود رضي الله عنه
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اذن (گھر میں آنے کے لیے) یہی ہے کہ پردہ اٹھاؤ، اور تم میری رازدارانہ گفتگو بھی سن سکتے ہو، حتیٰ کہ میں منع کر دوں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 6 (2169)، (تحفة الأشراف: 9388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 394، 404) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد النخعي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥إبراهيم بن سويد النخعي
Newإبراهيم بن سويد النخعي ← عبد الرحمن بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥الحسن بن عبيد الله النخعي، أبو عروة
Newالحسن بن عبيد الله النخعي ← إبراهيم بن سويد النخعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن إدريس الأودي، أبو محمد
Newعبد الله بن إدريس الأودي ← الحسن بن عبيد الله النخعي
ثقة حجة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← عبد الله بن إدريس الأودي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5666
إذنك علي أن يرفع الحجاب وأن تستمع سوادي حتى أنهاك
سنن ابن ماجه
139
إذنك علي أن ترفع الحجاب وأن تسمع سوادي حتى أنهاك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 139 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث139
اردو حاشہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔
کام کاج کے لیے اکثر حاضر ہونا پڑتا تھا، چنانچہ ان کے لیے اِستیذان کے حکم میں نرمی کر دی گئی۔
قرآن مجید میں غلاموں اور لونڈیوں کو بھی تین اوقات کے علاوہ باقی کسی بھی وقت آنے جانے کے لیے بار بار اجازت مانگنے سے معاف رکھا گیا ہے۔ (سورہ نور: 58)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 139]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5666
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تیرے لیے میری یہی اجازت ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تم میری سرگوشی سن لو، حتی کہ میں تمہیں روک دوں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5666]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
تستمع سوادي:
تم میری سرگوشی اور رازدارانہ گفتگو سن لو اور تمھیں میری موجودگی کا علم ہوجائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت یا نشانی مقرر کی جا سکتی ہے،
اسی علامت کے طور پر آپ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرمایا،
تیری آمد پر اگر پردہ اٹھا دیا جائے اور گھر میں میری موجودگی کا تمہیں یقین ہو جائے تو تم بلا روک ٹوک آ سکتے ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5666]

Sunan Ibn Majah Hadith 139 in Urdu