🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ
باب: ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی چڑھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 403]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطہارة 7 (140)، سنن الترمذی/الطہارة 28 (36)، سنن النسائی/الطہارة 85 (102)، سنن ابی داود/الطہارة 52 (137)، (تحفة الأشراف: 5978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/268، 365)، سنن الدارمی/الطہارة 29 (724) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 404
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ایک ہی چلو سے تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 404]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو ایک چلو سے تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10206، ومصباح الزجاجة: 169)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (111)، سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، سنن النسائی/الطہارة 74 (91)، 75 (92)، 76 (93)، 77 (94)، مسند احمد (1/122) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنَا وَضُوءًا؟ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ".
عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے وضو کے لیے پانی مانگا، ہم نے پانی حاضر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 405]
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور وضو کے لیے پانی طلب فرمایا، میں نے پانی حاضر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 38 (185)، 39 (186)، 41 (191)، 42 (192)، 45 (197)، 46 (199)، صحیح مسلم/الطہارة 7 (235)، سنن الترمذی/الطہارة 24 (32)، 36 (47)، سنن ابی داود/الطہارة 47 (100)، 50 (118)، سنن النسائی/الطہارة 80 (97)، 81 (98)، 82 (99)، (تحفة الأشراف: 5308)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 1 (1)، مسند احمد (4/38، 39، 40، 42)، سنن الدارمی/الطہارة 27 (721) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چلو سے کلی بھی کرتے تھے اور ناک میں پانی بھی چڑھاتے تھے، بعض روایتوں سے دونوں کے لئے الگ الگ پانی لینے کا ثبوت ملتا ہے، اس سلسلہ میں دونوں طرح کی روایات آتی ہیں، لیکن ایک چلو میں دونوں کو جمع کرنے کی روایات تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور صحیح بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں