🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ طُولِ الْقِيَامِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ:
باب: رات کے قیام میں نماز کو لمبا کرنا (یعنی قرآت بہت کرنا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1135
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قُلْنَا: وَمَا هَمَمْتَ، قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ وَأَذَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے اعمش سے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا۔ ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1135]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تہجد پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر کھڑے رہے حتیٰ کہ میری نیت بگڑ گئی۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کے دل میں کیا برا خیال آیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بحالتِ قیام چھوڑ کر خود بیٹھ جاؤں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1136]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں